اسراء · 97/111
ترجمہ تلفظ — اسراء
وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِهِ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا ۖ مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا ۝٩٧
Wa mai yahdil laahu fahuwal muhtad; wa mai yudlil falan tajida lahum awliyaaa`a min doonih; wa nahshuruhum Yawmal Qiyaamati `alaa wujoohihim umyanw wa bukmanw wa summaa; maa waahum Jahannamu kullamaa khabat zidnaahum sa`eeraa
📖 اردو ترجمہ
اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا اُن کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم اُن کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب (اس کی آگ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو (عذاب دینے کے لئے) اور بھڑکا دیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

"اور جسے اللہ ہدایت دے وہی ہدایت یافتہ ہے، اور جسے وہ گمراہ کرے تو آپ ان کے لیے اللہ کے سوا کوئی مددگار نہیں پائیں گے، اور ہم انہیں قیامت کے دن ان کے چہروں کے بل اندھے، گونگے اور بہرے بنا کر اٹھائیں گے، ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب بھی اس کی آگ بجھنے لگے گی ہم انہیں مزید بھڑکتی ہوئی آگ میں اضافہ کر دیں گے۔"

معانی الفاظ:

  • یَہْدِ: ہدایت دینا، راستہ دکھانا
  • یُضْلِلْ: گمراہ کرنا، راستے سے بھٹکانا
  • نَحْشُرُهُمْ: جمع کرنا، اٹھانا
  • عُمْیًا: اندھے
  • بُکْمًا: گونگے
  • صُمًّا: بہرے
  • خَبَتْ: بجھنا، ٹھنڈی ہونا
  • سَعِیرًا: بھڑکتی ہوئی آگ، شدید شعلے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اس آیت میں ہدایت اور گمراہی کے حوالے سے ایک اہم حقیقت بیان فرما رہے ہیں۔ جس شخص کو اللہ تعالیٰ ہدایت عطا فرما دے، وہ حقیقی معنوں میں ہدایت یافتہ ہے، کیونکہ اللہ کی ہدایت ہی وہ نور ہے جو دل کی آنکھیں کھول دیتی ہے اور انسان کو سیدھے راستے پر چلاتی ہے۔ اس کے برعکس، جسے اللہ تعالیٰ اپنی مرضی سے گمراہی میں چھوڑ دے، اس کے لیے کوئی مددگار، رہنما یا نجات دہندہ نہیں ہوتا، کیونکہ اللہ کے سوا کوئی بھی ہدایت دینے پر قادر نہیں۔

یہاں ایک اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا گمراہ کرنا ظلم نہیں، بلکہ اس شخص کے اپنے اعمال اور ضد کا نتیجہ ہے جو حق کو دیکھ کر بھی اسے قبول نہیں کرتا۔ اللہ تعالیٰ انصاف کے ساتھ فیصلہ فرماتا ہے۔

پھر اللہ تعالیٰ ان گمراہوں کے انجام کو بیان فرماتا ہے کہ قیامت کے دن انہیں اس حال میں اٹھایا جائے گا کہ وہ اپنے چہروں کے بل گھسیٹے جائیں گے، اور وہ اندھے، گونگے اور بہرے ہوں گے۔ یہ حالت ان کے دنیا کے رویے کا عکس ہے، کیونکہ انہوں نے دنیا میں حق دیکھ کر بھی آنکھیں بند رکھیں، حق بات سن کر بھی کان بند رکھے، اور حق کہنے سے زبان کو روکے رکھا۔ چنانچہ آخرت میں ان کی یہی کیفیت ہوگی۔

ان کا ٹھکانا جہنم ہے، اور جب بھی ان کی آگ بجھنے لگے گی، اللہ تعالیٰ ان کے لیے اسے مزید بھڑکا دیں گے۔ یہ عذاب ان کے کفر اور سرکشی کا بدلہ ہے، اور یہ انتہائی دردناک انجام ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اللہ تعالیٰ کی ہدایت کو غنیمت سمجھنا چاہیے اور اس کے لیے شکر گزار ہونا چاہیے۔ ہمیں اپنی آنکھوں، کانوں اور زبان کو اللہ کی اطاعت میں استعمال کرنا چاہیے، تاکہ آخرت میں ہمیں ان نعمتوں سے محروم نہ کیا جائے۔ یہ آیت ہمیں ڈراتی ہے کہ اگر ہم دنیا میں حق سے منہ موڑیں گے تو آخرت میں ہماری یہی حالت ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی رحمت اور ہدایت کے طالب رہیں، اور اپنے اعمال کو سنوارتے رہیں تاکہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس عذاب سے بچائے اور جنت الفردوس میں داخل فرمائے۔ اللہ تعالیٰ بڑا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے، وہ اپنے بندوں کو ہدایت کی دعوت دیتا ہے اور توبہ کرنے والوں کو قبول کرتا ہے۔ آئیے ہم اس دعوت کو لبیک کہیں اور اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں۔

🎧 سنیں

📜 آیت 95-99 — اسراء

95قُل لَّوْ كَانَ فِي الْأَرْضِ مَلَائِكَةٌ يَمْشُونَ مُطْمَئِنِّينَ لَنَزَّلْنَا عَلَيْهِم مِّنَ السَّمَاءِ مَلَكًا رَّسُولًا
کہہ دو کہ اگر زمین میں فرشتے ہوتے (کہ اس میں) چلتے پھرتے (اور) آرام کرتے (یعنی بستے) تو ہم اُن کے پاس فرشتے کو پیغمبر بنا کر بھیجتے
96قُلْ كَفَىٰ بِاللَّهِ شَهِيدًا بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ ۚ إِنَّهُ كَانَ بِعِبَادِهِ خَبِيرًا بَصِيرًا
کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان خدا ہی گواہ کافی ہے۔ وہی اپنے بندوں سے خبردار (اور ان کو) دیکھنے والا ہے
97وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَهُوَ الْمُهْتَدِ ۖ وَمَن يُضْلِلْ فَلَن تَجِدَ لَهُمْ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِهِ ۖ وَنَحْشُرُهُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَىٰ وُجُوهِهِمْ عُمْيًا وَبُكْمًا وَصُمًّا ۖ مَّأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ ۖ كُلَّمَا خَبَتْ زِدْنَاهُمْ سَعِيرًا
اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا اُن کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم اُن کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب (اس کی آگ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو (عذاب دینے کے لئے) اور بھڑکا دیں گے
98ذَٰلِكَ جَزَاؤُهُم بِأَنَّهُمْ كَفَرُوا بِآيَاتِنَا وَقَالُوا أَإِذَا كُنَّا عِظَامًا وَرُفَاتًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ خَلْقًا جَدِيدًا
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے
99۞ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ قَادِرٌ عَلَىٰ أَن يَخْلُقَ مِثْلَهُمْ وَجَعَلَ لَهُمْ أَجَلًا لَّا رَيْبَ فِيهِ فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُورًا
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا
اسراءقرآن فہرست
111آیت
مکیRevelation
97آیت

ترجمہ — اسراء 97

سورہ اسراء آیت 97 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب…

سورہ آیت 97/111 — اسراء الإسراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: اسراء سنیں, اسراء ترجمہ, اسراء mp3, اسراء pdf. آیت 95–99. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں