اسراء · 83/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا ۝٨٣
Wa izaaa an`amnaa `alal insaani a`rada wa na-aa bijaani bihee wa izaa massahush sharru kaana ya`oosaa
📖 اردو ترجمہ
اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَعْرَضَ: منہ پھیر لیا، رُوگردانی کی۔
  • وَنَأَى بِجَانِبِهِ: اپنے پہلو کو جھٹک کر الگ ہو گیا، تکبر اور بے نیازی سے کنارہ کش ہو گیا۔
  • مَسَّهُ الشَّرُّ: اسے کوئی تکلیف، مصیبت، فقر یا بیماری چھو لے۔
  • يَئُوسًا: مایوس، ناامید، رحمتِ الٰہی سے قنوطیت کا شکار۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے حالات کا بیان فرماتا ہے کہ انسان جب خوشحالی اور آسودگی کی حالت میں ہوتا ہے، جب اسے مال، صحت، اولاد اور دیگر نعمتیں عطا کی جاتی ہیں، تو وہ اپنے رب سے منہ موڑ لیتا ہے۔ وہ شکرگزاری سے کنارہ کش ہو جاتا ہے، تکبر اور بے نیازی کا رویہ اپناتا ہے، گویا اسے اپنے رب کی کوئی حاجت ہی نہیں۔ وہ اپنے پہلو کو جھٹک کر الگ ہو جاتا ہے، جیسے وہ خود مختار اور اپنے معاملات کا مالک ہو۔ وہ دعا اور تضرع کو بھول جاتا ہے، اور اپنی طاقت اور تدبیر پر بھروسہ کرنے لگتا ہے۔

لیکن جب اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے — چاہے وہ فقر ہو، بیماری ہو، یا کوئی اور مصیبت — تو وہ اللہ کی رحمت سے شدید مایوس اور ناامید ہو جاتا ہے۔ اس کا دل قنوطیت کا شکار ہو جاتا ہے، اور وہ اللہ کے فضل و کرم سے مایوس ہو کر بیٹھ جاتا ہے۔ وہ نہ صبر کرتا ہے نہ امید رکھتا ہے، کیونکہ اس کی نظر صرف اپنے ظاہری حالات پر ہوتی ہے، اللہ کی قدرت اور رحمت پر نہیں۔

یہ انسان کی فطرت کا بیان ہے، مگر جو لوگ اللہ کی توفیق سے محفوظ ہیں، وہ خوشحالی میں شکر گزار اور مصیبت میں صابر و شاکر رہتے ہیں۔ وہ نعمت کو اللہ کا فضل جانتے ہیں اور مصیبت کو اللہ کی طرف سے آزمائش سمجھ کر صبر کرتے ہیں، اور اللہ کی رحمت سے کبھی مایوس نہیں ہوتے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کی کمزوری اور ناشکری کی طرف اشارہ کیا ہے تاکہ ہم اپنے حالات کا جائزہ لیں۔ کیا ہم نعمت ملنے پر اللہ کو بھول جاتے ہیں؟ کیا ہم مصیبت میں مایوس ہو جاتے ہیں؟ یہ دونوں رویے ایمان کے خلاف ہیں۔ مومن کا طرزِ عمل یہ ہے کہ وہ خوشحالی میں شکر ادا کرے اور مصیبت میں صبر کرے، اور ہر حال میں اللہ کی رحمت سے امید رکھے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، بے شک اللہ کی رحمت سے صرف کافر ہی مایوس ہوتے ہیں" (یوسف: 87)۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہر حالت میں اللہ سے جڑے رہیں، نعمت پر شکر کریں اور مصیبت میں صبر و امید کا دامن نہ چھوڑیں۔ یہی ایمان کی پختگی اور اللہ سے محبت کی نشانی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 81-85 — اسراء

81وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل نابود ہونے والا ہے
82وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا
اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے
83وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا
اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے
84قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا
کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے
85وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الرُّوحِ ۖ قُلِ الرُّوحُ مِنْ أَمْرِ رَبِّي وَمَا أُوتِيتُم مِّنَ الْعِلْمِ إِلَّا قَلِيلًا
اور تم سے روح کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہہ دو کہ وہ میرے پروردگار کی ایک شان ہے اور تم لوگوں کو (بہت ہی) کم علم دیا گیا ہے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
83آیت

ترجمہ — اسراء 83

سورہ اسراء آیت 83 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں…

سورہ آیت 83/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 81–85. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں