Wa rabatnaa `alaa quloo bihim iz qaamoo faqaaloo Rabbunaa Rabbus samaawaati wal ardi lan nad`uwa min dooniheee ilaahal laqad qulnaaa izan shatataa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
بر دلهايشان نيرو بخشيديم، آنگاه كه برخاستند و گفتند: پروردگار ما پروردگار آسمانها و زمين است. جز او كسى را خدا نخوانيم كه هر گاه چنين كنيم، سخنى سخت كفرآميز گفته باشيم.
رَبَطْنَا عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ: ہم نے ان کے دلوں کو مضبوط کر دیا، انہیں ثابت قدمی عطا کی۔
شَطَطًا: ظلم، زیادتی، حق سے دور اور بے جا بات۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ نے ان نوجوانوں کے دلوں کو ایمان کی مضبوطی سے جوڑ دیا اور انہیں ایسی قوت اور ثابت قدمی عطا فرمائی کہ وہ باطل کے سامنے ڈٹ گئے۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب وہ ظالم بادشاہ کے سامنے کھڑے ہوئے، جس نے انہیں بتوں کی عبادت کا حکم دیا تھا۔ انہوں نے بے خوف ہو کر اعلانِ حق کیا اور کہا: "ہمارا رب وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے، ہم اس کے سوا کسی اور معبود کو نہیں پکاریں گے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ہم اس کے سوا کسی اور کو معبود مان لیں تو یہ انتہائی ظلم اور حق سے دور کی بات ہوگی، کیونکہ یہ اللہ کے ساتھ شرک کرنا ہے اور شرک سب سے بڑا ظلم ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو اس طرح مضبوط کیا کہ وہ حق پر قائم رہے، اپنے وطن اور گھر بار کو چھوڑ دیا، اور صرف اللہ کی رضا کے لیے غار میں پناہ لی۔ یہ سب کچھ ان کے ایمان کی پختگی اور اللہ پر بھروسے کی وجہ سے تھا۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ جب بندہ حق پر قائم ہوتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو مضبوط کرتا ہے اور اسے ایسی ہمت عطا فرماتا ہے جو دنیا کی تمام طاقتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم بھی اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں، اور حق بات کہنے میں کسی کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے جب وہ اس کی راہ میں ثابت قدم رہتے ہیں۔ یہ نوجوان ہمارے لیے نمونہ ہیں کہ ایمان کی طاقت سے انسان بڑی سے بڑی مشکلات پر قابو پا سکتا ہے۔
اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی
اور ان کے دلوں کو مربوط (یعنی مضبوط) کردیا۔ جب وہ (اُٹھ) کھڑے ہوئے تو کہنے لگے کہ ہمارا پروردگار آسمانوں اور زمین کا مالک ہے۔ ہم اس کے سوا کسی کو معبود (سمجھ کر) نہ پکاریں گے (اگر ایسا کیا) تو اس وقت ہم نے بعید از عقل بات کہی
ان ہماری قوم کے لوگوں نے اس کے سوا اور معبود بنا رکھے ہیں۔ بھلا یہ ان (کے خدا ہونے) پر کوئی کھلی دلیل کیوں نہیں لاتے۔ تو اس سے زیادہ کون ظالم ہے جو خدا پر جھوٹ افتراء کرے
اور جب تم نے ان (مشرکوں) سے اور جن کی یہ خدا کے سوا عبادت کرتے ہیں ان سے کنارہ کرلیا ہے تو غار میں چل رہو تمہارا پروردگار تمہارے لئے اپنی رحمت وسیع کردے گا اور تمہارے کاموں میں آسانی (کے سامان) مہیا کرے گا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔