یوسف · 72/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ ۝٧٢
Qaaloo nafqidu suwaa`al maliki wa liman jaaa`a bihee himlu ba`eerinw wa ana bihee za`eem
📖 اردو ترجمہ
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • صُوَاعَ: وہ پیمانہ یا برتن جس سے بادشاہ اناج ناپتا تھا۔
  • حِمْلُ بَعِيرٍ: ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ
  • زَعِيمٌ: ضامن، کفیل، ذمہ دار۔

تفسیر:

جب حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی بنیامین کے لیے خفیہ تدبیر کی اور ان کے سامان میں وہ پیمانہ رکھوا دیا، تو جب قافلہ روانہ ہو چکا اور ان سے کچھ فاصلے پر پہنچا، تو ایک منادی نے بلند آواز سے پکارا: "اے قافلے والو! تم نے بادشاہ کا پیمانہ چرا لیا ہے!" اس پر انہوں نے کہا: "ہم بادشاہ کا وہ پیمانہ ڈھونڈ رہے ہیں جس سے وہ ناپتا ہے، اور جو شخص اسے لے آئے گا اسے ایک اونٹ کا بوجھ (غلہ) انعام دیا جائے گا۔" منادی نے خود کہا: "میں اس انعام کا ضامن ہوں۔"

یہ اعلان دراصل حضرت یوسف علیہ السلام کی حکمتِ عملی کا حصہ تھا تاکہ ان کے بھائی بنیامین کو بلا کسی شک و شبہ کے اپنے پاس روک سکیں۔ اس اعلان میں انہوں نے انعام کا وعدہ کیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں اس پیمانے کی اہمیت بڑھ جائے اور وہ اسے تلاش کرنے میں پوری دلچسپی لیں۔

دعوتی پہلو:

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ حکمت اور تدبیر سے معاملات کو حل کیا جا سکتا ہے، بغیر کسی جھگڑے یا تشدد کے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی کو اپنے پاس رکھنے کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جو نہ صرف انصاف پر مبنی تھا بلکہ دلوں میں محبت اور اعتماد کا باعث بھی بنا۔ ہمیں بھی اپنے معاملات میں حکمت، صبر اور تدبیر سے کام لینا چاہیے، اور اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا چاہیے کہ وہ ہر مشکل سے نکلنے کی راہ نکال دیتا ہے۔ قرآن کریم کے یہ واقعات ہمارے لیے مشعلِ راہ ہیں کہ ہم اپنی زندگی میں اخلاقی اقدار کو برقرار رکھتے ہوئے مشکلات کا سامنا کریں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 70-74 — یوسف

70فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ السِّقَايَةَ فِي رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا الْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَارِقُونَ
جب ان کا اسباب تیار کر دیا تو اپنے بھائی کے شلیتے میں گلاس رکھ دیا اور پھر (جب وہ آبادی سے باہر نکل گئے تو) ایک پکارنے والے نے آواز دی کہ قافلے والو تم تو چور ہو
71قَالُوا وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
72قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
73قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
74قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
72آیت

ترجمہ — یوسف 72

سورہ یوسف آیت 72 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا…

سورہ آیت 72/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 70–74. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں