بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
جزاؤه: اس کی سزا۔
إن کنتم کاذبین: اگر تم جھوٹے ہو۔
تفسیر آیت:
جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے قسمیں کھا کر کہا کہ ہم نے شاہی پیمانہ چوری نہیں کیا، تو اُن کے منہ بولے بھائی (منادی اور اُس کے ساتھی) نے اُن سے کہا: ”اگر تم جھوٹے نکلے تو اس کی سزا کیا ہوگی؟“ یعنی اگر تمہاری یہ دعویٰ غلط ثابت ہو اور تمہارے پاس سے پیمانہ نکل آئے، تو اس چوری کی کیا سزا مقرر کرو گے؟ یہ سوال اُن کی صداقت جانچنے کے لیے تھا، تاکہ وہ خود اپنی زبان سے سزا کا فیصلہ کریں اور بعد میں اُس پر عمل کرنے پر مجبور ہوں۔
یہ سوال دراصل ایک حکمت بھرا طریقہ تھا، جس سے حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں کو اس صورت حال میں ڈالا کہ وہ خود اپنے لیے سزا تجویز کریں۔ اس میں یہ سبق ہے کہ حق و انصاف کے معاملے میں انسان کو خود بھی اپنے فیصلوں پر قائم رہنا چاہیے اور دوسروں سے بھی سچائی کا عہد لینا چاہیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ سچائی اور ایمانداری کی بنیاد پر معاملات طے کرنے چاہئیں۔ جب انسان سچ بولتا ہے تو اللہ تعالیٰ اُس کی مدد فرماتا ہے، اور جھوٹ آخرکار رسوائی کا سبب بنتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہمیشہ سچ بولنے کی عادت اپنائیں، کیونکہ سچائی نجات کا ذریعہ ہے اور جھوٹ تباہی کا پیش خیمہ۔ یہ واقعہ ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ معاملات میں حکمت اور دانائی سے کام لینا چاہیے، تاکہ حق واضح ہو جائے اور انصاف کا قیام ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ سچے بندوں کو عزت دیتا ہے اور اُن کے معاملات میں برکت ڈالتا ہے۔
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔