انہوں نے کہا کہ اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے شلیتے میں وہ دستیاب ہو وہی اس کا بدل قرار دیا جائے ہم ظالموں کو یہی سزا دیا کرتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
رَحْلِهِ: اس کا سامان، اسباب، یا وہ جگہ جہاں سامان رکھا جاتا ہے۔
جَزَاؤُهُ: اس کی سزا۔
نَجْزِي: ہم سزا دیتے ہیں۔
الظَّالِمِينَ: ظلم کرنے والے، یعنی چوری کرنے والے۔
تفسیر:
جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے دیکھا کہ شاہی پیمانہ (صاع) ان کے سامان میں سے برآمد ہوا ہے، تو انہوں نے خود ہی اپنے دین اور شریعت کے مطابق فیصلہ سنایا۔ انہوں نے کہا: "اس کی سزا یہ ہے کہ جس کے سامان میں یہ چیز پائی جائے، وہ خود ہی اس کی سزا ہے۔" یعنی چور کو اس شخص کے حوالے کر دیا جائے گا جس کا مال چوری ہوا ہے، تاکہ وہ اسے غلام بنا لے۔ یہ ان کے نزدیک چوری کی سزا تھی، اور انہوں نے یہ بھی کہا: "اسی طرح ہم ظالموں کو سزا دیتے ہیں۔" یعنی ہمارے معاشرے اور ہمارے دین میں چوری کرنے والوں کے ساتھ یہی معاملہ کیا جاتا ہے۔
یہ فیصلہ خود بھائیوں کی زبان سے نکلا، حالانکہ وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب کچھ اللہ کے حکم سے ہو رہا ہے، اور یہی وہ ذریعہ بنے گا جس سے حضرت یوسف علیہ السلام اپنے بھائی بنیامین کو اپنے پاس رکھ سکیں گے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مشیت غالب ہے، اور وہ اپنے نیک بندوں کی مدد کے لیے ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جن کا اندازہ کسی کو نہیں ہوتا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اس موقع پر کوئی جھوٹ نہیں بولا، نہ کسی پر الزام لگایا، بلکہ اللہ کی تدبیر پر بھروسہ کیا۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہر معاملے میں اللہ پر توکل کریں، کیونکہ وہی سب کچھ کرنے پر قادر ہے۔ نیز یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ چوری جیسی بری عادت سے بچنا چاہیے، کیونکہ یہ ظلم ہے، اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیتا۔ جو شخص اللہ کے حکموں پر عمل کرتا ہے، اللہ اس کی حفاظت کرتا ہے اور اس کے دشمنوں کو خود ہی اس کے سامنے جھکا دیتا ہے۔
پھر یوسف نے اپنے بھائی کے شلیتے سے پہلے ان کے شلیتوں کو دیکھنا شروع کیا پھر اپنے بھائی کے شلیتے میں سے اس کو نکال لیا۔ اس طرح ہم نے یوسف کے لیے تدبیر کی (ورنہ) بادشاہ کے قانون کے مطابق وہ مشیتِ خدا کے سوا اپنے بھائی کو لے نہیں سکتے تھے۔ ہم جس کے لیے چاہتے ہیں درجے بلند کرتے ہیں۔ اور ہر علم والے سے دوسرا علم والا بڑھ کر ہے
(برادران یوسف نے) کہا کہ اگر اس نے چوری کی ہو تو (کچھ عجب نہیں کہ) اس کے ایک بھائی نے بھی پہلے چوری کی تھی یوسف نے اس بات کو اپنے دل میں مخفی رکھا اور ان پر ظاہر نہ ہونے دیا (اور) کہا کہ تم بڑے بدقماش ہو۔ اور جو تم بیان کرتے ہو خدا اسے خوب جانتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔