Qaala hal aamanukum `alihi illaa kamaa amintukum `alaaa akheehimin qabl; fal laahu khairun haafizanw wa Huwa arhamur Raahimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
گفت: آيا او را به شما بسپارم، همچنان كه برادرش را پيش از اين به شما سپردم؟ خدا بهترين نگهدار است و اوست مهربانترين مهربانان.
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آمَنُکُمْ عَلَیْہِ: کیا میں تمہیں اس پر امین بناؤں؟ یعنی کیا میں اس کے بارے میں تم پر بھروسہ کروں؟
أَمِنتُکُمْ: میں نے تم پر بھروسہ کیا تھا۔
حَافِظًا: حفاظت کرنے والا۔
أَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ: سب سے زیادہ رحم کرنے والا۔
تفسیر:
حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے بیٹوں کی اس درخواست پر جو وہ بنیامین کو اپنے ساتھ لے جانے کے لیے کر رہے تھے، فرمایا: "کیا میں تم پر اس (بنیامین) کے بارے میں اسی طرح بھروسہ کروں جیسے پہلے اس کے بھائی (یوسف) کے بارے میں کیا تھا؟" یعنی تم نے اس وقت بھی مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ ہم یوسف کی حفاظت کریں گے، لیکن تم نے اپنا وعدہ پورا نہیں کیا اور اسے تنہا چھوڑ کر آگئے، پھر وہ تم سے بچھڑ گیا۔ اس لیے اب میں تمہارے اس وعدے پر بھروسہ نہیں کر سکتا کہ تم بنیامین کی حفاظت کرو گے۔
پھر آپ نے فرمایا: "اللہ بہترین حفاظت کرنے والا ہے اور وہی سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔" یعنی میرا بھروسہ تمہارے وعدوں پر نہیں، بلکہ اللہ کی حفاظت اور رحمت پر ہے۔ میں اللہ سے امید رکھتا ہوں کہ وہ اپنی رحمت سے بنیامین کی حفاظت فرمائے گا اور اسے میرے پاس واپس لائے گا۔
یہ الفاظ حضرت یعقوب علیہ السلام کے اس عظیم مقامِ توکل اور صبر کی عکاسی کرتے ہیں کہ انہوں نے مصائب کے باوجود اللہ ہی پر بھروسہ رکھا اور اس کی رحمت سے ہی امیدیں وابستہ کیں۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:
بھروسہ صرف اللہ پر: انسان کے وعدے اور ضمانتیں کبھی بھی مکمل طور پر قابلِ اعتماد نہیں ہوتیں، کیونکہ انسان کمزور ہے اور حالات بدل سکتے ہیں۔ لیکن اللہ کی حفاظت اور رحمت ہر حال میں قائم رہتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے معاملات میں اللہ پر بھروسہ کریں اور اسی سے مدد مانگیں۔
والدین کی شفقت: حضرت یعقوب علیہ السلام کا اپنے بیٹوں سے یہ اندازِ گفتگو والدین کی اولاد کے لیے محبت اور فکرمندی کا مظہر ہے۔ والدین اپنی اولاد کی بھلائی کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں، اور یہ فکر ان کی محبت کا ثبوت ہے۔
اللہ کی رحمت سے مایوسی نہیں: حضرت یعقوب علیہ السلام نے اتنے بڑے غم کے باوجود اللہ کی رحمت سے امید نہیں چھوڑی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ کسی بھی مشکل میں اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے۔
وعدہ پورا کرنا: اس آیت میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ وعدہ پورا کرنا بہت بڑی خوبی ہے، اور وعدہ خلافی اعتماد کو ختم کر دیتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے وعدوں کو پورا کریں تاکہ لوگوں کا اعتماد ہم پر قائم رہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں اپنی رحمت اور حفاظت میں رکھے اور ہمیں صبر اور توکل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
(اور یوسف نے) اپنے خدام سے کہا کہ ان کا سرمایہ (یعنی غلّے کی قیمت) ان کے شلیتوں میں رکھ دو عجب نہیں کہ جب یہ اپنے اہل وعیال میں جائیں تو اسے پہچان لیں (اور) عجب نہیں کہ پھر یہاں آئیں
جب وہ اپنے باپ کے پاس واپس گئے تو کہنے لگے کہ ابّا (جب تک ہم بنیامین کو ساتھ نہ لے جائیں) ہمارے لیے غلّے کی بندش کر دی گئی ہے تو ہمارے ساتھ ہمارے بھائی کو بھیج دے تاکہ ہم پھر غلّہ لائیں اور ہم اس کے نگہبان ہیں
(یعقوب نے) کہا کہ میں اس کے بارے میں تمہارا اعتبار نہیں کرتا مگر ویسا ہی جیسا اس کے بھائی کے بارے میں کیا تھا۔ سو خدا ہی بہتر نگہبان ہے۔ اور وہ سب سے زیادہ رحم کرنے والا ہے
اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا تو دیکھا کہ ان کا سرمایہ واپس کر دیا گیا ہے۔ کہنے لگے ابّا ہمیں (اور) کیا چاہیئے (دیکھیے) یہ ہماری پونجی بھی ہمیں واپس کر دی گئی ہے۔ اب ہم اپنے اہل وعیال کے لیے پھر غلّہ لائیں گے اور اپنے بھائی کی نگہبانی کریں گے اور ایک بار شتر زیادہ لائیں گے (کہ) یہ غلّہ جو ہم لائے ہیں تھوڑا ہے
(یعقوب نے) کہا جب تک تم خدا کا عہد نہ دو کہ اس کو میرے پاس (صحیح سالم) لے آؤ گے میں اسے ہرگز تمہارے ساتھ نہیں بھیجنے کا۔ مگر یہ کہ تم گھیر لیے جاؤ (یعنی بےبس ہوجاؤ تو مجبوری ہے) جب انہوں نے ان سے عہد کرلیا تو (یعقوب نے) کہا کہ جو قول وقرار ہم کر رہے ہیں اس کا خدا ضامن ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔