Zaalika jazaa`uhum biannahum kafaroo bi aayaatinaa wa qaalooo `a izaa kunnaa `izaamanw wa rufaatan`a innaa lamaboosoona khalqan jadeedaa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
اين كيفر آنهاست، زيرا به آيات ما ايمان نياوردند و گفتند: آيا چون ما استخوان شديم و خاكى، ما را به صورت تازهاى زنده مىكنند؟
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے
رُفَاتًا: باریک ذرّات، چورا چورا ہو کر بکھرے ہوئے اجزاء
تفسیر:
یہ عذاب جو انہیں دیا جائے گا، یہ ان کا بدلہ ہے اس وجہ سے کہ انہوں نے ہماری آیتوں اور نشانیوں کا انکار کیا، اور ہمارے رسولوں کی دعوت کو جھٹلایا۔ ان کی یہ روش صرف کفر تک محدود نہ تھی، بلکہ وہ آخرت اور دوبارہ اٹھائے جانے کا مذاق اڑاتے تھے۔ جب انہیں بتایا جاتا کہ اللہ تمہیں دوبارہ زندہ کرے گا، تو وہ حیرت اور استہزاء کے انداز میں کہتے تھے: "کیا جب ہم مر کر ہڈیاں اور بکھرے ہوئے ذرّات بن جائیں گے، تو کیا ہم واقعی نئے سرے سے پیدا کر کے اٹھائے جائیں گے؟" وہ اسے ناممکن سمجھتے تھے، حالانکہ جس اللہ نے انہیں پہلی بار پیدا کیا، وہ دوبارہ پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں غور و فکر کی دعوت دیتی ہے۔ کیا وہ اللہ جو کائنات کو عدم سے وجود میں لایا، جو انسان کو نطفے سے پیدا کر کے اسے مکمل شکل دیتا ہے، کیا وہ دوبارہ زندہ کرنے پر قادر نہیں؟ یقیناً وہ قادر ہے۔ ایمان کا تقاضا ہے کہ ہم آخرت پر پختہ یقین رکھیں، کیونکہ یہی وہ عقیدہ ہے جو انسان کو نیکی پر چلاتا ہے اور برائی سے روکتا ہے۔ جو لوگ آخرت کا انکار کرتے ہیں، وہ اپنے اعمال کی ذمہ داری سے آزاد ہو جاتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر شخص اپنے اعمال کا حساب دے گا۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ پر ایمان لائیں، اور اس کی اطاعت میں زندگی گزاریں تاکہ اس عظیم انجام سے بچ سکیں جو کافروں کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ اللہ ہمیں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق دے۔ آمین۔
اور جس شخص کو خدا ہدایت دے وہی ہدایت یاب ہے۔ اور جن کو گمراہ کرے تو تم خدا کے سوا اُن کے رفیق نہیں پاؤ گے۔ اور ہم اُن کو قیامت کے دن اوندھے منہ اندھے گونگے اور بہرے (بنا کر) اٹھائیں گے۔ اور ان کا ٹھکانہ دوزخ ہے۔ جب (اس کی آگ) بجھنے کو ہوگی تو ہم ان کو (عذاب دینے کے لئے) اور بھڑکا دیں گے
یہ ان کی سزا ہے اس لئے کہ وہ ہماری آیتوں سے کفر کرتے تھے اور کہتے تھے کہ جب ہم (مر کر بوسیدہ) ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے تو کیا ازسرنو پیدا کئے جائیں گے
کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ خدا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اس بات پر قادر ہے کہ ان جیسے (لوگ) پیدا کردے۔ اور اس نے ان کے لئے ایک وقت مقرر کر دیا ہے جس میں کچھ بھی شک نہیں۔ تو ظالموں نے انکار کرنے کے سوا (اسے) قبول نہ کیا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔