اسراء · 2/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِن دُونِي وَكِيلًا ۝٢
Wa aatainaa Moosal-Kitaaba wa ja`alnaahu hudal-liBaneee Israaa`eel
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَآتَيْنَا: ہم نے عطا کیا۔
  • الْكِتَابَ: یہاں سے مراد تورات ہے۔
  • هُدًى: ہدایت، راہنمائی کا ذریعہ۔
  • وَكِيلًا: وہ ذات جس پر بھروسہ کیا جائے، جس کے سپرد امور کیے جائیں، کارساز، مددگار۔

تفسیر آیات:

اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ جس طرح ہم نے اپنے محبوب رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو معراج اور اسراء جیسی عظیم سعادت سے نوازا، اسی طرح ہم نے اپنے برگزیدہ نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام کو بھی خصوصی فضل سے نوازا اور انہیں کتابِ تورات عطا فرمائی۔ یہ کتاب بنی اسرائیل کے لیے ذریعۂ ہدایت تھی، تاکہ وہ حق و باطل میں فرق کریں اور سیدھے راستے پر چلیں۔ اس کتاب میں بنی اسرائیل کو واضح حکم دیا گیا تھا کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا کارساز، مددگار اور معبود نہ بنائیں، نہ اپنے معاملات کسی اور کے سپرد کریں، بلکہ اپنے تمام امور میں صرف اللہ پر بھروسہ کریں اور اسی کی عبادت کریں۔

یہاں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس بات سے منع فرمایا کہ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو اپنا وکیل اور کارساز بنائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے تمام معاملات میں اللہ پر توکل کرے، اسی سے مدد مانگے، اسی سے ڈرے اور اسی سے امید رکھے۔ کسی مخلوق کو ایسی حیثیت دینا جو صرف اللہ کی ذات کے لیے مخصوص ہے، شرک ہے اور اللہ تعالیٰ اس سے سختی سے منع فرماتے ہیں۔

یہ آیت ہمیں ایک اہم سبق سکھاتی ہے کہ ہماری زندگی کا مرکز و محور صرف اللہ ہونا چاہیے۔ ہم جب بھی کسی مشکل میں پڑیں، جب بھی کوئی حاجت ہو، تو سب سے پہلے اللہ کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی حاجت روائی کرنے والا ہے۔ اسی طرح ہمیں اپنے معاملات میں کسی انسان، طاقت یا دولت پر مکمل بھروسہ نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اللہ پر توکل کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ حکم دے کر ہمیں بھی یہی تعلیم دی ہے کہ ہم اپنے دین و دنیا کے تمام معاملات میں اللہ کو اپنا وکیل بنائیں، اسی کی اطاعت کریں اور اسی کے احکام پر چلیں۔

یہ وہی پیغام ہے جو تمام انبیاء علیہم السلام لے کر آئے، اور یہی اسلام کا بنیادی عقیدہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، اور اسی پر بھروسہ کرنا ہی کامیابی کی کنجی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 1-4 — اسراء

1سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ
وہ (ذات) پاک ہے جو ایک رات اپنے بندے کو مسجدالحرام یعنی (خانہٴ کعبہ) سے مسجد اقصیٰ (یعنی بیت المقدس) تک جس کے گردا گرد ہم نے برکتیں رکھی ہیں لے گیا تاکہ ہم اسے اپنی (قدرت کی) نشانیاں دکھائیں۔ بےشک وہ سننے والا (اور) دیکھنے والا ہے
2وَآتَيْنَا مُوسَى الْكِتَابَ وَجَعَلْنَاهُ هُدًى لِّبَنِي إِسْرَائِيلَ أَلَّا تَتَّخِذُوا مِن دُونِي وَكِيلًا
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی تھی اور اس کو بنی اسرائیل کے لئے رہنما مقرر کیا تھا کہ میرے سوا کسی کو کارساز نہ ٹھہرانا
3ذُرِّيَّةَ مَنْ حَمَلْنَا مَعَ نُوحٍ ۚ إِنَّهُ كَانَ عَبْدًا شَكُورًا
اے اُن لوگوں کی اولاد جن کو ہم نے نوح کے ساتھ (کشتی میں) سوار کیا تھا۔ بےشک نوح (ہمارے) شکرگزار بندے تھے
4وَقَضَيْنَا إِلَىٰ بَنِي إِسْرَائِيلَ فِي الْكِتَابِ لَتُفْسِدُنَّ فِي الْأَرْضِ مَرَّتَيْنِ وَلَتَعْلُنَّ عُلُوًّا كَبِيرًا
اور ہم نے کتاب میں بنی اسرائیل سے کہہ دیا تھا کہ زمین میں دو دفعہ فساد مچاؤ گے اور بڑی سرکشی کرو گے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
2آیت

ترجمہ — اسراء 2

سورہ آیت 2/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 1–4. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں