کہف · 75/110
ترجمہ تلفظ — کہف
۞ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا ۝٧٥
Qaala alam aqul laka innaka lan tastatee`a ma`iya sabraa
📖 اردو ترجمہ
(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أَلَمْ أَقُل لَّكَ: کیا میں نے تم سے نہیں کہا تھا؟
  • لَن تَسْتَطِيعَ: ہرگز طاقت نہیں رکھو گے / برداشت نہیں کر سکو گے۔
  • صَبْرًا: صبر کرنا، برداشت کرنا۔

تفسیر:

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے حضرت خضر علیہ السلام کے اس فعل پر صبر نہ کیا اور اپنا وعدہ بھول کر اعتراض کر بیٹھے، تو حضرت خضر علیہ السلام نے انہیں نرمی کے ساتھ لیکن واضح انداز میں یاد دلایا: "کیا میں نے تم سے پہلے ہی نہیں کہا تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکو گے؟"

یہ دراصل ایک شفیق استاد کی نصیحت تھی، جو اپنے شاگرد کو اس کی کمزوری یاد دلاتے ہوئے اسے سمجھا رہے تھے کہ میں نے تمہیں پہلے ہی خبردار کر دیا تھا۔ اس میں سرزنش کا پہلو بھی ہے، لیکن یہ سرزنش محبت اور شفقت سے خالی نہیں۔ حضرت خضر علیہ السلام کا مقصد حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ باور کروانا تھا کہ جو کچھ وہ کر رہے ہیں، وہ محض ظاہری شکل نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک خاص حکمت اور علم پر مبنی ہے، جسے حضرت موسیٰ علیہ السلام برداشت نہیں کر سکتے۔

اس آیت میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ علم کے سفر میں صبر نہایت ضروری ہے۔ بعض اوقات انسان ظاہری باتوں سے متاثر ہو کر جلدی فیصلہ کر لیتا ہے، حالانکہ حقیقت کچھ اور ہوتی ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم نبی بھی اس امتحان میں صبر نہ کر سکے، تو ہم عام لوگوں کو تو اور بھی زیادہ صبر اور تحمل سے کام لینا چاہیے۔

یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ جب کوئی عالم یا بزرگ ہمیں کسی بات سے پہلے ہی آگاہ کر دے، تو ہمیں اس کی نصیحت کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور اپنے علم پر مغرور نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کے بندوں میں سے بعض کو خاص علم عطا کیا جاتا ہے، جسے ہم سمجھ نہیں سکتے، لیکن ان پر اعتماد کرنا اور ان کی رہنمائی قبول کرنا ہی ہمارے لیے بہتر ہے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی پیغام دیتی ہے کہ دین میں سیکھنے کا سلسلہ کبھی ختم نہیں ہوتا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے پیغمبر نے حضرت خضر علیہ السلام سے علم حاصل کرنے کے لیے سفر کیا، تو ہمیں بھی چاہیے کہ علم حاصل کرنے کے لیے مشقت برداشت کریں اور اپنے اساتذہ کے ساتھ حسنِ ادب اور صبر کا مظاہرہ کریں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں صبر اور علم کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل کرے جو علم حاصل کرتے ہیں اور اس پر عمل کرتے ہیں۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 73-77 — کہف

73قَالَ لَا تُؤَاخِذْنِي بِمَا نَسِيتُ وَلَا تُرْهِقْنِي مِنْ أَمْرِي عُسْرًا
(موسیٰ نے) کہا کہ جو بھول مجھ سے ہوئی اس پر مواخذہ نہ کیجیئے اور میرے معاملے میں مجھ پر مشکل نہ ڈالئے
74فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی
75۞ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے
76قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے
77فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
75آیت

ترجمہ — کہف 75

سورہ کہف آیت 75 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ…

سورہ آیت 75/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 73–77. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں