کہف · 35/110
ترجمہ تلفظ — کہف
وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدًا  ۝٣٥
Wa dakhala jannatahoo wa huwa zaalimul linafsihee qaala maaa azunnu an tabeeda haaziheee abadaa
📖 اردو ترجمہ
اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • جَنَّتَهُ: اس کا باغ، اس کا باغیچہ
  • ظَالِمٌ لِنَفْسِهِ: اپنے اوپر ظلم کرنے والا (یعنی کفر اور غرور کے ذریعے اپنے نفس کو نقصان پہنچانے والا)
  • تَبِيدَ: فنا ہو جائے، ختم ہو جائے، نیست و نابود ہو جائے

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اس دولت مند کافر کا حال بیان فرما رہے ہیں جو اپنے مومن بھائی کو اپنے باغ میں لے گیا تھا۔ وہ اپنے باغ میں داخل ہوا، لیکن اس حالت میں کہ وہ اپنے نفس پر ظلم کرنے والا تھا۔ اس کا ظلم کیا تھا؟ اس کا ظلم یہ تھا کہ اس نے اللہ پر ایمان نہیں رکھا، آخرت کا انکار کیا، اور اپنے مال و دولت اور باغ پر اس قدر ناز کیا کہ اسے یقین ہو گیا کہ یہ نعمتیں کبھی ختم نہیں ہوں گی۔

اس نے اپنے مومن بھائی سے کہا: "میں نہیں سمجھتا کہ یہ باغ کبھی تباہ و برباد ہو سکتا ہے۔" اس نے اپنے باغ کی مضبوطی، اس کی سرسبزی، اس کے پھلوں کی کثرت اور اس کی حفاظت کے انتظامات کو دیکھ کر یہ گمان کیا کہ یہ ہمیشہ باقی رہے گا۔ اس کی عقل نے اسے یہ نہ سکھایا کہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، ہر نعمت عاریت ہے، اور اللہ کی مشیت کے بغیر کوئی چیز قائم نہیں رہ سکتی۔

اس کا یہ خیال محض جہالت اور غرور تھا۔ اس نے اپنے مال پر بھروسہ کیا، اپنی تدبیر پر اعتماد کیا، اور اللہ کی قدرت کو بھول گیا۔ وہ یہ بھی نہیں سوچ سکا کہ جس اللہ نے یہ باغ پیدا کیا ہے، وہی اسے مٹا بھی سکتا ہے۔ اس کی لمبی امیدوں اور دنیا کی محبت نے اسے اندھا کر دیا تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے۔ اے بھائیو! ہم میں سے کتنے لوگ ہیں جو اپنی دولت، اپنی اولاد، اپنے گھر، اپنی صحت اور اپنی طاقت پر ناز کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ سب کچھ ہمیشہ رہے گا؟ ہم اپنی تدبیروں اور اپنے انتظامات پر بھروسہ کر لیتے ہیں، لیکن یہ نہیں سوچتے کہ اللہ کی مشیت کے آگے ہماری کوئی چیز نہیں چل سکتی۔

یاد رکھو! یہ دنیا دار فانی ہے۔ اس کی ہر نعمت عارضی ہے۔ جو شخص اللہ کو بھول کر صرف دنیا پر بھروسہ کرتا ہے، وہ درحقیقت اپنے نفس پر ظلم کرتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور آخرت کو یاد رکھتا ہے، وہ دنیا کی نعمتوں کو اللہ کی طرف سے امانت سمجھ کر ان کا شکر ادا کرتا ہے اور انہیں اللہ کی رضا کے لیے استعمال کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم دنیا کی محبت میں اندھے نہ ہوں، اپنے مال و دولت پر ناز نہ کریں، اور ہمیشہ یاد رکھیں کہ اصل کامیابی آخرت میں ہے، جہاں اللہ اپنے مومن بندوں کو ایسی نعمتیں عطا فرمائے گا جو کبھی ختم نہیں ہوں گی۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 33-37 — کہف

33كِلۡتَا ٱلۡجَنَّتَيۡنِ ءَاتَتۡ أُكُلَهَا وَلَمۡ تَظۡلِم مِّنۡهُ شَيۡـًٔاۚ وَفَجَّرۡنَا خِلَٰلَهُمَا نَهَرًا 
دونوں باغ (کثرت سے) پھل لاتے۔ اور اس (کی پیداوار) میں کسی طرح کی کمی نہ ہوتی اور دونوں میں ہم نے ایک نہر بھی جاری کر رکھی تھی
34وَكَانَ لَهُۥ ثَمَرٌ فَقَالَ لِصَٰحِبِهِۦ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَنَا۠ أَكۡثَرُ مِنكَ مَالًا وَأَعَزُّ نَفَرًا 
اور (اس طرح) اس (شخص) کو (ان کی) پیداوار (ملتی رہتی) تھی تو (ایک دن) جب کہ وہ اپنے دوست سے باتیں کر رہا تھا کہنے لگا کہ میں تم سے مال ودولت میں بھی زیادہ ہوں اور جتھے (اور جماعت) کے لحاظ سے بھی زیادہ عزت والا ہوں
35وَدَخَلَ جَنَّتَهُۥ وَهُوَ ظَالِمٌ لِّنَفۡسِهِۦ قَالَ مَآ أَظُنُّ أَن تَبِيدَ هَٰذِهِۦٓ أَبَدًا 
اور (ایسی شیخیوں) سے اپنے حق میں ظلم کرتا ہوا اپنے باغ میں داخل ہوا۔ کہنے لگا کہ میں نہیں خیال کرتا کہ یہ باغ کبھی تباہ ہو
36وَمَآ أَظُنُّ ٱلسَّاعَةَ قَآئِمَةً وَلَئِن رُّدِدتُّ إِلَىٰ رَبِّي لَأَجِدَنَّ خَيۡرًا مِّنۡهَا مُنقَلَبًا 
اور نہ خیال کرتا ہوں کہ قیامت برپا ہو۔ اور اگر میں اپنے پروردگار کی طرف لوٹایا بھی جاؤں تو (وہاں) ضرور اس سے اچھی جگہ پاؤں گا
37قَالَ لَهُۥ صَاحِبُهُۥ وَهُوَ يُحَاوِرُهُۥٓ أَكَفَرۡتَ بِٱلَّذِي خَلَقَكَ مِن تُرَابٍ ثُمَّ مِن نُّطۡفَةٍ ثُمَّ سَوَّىٰكَ رَجُلًا 
تو اس کا دوست جو اس سے گفتگو کر رہا تھا کہنے لگا کہ کیا تم اس (خدا) سے کفر کرتے ہو جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا پھر نطفے سے پھر تمہیں پورا مرد بنایا
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
35آیت

ترجمہ — کہف 35

سورہ آیت 35/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں