یوسف · 73/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ ۝٧٣
Qaaloo tallaahi laqad `alimtum maa ji`na linufsida fil ardi wa maa kunnaa saariqeen
📖 اردو ترجمہ
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَاللّهِ: اللہ کی قسم!
  • لَقَدْ عَلِمْتُم: یقیناً تم جان چکے ہو۔
  • لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ: زمین میں فساد پھیلانے کے لیے۔
  • سَارِقِينَ: چوری کرنے والے۔

تفسیرِ آیہ:

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے جب اپنے بھائی بنیامین کے برتن میں شاہی پیمانہ پائے جانے پر پکڑے گئے، تو انہوں نے اپنی براءت اور پاک دامنی کا اظہار کرتے ہوئے کہا: "اللہ کی قسم! تم خود جانتے ہو کہ ہم اس سرزمین میں فساد پھیلانے کے لیے نہیں آئے۔" وہ اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ انہوں نے مصر میں جو کچھ بھی کیا، وہ نیکی اور بھلائی کے ساتھ کیا۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کبھی چوری نہیں کی تھی، اور نہ ہی ان کی فطرت میں یہ بری عادت تھی۔ وہ اپنی سچائی اور دیانت داری کی قسم کھا کر اپنے بھائی کی بے گناہی ثابت کرنا چاہ رہے تھے۔

یہ وہی بھائی تھے جنہوں نے ماضی میں حضرت یوسف علیہ السلام کے ساتھ ناروا سلوک کیا تھا، لیکن اب وہ اپنے بھائی بنیامین کی حفاظت کے لیے کھڑے ہیں اور اپنی پاک دامنی کی گواہی دے رہے ہیں۔ وہ جانتے تھے کہ مصر کے لوگوں نے انہیں دیکھا ہے کہ وہ امانت دار اور نیک لوگ ہیں، اس لیے انہوں نے اپنی سابقہ نیک سیرت کو ہی دلیل بنایا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت اہم سبق ملتا ہے کہ انسان کی سچائی اور دیانت داری اس کی سب سے بڑی پہچان ہوتی ہے۔ جب انسان اپنی زندگی میں سچائی اور امانت داری کو اپناتا ہے، تو مشکل وقت میں یہی خوبیاں اس کے کام آتی ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے بھی اپنی سابقہ نیک سیرت کو ہی اپنی براءت کا ذریعہ بنایا۔

یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ سچائی، دیانت داری اور نیکی پر قائم رہنا چاہیے، کیونکہ یہی وہ صفات ہیں جو اللہ کے نزدیک محبوب ہیں اور لوگوں کے دلوں میں بھی عزت پیدا کرتی ہیں۔ جب ہم اپنی زندگی کو قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالیں گے، تو اللہ ہمیں عزت دے گا اور مشکل وقت میں ہماری مدد فرمائے گا۔

یاد رکھیں! سچائی اور امانت داری وہ روشن راستہ ہے جو انسان کو دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں کو ان خوبیوں سے مزین کریں اور اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہوں۔



📜 آیت 71-75 — یوسف

71قَالُوا وَأَقْبَلُوا عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ
وہ ان کی طرف متوجہ ہو کر کہنے لگے تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ہے
72قَالُوا نَفْقِدُ صُوَاعَ الْمَلِكِ وَلِمَن جَاءَ بِهِ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا بِهِ زَعِيمٌ
وہ بولے کہ بادشاہ (کے پانی پینے) کا گلاس کھویا گیا ہے اور جو شخص اس کو لے آئے اس کے لیے ایک بار شتر (انعام) اور میں اس کا ضامن ہوں
73قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
74قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
75قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
73آیت

ترجمہ — یوسف 73

سورہ یوسف آیت 73 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم…

سورہ آیت 73/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 71–75. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں