جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون بارهايشان را مهيا كرد، جام را در بار برادر نهاد. آنگاه منادى ندا داد: اى كاروانيان، شما دزدانيد.
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جَهَّزَهُم: انہیں سامانِ سفر مہیا کرنا، اونٹوں پر غلہ لادنا۔
السِّقَایَةَ: وہ پیالہ یا پیمانہ جس سے بادشاہ پانی پیتا تھا اور اناج ناپا جاتا تھا۔
رَحْلِ: اونٹ کی کجاوہ، سامانِ سفر۔
أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ: ایک پکارنے والے نے آواز دی۔
الْعِيرُ: قافلہ، اونٹوں والا کارواں۔
تفسیر:
جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کی میزبانی کی اور انہیں بھرپور غلہ دے کر ان کے اونٹوں پر لاد دیا، تو انہوں نے اپنے خاص انتظام کے تحت وہ پیمانہ (شاہی پیالہ) جس سے وہ اناج ناپتے تھے، اپنے حقیقی بھائی بنیامین کے سامانِ سفر میں چھپوا دیا۔ یہ تدبیر اس لیے کی گئی تھی کہ بنیامین کو اپنے پاس روک سکیں، کیونکہ وہ اپنے والد یعقوب علیہ السلام سے کیے گئے وعدے کے مطابق انہیں واپس لے جانے کے پابند تھے۔ جب قافلہ مصر سے روانہ ہو کر کچھ فاصلہ طے کر چکا تو ایک منادی نے بلند آواز سے پکارا: "اے قافلہ والو! تم یقیناً چور ہو۔" یہ اعلان اس لیے کیا گیا تاکہ انہیں روکا جا سکے اور بنیامین کو ان کے پاس سے الگ کیا جا سکے۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے نیک بندوں کے لیے تدبیریں بناتا ہے اور ان کے عزائم کو کامیاب کرتا ہے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی کے ساتھ محبت اور حکمت عملی سے پیش آئے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشکلات میں صبر اور تدبر سے کام لینا چاہیے۔ اس قصے میں ہمارے لیے عبرت ہے کہ اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی ہر مشکل سے نکلنے کا راستہ نکالتا ہے۔ نیز یہ سبق ملتا ہے کہ بہن بھائیوں اور رشتہ داروں کے درمیان محبت اور اتحاد کو برقرار رکھنا چاہیے، اور جو بندہ اللہ کی رضا کے لیے کام کرتا ہے، اللہ اس کے معاملات کو سنوار دیتا ہے۔ یہ قصہ قرآن کا ایک حسین ترین واقعہ ہے جو ہمیں یقین، صبر اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے۔
اور جب وہ ان ان مقامات سے داخل ہوئے جہاں جہاں سے (داخل ہونے کے لیے) باپ نے ان سے کہا تھا تو وہ تدبیر خدا کے حکم کو ذرا بھی نہیں ٹال سکتی تھی ہاں وہ یعقوب کے دل کی خواہش تھی جو انہوں نے پوری کی تھی۔ اور بےشک وہ صاحبِ علم تھے کیونکہ ہم نے ان کو علم سکھایا تھا لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے
اور جب وہ لوگ یوسف کے پاس پہنچے تو یوسف نے اپنے حقیقی بھائی کو اپنے پاس جگہ دی اور کہا کہ میں تمہارا بھائی ہوں تو جو سلوک یہ (ہمارے ساتھ) کرتے رہے ہیں اس پر افسوس نہ کرنا
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔