ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- جزاؤه: اس کی سزا۔
- إن کنتم کاذبین: اگر تم جھوٹے ہو۔
تفسیر آیت:
جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہم نے شاہی پیمانہ چوری نہیں کیا، تو اُن کے منہ بولے بھائی (منادی اور اُس کے ساتھی) نے اُن سے کہا: ”اگر تم جھوٹے نکلے تو اس کی سزا کیا ہوگی؟“ یعنی اگر تمہاری یہ دعویٰ غلط ثابت ہو اور تمہارے پاس سے پیمانہ نکل آئے، تو اس چوری کی کیا سزا مقرر کرو گے؟ یہ سوال اُن کی صداقت جانچنے کے لیے تھا، تاکہ وہ خود اپنی زبان سے سزا کا فیصلہ کریں اور بعد میں اُس پر عمل کرنے پر مجبور ہوں۔
یہ سوال دراصل ایک حکمت بھرا طریقہ تھا، جس سے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو اس صورت حال میں ڈالا کہ وہ خود اپنے لیے سزا تجویز کریں۔ اس میں یہ سبق ہے کہ حق و انصاف کے معاملے میں انسان کو خود بھی اپنے فیصلوں پر قائم رہنا چاہیے اور دوسروں سے بھی سچائی کا عہد لینا چاہیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ سچائی اور ایمانداری کی بنیاد پر معاملات طے کرنے چاہئیں۔ جب انسان سچ بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی مدد فرماتا ہے، اور جھوٹ آخرکار رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ سچ بولنے کی عادت اپنائیں، کیونکہ سچائی نجات کا ذریعہ ہے اور جھوٹ تباہی کا پیش خیمہ۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ معاملات میں حکمت اور دانائی سے کام لینا چاہیے، تاکہ حق واضح ہو جائے اور انصاف کا قیام ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ سچے بندوں کو عزت دیتا ہے اور اُن کے معاملات میں برکت ڈالتا ہے۔
📜 آیت 72-76 — سورہ یوسف
ترجمہ — یوسف 74
سورہ یوسف آیت 74 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی)…سورہ آیت 74/111 — سورہ یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ یوسف سنیں, سورہ یوسف ترجمہ, سورہ یوسف mp3, سورہ یوسف pdf. آیت 72–76. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 7, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








