اسراء · 82/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا ۝٨٢
Wa nunazzilu minal quraani maa huwa shifaaa`unw wa rahmatul lilmu;mineena wa laa yazeeduz zaalimeena illaa khasaaraa
📖 اردو ترجمہ
اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • شِفَاءٌ: شفا، علاج، بیماریوں سے نجات۔
  • رَحْمَةٌ: رحمت، مہربانی، بخشش کا سبب۔
  • الظَّالِمِينَ: ظلم کرنے والے، کافر اور مشرکین۔
  • خَسَارًا: نقصان، گھاٹا، تباہی۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے فضل و کرم کا ذکر فرما رہے ہیں کہ ہم قرآنِ کریم نازل کرتے ہیں، اور یہ قرآن اپنی برکتوں میں بے مثال ہے۔ یہ کتابِ ہدایت دلوں کے لیے شفا ہے—یعنی یہ شک، نفاق، جہالت اور گمراہی جیسی روحانی بیماریوں کو دور کرتی ہے۔ جب کوئی مومن اسے پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اس کا دل سکون پاتا ہے، ایمان میں مضبوطی آتی ہے، اور اس کی روح کو ایسی طاقت ملتی ہے جو اسے ہر مشکل میں صبر و یقین عطا کرتی ہے۔ نیز یہ جسمانی بیماریوں کے لیے بھی برکت کا ذریعہ ہے، کیونکہ اس کی آیات سے رقیہ (دم) کیا جاتا ہے، جو اللہ کے حکم سے شفا کا سبب بنتا ہے۔

یہ قرآن مومنوں کے لیے رحمت ہے، کیونکہ یہ انہیں جنت کی راہ دکھاتا ہے، گناہوں سے بچاتا ہے، اور ان کے دلوں میں اللہ کی محبت اور خشیت پیدا کرتا ہے۔ جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں اور اس کے احکام پر عمل کرتے ہیں، ان کے لیے یہ دنیا اور آخرت میں کامیابی کا ذریعہ بنتا ہے۔

لیکن جو لوگ ظلم کرتے ہیں—یعنی کفر اور شرک پر قائم رہتے ہیں—ان کے لیے یہ قرآن ہدایت کا باعث نہیں بنتا، بلکہ ان کا نقصان بڑھ جاتا ہے۔ جب وہ اسے سنتے ہیں تو ان کا کفر اور ضد بڑھتی ہے، وہ اسے جھٹلاتے ہیں اور اس سے منہ موڑ لیتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کا انجام اور زیادہ تباہ کن ہو جاتا ہے۔ یہ ان کے لیے خسارے کا سبب ہے، کیونکہ وہ اس عظیم نعمت سے محروم رہتے ہیں جو اللہ نے اپنے بندوں پر نازل کی ہے۔

دعوتی پہلو:

پیارے مسلمانو! یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ قرآن ہمارے لیے کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہ ہمارے دلوں کی بیماریوں کا علاج ہے، ہماری زندگیوں کی رہنما ہے، اور ہمارے لیے رحمت کا ذریعہ ہے۔ اگر ہم اسے سچے دل سے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تو یہ ہمیں ہر پریشانی سے نجات دلا سکتا ہے۔ لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ اس سے غافل ہیں، اور اس کی برکتوں سے محروم رہتے ہیں۔ آئیے ہم قرآن کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں، اسے روزانہ پڑھیں، اس کے معانی سمجھیں، اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں۔ یہی ہماری کامیابی اور سعادت کا راستہ ہے۔ اللہ ہمیں قرآن کی حقیقی سمجھ اور عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 80-84 — اسراء

80وَقُل رَّبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَل لِّي مِن لَّدُنكَ سُلْطَانًا نَّصِيرًا
اور کہو کہ اے پروردگار مجھے (مدینے میں) اچھی طرح داخل کیجیو اور (مکے سے) اچھی طرح نکالیو۔ اور اپنے ہاں سے زور وقوت کو میرا مددگار بنائیو
81وَقُلْ جَاءَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ ۚ إِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا
اور کہہ دو کہ حق آگیا اور باطل نابود ہوگیا۔ بےشک باطل نابود ہونے والا ہے
82وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا
اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو مومنوں کے لئے شفا اور رحمت ہے اور ظالموں کے حق میں تو اس سے نقصان ہی بڑھتا ہے
83وَإِذَا أَنْعَمْنَا عَلَى الْإِنسَانِ أَعْرَضَ وَنَأَىٰ بِجَانِبِهِ ۖ وَإِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ كَانَ يَئُوسًا
اور جب ہم انسان کو نعمت بخشتے ہیں تو ردگرداں ہوجاتا اور پہلو پھیر لیتا ہے۔ اور جب اسے سختی پہنچتی ہے تو ناامید ہوجاتا ہے
84قُلْ كُلٌّ يَعْمَلُ عَلَىٰ شَاكِلَتِهِ فَرَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَنْ هُوَ أَهْدَىٰ سَبِيلًا
کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
82آیت

ترجمہ — اسراء 82

سورہ اسراء آیت 82 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور ہم قرآن (کے ذریعے) سے وہ چیز نازل کرتے…

سورہ آیت 82/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 80–84. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں