ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- لَوْ مَا: ہَلَّا، کیوں نہیں۔
- تَأْتِینَا بِالْمَلَائِكَةِ: ہمارے پاس فرشتوں کو لے کر آتے۔
- إِن كُنتَ مِنَ الصَّادِقِينَ: اگر تم سچے لوگوں میں سے ہو۔
تفسیر:
یہ آیت کفارِ مکہ کے اُس رویے کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کی دعوتِ حق کے جواب میں اپنایا۔ وہ مذاق اور استہزاء کے انداز میں کہتے تھے: "اے وہ شخص جس پر قرآن اتارا گیا ہے! اگر تم واقعی سچے ہو اور اپنے دعوائے نبوت میں صادق ہو، تو ہمارے پاس فرشتے کیوں نہیں لاتے؟ وہ فرشتے جو تمہاری رسالت کی گواہی دیں اور ہمیں بتائیں کہ اللہ نے تمہیں واقعی بھیجا ہے، یا وہ فرشتے جو ہم پر عذاب لے کر آئیں جیسا تم ڈراتے ہو۔"
یہ دراصل ان کی ضد، ہٹ دھرمی اور حق سے بھاگنے کی انتہا تھی۔ وہ نشانیاں اور معجزات اس لیے نہیں مانگ رہے تھے کہ وہ ہدایت حاصل کرنا چاہتے ہیں، بلکہ ان کا مقصد صرف بہانے بنانا اور نبی ﷺ کو شرمندہ کرنا تھا۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ نے انہیں قرآن جیسا عظیم معجزہ دے رکھا تھا، جو عقل و فہم رکھنے والوں کے لیے سب سے بڑی دلیل ہے، پھر بھی وہ اپنی ضد پر اڑے رہے۔
اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب خود دیا کہ ہم فرشتوں کو صرف حق کے ساتھ اتارتے ہیں، اور اگر وہ فرشتے بھی آ جائیں، تب بھی یہ منکرین ایمان نہ لائیں گے، کیونکہ ان کا مسئلہ دلیل کا نہیں، بلکہ دل کی سختی اور تکبر کا ہے۔ یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حق کی دعوت دیتے وقت ہمیں اپنا کام صرف پہنچانا ہے، لوگوں کی ضد اور بہانے ہمیں مایوس نہ کریں۔ ہمارے نبی ﷺ نے اس انداز میں صبر و استقامت کا مظاہرہ کیا کہ آج پوری دنیا ان کی سچائی کی گواہ ہے، اور وہی لوگ جو فرشتے مانگ رہے تھے، بعد میں اسلام کی روشنی سے منور ہوئے۔
یہ آیت ہر مسلمان کے لیے ایک سبق ہے کہ جب ہم حق پر ہوں تو مخالفین کے بہانے ہمیں متزلزل نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد خود کرتا ہے، اور سچائی ہمیشہ غالب رہتی ہے، چاہے مخالفین کتنے ہی بہانے کیوں نہ بنا لیں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ وہی سب سے بہتر مددگار ہے۔
📜 آیت 5-9 — حجر
ترجمہ — حجر 7
سورہ آیت 7/99 — حجر الحجر (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: حجر سنیں, حجر ترجمہ, حجر mp3, حجر pdf. آیت 5–9. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








