کہہ دو کہ ہر شخص اپنے طریق کے مطابق عمل کرتا ہے۔ سو تمہارا پروردگار اس شخص سے خوب واقف ہے جو سب سے زیادہ سیدھے رستے پر ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
شاکِلَتَہ: طریقہ، روش، طبیعت اور مزاج۔
اہدیٰ سبیلاً: راہِ راست پر زیادہ چلنے والا، سب سے صاف اور واضح راستہ۔
تفسیر:
اے نبی! آپ لوگوں سے فرما دیجیے کہ ہر شخص اپنی اپنی فطرت، طبیعت اور اپنے مزاج کے مطابق عمل کرتا ہے۔ کوئی شخص نیکی اور ہدایت کی راہ پر چلتا ہے تو کوئی گمراہی اور ضلالت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ہر انسان کے اعمال اس کے باطنی رجحان اور اس کی اپنی روش کا آئینہ ہوتے ہیں۔
پھر فرمایا کہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ کون سیدھی راہ پر چلنے والا ہے اور کون گمراہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے دل کی حالت، اس کے ارادے اور اس کے انجام سے خوب واقف ہے۔ وہی قیامت کے دن فیصلہ کرے گا کہ کس کا راستہ صحیح تھا اور کس کا غلط۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ ہر انسان اپنے اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی فطرت کو سنواریں، اپنے مزاج کو قرآن و سنت کے مطابق ڈھالیں اور نیکی کی راہ اختیار کریں۔ یاد رکھیں! اللہ تعالیٰ ہمارے تمام اعمال سے باخبر ہے اور وہی ہمیں جزا دے گا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کو اللہ کی مرضی کے مطابق گزاریں تاکہ ہم قیامت کے دن کامیاب ہوں۔ یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنی اصلاح پر توجہ دینی چاہیے، کیونکہ ہر شخص اپنے عمل کا خود جوابدہ ہے۔
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔