ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- نُنَزِّلُ: ہم اتارتے ہیں۔
- بِالْحَقِّ: حق کے ساتھ، یعنی حکمت اور مصلحت کے مطابق۔
- مُنظَرِین: مہلت دیے گئے، ڈھیل والے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کافروں کا جواب دیا ہے جو مطالبہ کر رہے تھے کہ ان پر فرشتے کیوں نہیں اتارے جاتے؟ وہ سمجھتے تھے کہ فرشتوں کے آنے سے وہ ایمان لے آئیں گے، حالانکہ ان کا مقصد ایمان لانا نہیں بلکہ اللہ کے رسول کو جھٹلانا اور مذاق اڑانا تھا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم فرشتوں کو صرف حق کے ساتھ اتارتے ہیں، یعنی جب حکمت اور مصلحت کا تقاضا ہو، جیسے عذاب کے وقت یا وحی لانے کے لیے۔ فرشتوں کا نزول ان کی ضد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے نہیں ہوتا۔ اگر وہ فرشتوں کو دیکھ لیں تو پھر انہیں کوئی مہلت نہیں دی جائے گی، بلکہ عذاب ان پر فوراً نازل ہو جائے گا۔ یہ اللہ کا قانون ہے کہ جب عذاب کا وقت آ جاتا ہے تو ایمان لانا کسی کے کام نہیں آتا، جیسا کہ فرعون نے جب عذاب دیکھا تو ایمان لایا، لیکن اس کا ایمان قبول نہیں ہوا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت اور مہلت اس کی حکمت پر مبنی ہے۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈھیل دیتا ہے تاکہ وہ توبہ کریں اور راہِ راست پر آ جائیں، لیکن جب وہ حد سے تجاوز کر جائیں تو پھر عذاب آتا ہے اور کوئی مہلت نہیں ملتی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، لیکن ساتھ ہی اس کی پکڑ سے بے خوف بھی نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآن اور سنت کے ذریعے ہدایت دی ہے، اور ہر شخص کو موقع دیا ہے کہ وہ اپنی زندگی سنوار لے۔ آج بھی جو لوگ حق کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور نشانیاں مانگتے ہیں، وہ دراصل اپنے لیے عذاب کا سامان کر رہے ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی نشانیوں پر غور کریں، قرآن پر عمل کریں اور اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں، تاکہ ہم اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں اور اس کے عذاب سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 6-10 — حجر
ترجمہ — حجر 8
سورہ حجر آیت 8 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (کہہ دو) ہم فرشتوں کو نازل نہیں کیا کرتے مگر…سورہ آیت 8/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 6–10. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








