یوسف · 75/111
ترجمہ تلفظ — یوسف
قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ ۝٧٥
Qaaloo jazaaa`uhoo manw wujida fee rahlihee fahuwa jazaaa`uh; kazaalika najziz zaalimeen
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَحْلِهِ: اس کا سامان، اسباب، یا وہ جگہ جہاں سامان رکھا جاتا ہے۔
  • جَزَاؤُهُ: اس کی سزا۔
  • نَجْزِي: ہم سزا دیتے ہیں۔
  • الظَّالِمِينَ: ظلم کرنے والے، یعنی چوری کرنے والے۔

تفسیر:

جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے دیکھا کہ شاہی پیمانہ (صاع) ان کے سامان میں سے برآمد ہوا ہے، تو انہوں نے خود ہی اپنے دین اور شریعت کے مطابق فیصلہ سنایا۔ انہوں نے کہا: "اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں یہ چیز پائی جائے، وہ خود ہی اس کی سزا ہے۔" یعنی چور کو اس شخص کے حوالے کر دیا جائے گا جس کا مال چوری ہوا ہے، تاکہ وہ اسے غلام بنا لے۔ یہ ان کے نزدیک چوری کی سزا تھی، اور انہوں نے یہ بھی کہا: "اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔" یعنی ہمارے معاشرے اور ہمارے دین میں چوری کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا جاتا ہے۔

یہ فیصلہ خود بھائیوں کی زبان سے نکلا، حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے، اور یہی وہ ذریعہ بنے گا جس سے حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھ سکیں گے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت غالب ہے، اور وہ اپنے نیک بندوں کی مدد کے لیے ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جن کا اندازہ کسی کو نہیں ہوتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس موقع پر کوئی جھوٹ نہیں بولا، نہ کسی پر الزام لگایا، بلکہ اللہ کی تدبیر پر بھروسہ کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ پر توکل کریں، کیونکہ وہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ نیز یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ چوری جیسی بری عادت سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ ظلم ہے، اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ جو شخص اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے، اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو خود ہی اس کے سامنے جھکا دیتا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 73-77 — یوسف

73قَالُوا تَاللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِي الْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَارِقِينَ
وہ کہنے لگے کہ خدا کی قسم تم کو معلوم ہے کہ ہم (اس) ملک میں اس لیے نہیں آئے کہ خرابی کریں اور نہ ہم چوری کیا کرتے ہیں
74قَالُوا فَمَا جَزَاؤُهُ إِن كُنتُمْ كَاذِبِينَ
بولے کہ اگر تم جھوٹے نکلے (یعنی چوری ثابت ہوئی) تو اس کی سزا کیا
75قَالُوا جَزَاؤُهُ مَن وُجِدَ فِي رَحْلِهِ فَهُوَ جَزَاؤُهُ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِي الظَّالِمِينَ
انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
76فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَاءِ أَخِيهِ ثُمَّ اسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَاءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِي دِينِ الْمَلِكِ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَّن نَّشَاءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِي عِلْمٍ عَلِيمٌ
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
77۞ قَالُوا إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِي نَفْسِهِ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
یوسفقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
75آیت

ترجمہ — یوسف 75

سورہ یوسف آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ…

سورہ آیت 75/111 — یوسف يوسف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: یوسف سنیں, یوسف ترجمہ, یوسف mp3, یوسف pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں