اسراء · 1/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۝١
Subhaanal lazeee asraa bi`abdihee lailam minal Masjidil Haraami ilal Masjidil Aqsal-lazee baaraknaa haw lahoo linuriyahoo min aayaatinaa;innahoo Huwas Samee`ul-Baseer
📖 اردو ترجمہ
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • سُبْحَانَ: اللہ کی پاکی بیان کرنا، ہر عیب اور نقص سے اس کی برتری۔
  • أَسْرَىٰ: رات کے وقت سفر کرانا۔
  • بِعَبْدِهِ: اپنے بندے (حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کو۔
  • الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ: خانہ کعبہ کے گرد والی مسجد (مکہ مکرمہ
  • الْمَسْجِدِ الْأَقْصَىٰ: بیت المقدس کی مسجد (یروشلم
  • بَارَكْنَا حَوْلَهُ: اس کے گرد و نواح میں برکتیں رکھیں۔
  • آيَاتِنَا: ہماری نشانیاں اور قدرت کے کرشمے۔
  • السَّمِيعُ: سب کچھ سننے والا۔
  • الْبَصِيرُ: سب کچھ دیکھنے والا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنی ذات کو پاک اور منزہ قرار دیتے ہوئے اپنی عظمت کا اعلان فرماتا ہے کہ وہ ہر اس کام پر قادر ہے جو اس کے سوا کسی سے نہیں ہو سکتا۔ وہی ذات ہے جس نے اپنے بندے اور محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو رات کے ایک حصے میں جسم اور روح کے ساتھ، بیداری کی حالت میں (نہ کہ خواب میں)، مسجد حرام (مکہ مکرمہ) سے مسجد اقصیٰ (بیت المقدس) تک کا سفر کرایا۔ یہ فاصلہ عام حالات میں ایک ماہ کا تھا، مگر اللہ کی قدرت نے اسے رات کے ایک حصے میں طے کرا دیا۔ مسجد اقصیٰ کے گرد و نواح کو اللہ نے برکتوں سے بھر دیا تھا — زمین کی زرخیزی، پھلوں اور فصلوں کی کثرت، اور سب سے بڑھ کر وہاں انبیاء علیہم السلام کا مسکن ہونا۔ یہ سفر اس لیے کروایا گیا تاکہ اللہ اپنے محبوب بندے کو اپنی قدرت کے عجائبات اور توحید کی نشانیاں دکھائے، اور وہ اپنی آنکھوں سے اللہ کی بے پایاں قدرت کے نمونے مشاہدہ کریں۔ بے شک اللہ ہی ہے جو ہر آواز کو سننے والا ہے اور ہر چیز کو دیکھنے والا ہے، چنانچہ وہ ہر شخص کو اس کے اعمال کے مطابق دنیا اور آخرت میں جزا دے گا۔

دعوتی انداز:

یہ آیت مبارکہ ہمیں اللہ کی عظیم قدرت پر ایمان لانے کی دعوت دیتی ہے۔ جب اللہ اپنے بندے کو راتوں رات اتنا دور کا سفر کرا سکتا ہے، تو کیا وہ ہماری مشکلات کو حل کرنے پر قادر نہیں؟ یہ واقعہ ہمارے لیے امید کا پیغام ہے کہ اللہ جب چاہتا ہے، ناممکن کو ممکن بنا دیتا ہے۔ اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ کی قدرت پر بھروسہ رکھیں، اور اپنے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو اپنائیں۔ یہ معراج کا واقعہ ہمارے ایمان کی آزمائش بھی ہے اور اللہ کی قدرت کا مظہر بھی — جو لوگ اس پر ایمان لائے، وہ کامیاب ہوئے، اور جو منکر ہوئے، وہ خسارے میں رہے۔ آئیے ہم اس واقعہ سے سبق حاصل کریں اور اپنے دلوں میں اللہ کی محبت اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعظیم کو بڑھائیں۔



📜 آیت 1-3 — اسراء

1سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
2وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِن دُونِي وَكِيلًا
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا
3ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا
اے اُن لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا۔ بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
1آیت

ترجمہ — اسراء 1

سورہ اسراء آیت 1 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو…

سورہ آیت 1/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 1–3. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں