کہف · 76/110
ترجمہ تلفظ — کہف
قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا ۝٧٦
Qaala in sa altuka `an shai`im ba`dahaa falaa tusaahibnee qad balaghta mil ladunnee `uzraa
📖 اردو ترجمہ
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • بَعْدَهَا: اس کے بعد (یعنی اس تیسری بار کے بعد
  • فَلَا تُصَاحِبْنِي: تو میرا ساتھ نہ چھوڑ، مجھ سے جدائی اختیار کر لے۔
  • مِن لَّدُنِّي: میری طرف سے، میرے پاس سے۔
  • عُذْرًا: عذر، معذرت، جواز۔ یعنی تیرا عذر پوری طرح واضح ہو گیا۔

تفسیر آیت:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے اس مہمان اور معلمِ خاص سے کہا: اگر میں اس مرتبہ کے بعد کسی اور چیز کے بارے میں آپ سے سوال کروں (یعنی اس سے پہلے والے دو واقعات کی طرح کوئی تیسرا اعتراض کروں) تو پھر آپ میرا ساتھ چھوڑ دیجیے، مجھ سے مفارقت اختیار کر لیجیے۔ آپ نے میری طرف سے عذر کی انتہا کر دی ہے، یعنی آپ نے مجھے پوری طرح سمجھا دیا کہ میں آپ کے ساتھ صبر نہیں کر سکتا، اور آپ نے اپنی ذمہ داری نبھا دی، اب آپ کے لیے مجھ سے جدا ہونے میں کوئی حرج نہیں۔

یہ وہ مقام ہے جہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خود اپنے بارے میں فیصلہ دے دیا کہ اگر میں تیسری بار بھی اعتراض کروں تو میرا کوئی عذر نہیں، اور آپ میری صحبت چھوڑنے میں بالکل آزاد ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنے نفس پر سختی کی اور اپنے معلم کے ساتھ وفاداری کا ثبوت دیا، حالانکہ ان کا دل اس صحبت سے بہت محبت رکھتا تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے قیمتی اسباق ملتے ہیں۔ ایک تو یہ کہ علم حاصل کرنے کے لیے صبر اور تحمل بہت ضروری ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر کو بھی اپنے استاد کے ساتھ صبر کرنے کا حکم دیا گیا، اور جب انہوں نے صبر نہ کیا تو خود انہوں نے اعتراف کیا کہ میرا عذر ختم ہو گیا۔ یہ ہمیں سکھاتا ہے کہ علم سیکھنے میں عجلت نہیں کرنی چاہیے، اور استاد کے فیصلوں پر اعتماد رکھنا چاہیے۔

دوسرا سبق یہ ہے کہ ایک سچا طالب علم اپنی غلطی کا اعتراف کرتا ہے اور اپنے استاد کے سامنے عاجزی کا اظہار کرتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اپنے معلم سے کہا کہ آپ نے میری طرف سے عذر کی انتہا کر دی، یعنی انہوں نے اپنی کمزوری کو تسلیم کیا اور اپنے استاد کی برتری کو مانا۔ یہ تواضع اور انکساری ہر مسلمان کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

تیسرا سبق یہ ہے کہ کسی بھی رفاقت یا صحبت میں حدیں ہوتی ہیں۔ اگر کوئی شخص بار بار وعدہ خلافی کرے تو دوسرے کے لیے اس سے علیحدگی جائز ہے۔ لیکن ساتھ ہی ہمیں یہ بھی سیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ حسن سلوک کریں، اور اگر کوئی غلطی ہو جائے تو معاف کرنے کا رویہ رکھیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ معاف کرنے والوں سے محبت کرتا ہے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ علم حاصل کرنے میں مشقت اور آزمائش ہوتی ہے، لیکن جو شخص صبر کرتا ہے، اللہ اسے کامیابی عطا فرماتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس صحبت سے بہت کچھ سیکھا، اور بعد میں اللہ نے انہیں مزید علم و حکمت عطا فرمائی۔ ہمیں بھی چاہیے کہ علم حاصل کرنے میں صبر کریں، اپنے اساتذہ کا احترام کریں، اور ان کی رہنمائی کو قبول کریں، کیونکہ یہی راستہ کامیابی کا راستہ ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 74-78 — کہف

74فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا لَقِيَا غُلَامًا فَقَتَلَهُ قَالَ أَقَتَلْتَ نَفْسًا زَكِيَّةً بِغَيْرِ نَفْسٍ لَّقَدْ جِئْتَ شَيْئًا نُّكْرًا
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ (رستے میں) ایک لڑکا ملا تو (خضر نے) اُسے مار ڈالا۔ (موسیٰ نے) کہا کہ آپ نے ایک بےگناہ شخص کو ناحق بغیر قصاص کے مار ڈالا۔ (یہ تو) آپ نے بری بات کی
75۞ قَالَ أَلَمْ أَقُل لَّكَ إِنَّكَ لَن تَسْتَطِيعَ مَعِيَ صَبْرًا
(خضر نے) کہا کیا میں نے نہیں کہا تھا کہ تم سے میرے ساتھ صبر نہیں کرسکو گے
76قَالَ إِن سَأَلْتُكَ عَن شَيْءٍ بَعْدَهَا فَلَا تُصَاحِبْنِي ۖ قَدْ بَلَغْتَ مِن لَّدُنِّي عُذْرًا
انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر) کوئی بات پوچھوں (یعنی اعتراض کروں) تو مجھے اپنے ساتھ نہ رکھیئے گا کہ آپ میری طرف سے عذر (کے قبول کرنے میں غایت) کو پہنچ گئے
77فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا أَتَيَا أَهْلَ قَرْيَةٍ اسْتَطْعَمَا أَهْلَهَا فَأَبَوْا أَن يُضَيِّفُوهُمَا فَوَجَدَا فِيهَا جِدَارًا يُرِيدُ أَن يَنقَضَّ فَأَقَامَهُ ۖ قَالَ لَوْ شِئْتَ لَتَّخَذْتَ عَلَيْهِ أَجْرًا
پھر دونوں چلے۔ یہاں تک کہ ایک گاؤں والوں کے پاس پہنچے اور ان سے کھانا طلب کیا۔ انہوں نے ان کی ضیافت کرنے سے انکار کر دیا۔ پھر انہوں نے وہاں ایک دیوار دیکھی جو (جھک کر) گرا چاہتی تھی۔ خضر نے اس کو سیدھا کر دیا۔ موسیٰ نے کہا اگر آپ چاہتے تو ان سے (اس کا) معاوضہ لیتے (تاکہ کھانے کا کام چلتا)
78قَالَ هَٰذَا فِرَاقُ بَيْنِي وَبَيْنِكَ ۚ سَأُنَبِّئُكَ بِتَأْوِيلِ مَا لَمْ تَسْتَطِع عَّلَيْهِ صَبْرًا
خضر نے کہا اب مجھ میں اور تجھ میں علیحدگی۔ (مگر) جن باتوں پر تم صبر نہ کرسکے میں ان کا تمہیں بھید بتائے دیتا ہوں
کہفقرآن فہرست
110آیت
مکیRevelation
76آیت

ترجمہ — کہف 76

سورہ کہف آیت 76 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا کہ اگر میں اس کے بعد (پھر)…

سورہ آیت 76/110 — کہف الكهف (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: کہف سنیں, کہف ترجمہ, کہف mp3, کہف pdf. آیت 74–78. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں