کہف · 34/110
ترجمہ تلفظ — کہف
وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا ۝٣٤
Wa kaana lahoo samarun faqaala lisaahibihee wa huwa yuhaawiruhoo ana aksaru minka maalanw wa a`azzu nafaraa
📖 اردو ترجمہ
اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • ثَمَرٌ: پھل، پھل اور مال و دولت (یہاں مراد باغات کی پیداوار اور اموال ہیں
  • یُحَاوِرُهُ: اس سے گفتگو کرتا ہے، باتوں میں الجھتا ہے۔
  • نَفَرًا: قبیلہ، خاندان، مددگار اور ساتھی۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ایک ایسے شخص کا ذکر کیا ہے جسے دو باغ عطا کیے گئے تھے، اور ساتھ ہی اس کے پاس اور بھی اموال اور ثمرات تھے۔ یہ شخص اپنے مال و دولت پر اتنا مغرور ہو گیا تھا کہ اپنے مؤمن ساتھی سے، جو اس سے گفتگو کر رہا تھا، فخر کے ساتھ کہنے لگا: "میں تجھ سے زیادہ مال والا ہوں اور عزت و طاقت میں بھی تجھ سے بڑھ کر ہوں، میرا قبیلہ اور میرے مددگار بھی زیادہ ہیں۔" اس نے اپنے مال اور انصار و اعوان کو اپنی برتری کا ذریعہ سمجھا، حالانکہ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے عارضی طور پر دیا گیا تھا۔

یہ گفتگو اس وقت ہوئی جب وہ شخص اپنے باغوں کی خوبصورتی اور کثرتِ اموال پر نازاں تھا، اور اپنے مؤمن دوست کو حقیر سمجھ رہا تھا۔ اس کا یہ رویہ اس کے کفر اور غرور کی وجہ سے تھا، کیونکہ اس نے آخرت کو چھوڑ کر صرف دنیا کی زندگی پر اعتماد کیا تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ مال و دولت اور دنیاوی عزت کبھی بھی انسان کے لیے فخر اور برتری کا ذریعہ نہیں ہونی چاہیے۔ یہ سب کچھ اللہ کی طرف سے ایک آزمائش ہے، اور حقیقی عزت تو تقویٰ اور ایمان میں ہے۔ جب کوئی شخص اپنے مال پر غرور کرتا ہے، تو وہ دراصل اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے انہیں اپنی برتری کا ذریعہ بنا لیتا ہے، جو کہ بہت بڑی غلطی ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم ہر حال میں اللہ کے شکر گزار بندے بنیں، اور اپنے ایمان والے بھائیوں کے ساتھ محبت اور عاجزی سے پیش آئیں، کیونکہ آخرت میں کامیابی صرف ایمان اور عمل صالح سے ملے گی، نہ کہ مال و دولت سے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 32-36 — کہف

32۞ وَاضْرِبْ لَهُم مَّثَلًا رَّجُلَيْنِ جَعَلْنَا لِأَحَدِهِمَا جَنَّتَيْنِ مِنْ أَعْنَابٍ وَحَفَفْنَاهُمَا بِنَخْلٍ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمَا زَرْعًا
اور ان سے دو شخصوں کا حال بیان کرو جن میں سے ایک ہم نے انگور کے دو باغ (عنایت) کئے تھے اور ان کے گردا گرد کھجوروں کے درخت لگا دیئے تھے اور ان کے درمیان کھیتی پیدا کردی تھی
33كِلْتَا الْجَنَّتَيْنِ آتَتْ أُكُلَهَا وَلَمْ تَظْلِم مِّنْهُ شَيْئًا ۚ وَفَجَّرْنَا خِلَالَهُمَا نَهَرًا
دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی
34وَكَانَ لَهُ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَاحِبِهِ وَهُوَ يُحَاوِرُهُ أَنَا أَكْثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا
اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں
35وَدَخَلَ جَنَّتَهُ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفْسِهِ قَالَ مَا أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِ أَبَدًا
اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو
36وَمَا أَظُنُّ السَّاعَةَ قَائِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيْرًا مِّنْهَا مُنقَلَبًا
اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
34آیت

ترجمہ — کہف 34

سورہ کہف آیت 34 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی…

سورہ آیت 34/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 32–36. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں