ترجمہ — Tafsir
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:
"اور جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کرے تو آپ ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے چہروں کے بل اندھے، گونگے اور بہرے بنا کر اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب بھی اس کی آگ بجھنے لگے گی ہم انہیں مزید بھڑکتی ہوئی آگ میں اضافہ کر دیں گے۔"
معانی الفاظ:
- یَہْدِ: ہدایت دینا، راستہ دکھانا
- یُضْلِلْ: گمراہ کرنا، راستے سے بھٹکانا
- نَحْشُرُهُمْ: جمع کرنا، اٹھانا
- عُمْیًا: اندھے
- بُکْمًا: گونگے
- صُمًّا: بہرے
- خَبَتْ: بجھنا، ٹھنڈی ہونا
- سَعِیرًا: بھڑکتی ہوئی آگ، شدید شعلے
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں ہدایت اور گمراہی کے حوالے سے ایک اہم حقیقت بیان فرما رہے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے، وہ حقیقی معنوں میں ہدایت یافتہ ہے، کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی وہ نور ہے جو دل کی آنکھیں کھول دیتی ہے اور انسان کو سیدھے راستے پر چلاتی ہے۔ اس کے برعکس، جسے اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے گمراہی میں چھوڑ دے، اس کے لیے کوئی مددگار، رہنما یا نجات دہندہ نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی بھی ہدایت دینے پر قادر نہیں۔
یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گمراہ کرنا ظلم نہیں، بلکہ اس شخص کے اپنے اعمال اور ضد کا نتیجہ ہے جو حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ ان گمراہوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے کہ قیامت کے دن انہیں اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے، اور وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ یہ حالت ان کے دنیا کے رویے کا عکس ہے، کیونکہ انہوں نے دنیا میں حق دیکھ کر بھی آنکھیں بند رکھیں، حق بات سن کر بھی کان بند رکھے، اور حق کہنے سے زبان کو روکے رکھا۔ چنانچہ آخرت میں ان کی یہی کیفیت ہوگی۔
ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جب بھی ان کی آگ بجھنے لگے گی، اللہ تعالیٰ ان کے لیے اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ یہ عذاب ان کے کفر اور سرکشی کا بدلہ ہے، اور یہ انتہائی دردناک انجام ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اس کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی آنکھوں، کانوں اور زبان کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا چاہیے، تاکہ آخرت میں ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہ کیا جائے۔ یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ اگر ہم دنیا میں حق سے منہ موڑیں گے تو آخرت میں ہماری یہی حالت ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت اور ہدایت کے طالب رہیں، اور اپنے اعمال کو سنوارتے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عذاب سے بچائے اور جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے، وہ اپنے بندوں کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے۔ آئیے ہم اس دعوت کو لبیک کہیں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔
📜 آیت 95-99 — اسراء
ترجمہ — اسراء 97
سورہ اسراء آیت 97 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب…سورہ آیت 97/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 95–99. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








