Wa kaana lahoo samarun faqaala lisaahibihee wa huwa yuhaawiruhoo ana aksaru minka maalanw wa a`azzu nafaraa
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
حاصل از آنِ او بود. به دوستش كه با او گفت و گو مىكرد گفت: من به مال از تو بيشتر و به افراد پيروزترم.
اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
ثَمَرٌ: پھل، پھل اور مال و دولت (یہاں مراد باغات کی پیداوار اور اموال ہیں)۔
یُحَاوِرُهُ: اس سے گفتگو کرتا ہے، باتوں میں الجھتا ہے۔
نَفَرًا: قبیلہ، خاندان، مددگار اور ساتھی۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جسے دو باغ عطا کیے گئے تھے، اور ساتھ ہی اس کے پاس اور بھی اموال اور ثمرات تھے۔ یہ شخص اپنے مال و دولت پر اتنا مغرور ہو گیا تھا کہ اپنے مؤمن ساتھی سے، جو اس سے گفتگو کر رہا تھا، فخر کے ساتھ کہنے لگا: "میں تجھ سے زیادہ مال والا ہوں اور عزت و طاقت میں بھی تجھ سے بڑھ کر ہوں، میرا قبیلہ اور میرے مددگار بھی زیادہ ہیں۔" اس نے اپنے مال اور انصار و اعوان کو اپنی برتری کا ذریعہ سمجھا، حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے عارضی طور پر دیا گیا تھا۔
یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب وہ شخص اپنے باغوں کی خوبصورتی اور کثرتِ اموال پر نازاں تھا، اور اپنے مؤمن دوست کو حقیر سمجھ رہا تھا۔ اس کا یہ رویہ اس کے کفر اور غرور کی وجہ سے تھا، کیونکہ اس نے آخرت کو چھوڑ کر صرف دنیا کی زندگی پر اعتماد کیا تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ مال و دولت اور دنیاوی عزت کبھی بھی انسان کے لیے فخر اور برتری کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے، اور حقیقی عزت تو تقویٰ اور ایمان میں ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مال پر غرور کرتا ہے، تو وہ دراصل اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے انہیں اپنی برتری کا ذریعہ بنا لیتا ہے، جو کہ بہت بڑی غلطی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے شکر گزار بندے بنیں، اور اپنے ایمان والے بھائیوں کے ساتھ محبت اور عاجزی سے پیش آئیں، کیونکہ آخرت میں کامیابی صرف ایمان اور عمل صالح سے ملے گی، نہ کہ مال و دولت سے۔
اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی
اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔