بقرہ · 105/286
ترجمہ تلفظ — سورہ بقرہ
مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ۝١٠٥
Maa yawaddul lazeena kafaroo min ahlil kitaabi wa lal mushrikeena ai-yunazzala `alaikum min khairim mir Rabbikum; wallaahu yakhtassu birahmatihee mai-yashaaa; wallaahu zul fadlil`azeem
📖 اردو ترجمہ
جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • یَوَدُّ: چاہتا ہے، پسند کرتا ہے۔
  • خیر: بھلائی، خیر خیریت، قرآن، علم، نبوت، نصرت اور بشارت وغیرہ۔
  • یَخْتَصُّ: خاص کرتا ہے، چن لیتا ہے۔
  • رحمت: یہاں اس سے مراد نبوت اور رسالت ہے۔
  • فضل عظیم: بہت بڑا فضل اور احسان۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے کافروں کے دلوں کی کیفیت بیان فرمائی ہے کہ اہل کتاب (یہود و نصاریٰ) اور مشرکین (بت پرست عرب) میں سے جو لوگ کفر پر قائم ہیں، وہ ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے رب کی طرف سے کوئی بھلائی نازل ہو، چاہے وہ قرآن ہو، علم ہو، نبوت ہو، نصرت ہو یا کوئی اور خیر ہی کیوں نہ ہو۔ ان کے دلوں میں حسد اور بغض اس قدر بھرا ہوا ہے کہ وہ تمہاری بھلائی کو برداشت نہیں کر سکتے۔

یہاں یہ بات قابل غور ہے کہ جب مسلمان یہودیوں سے کہتے تھے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لاؤ، تو وہ جواب میں کہتے تھے کہ تم جس چیز کی طرف بلا رہے ہو وہ اس سے بہتر نہیں جو ہم پر ہے، حالانکہ وہ جھوٹ بولتے تھے اور دل میں جانتے تھے کہ یہ حق ہے، لیکن حسد اور ضد کی وجہ سے انکار کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے اس نفاق اور کذب کو بے نقاب فرمایا۔

پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور قدرت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ اپنی رحمت (نبوت، رسالت اور ہدایت) جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے۔ یہ اللہ کا خاص فضل ہے جو وہ اپنی مشیت کے مطابق اپنے پسندیدہ بندوں کو دیتا ہے۔ کوئی اسے روک نہیں سکتا اور نہ کوئی اسے حاصل کر سکتا ہے جسے اللہ نہ دینا چاہے۔ اللہ تعالیٰ بڑے فضل والا ہے، اس کا فضل و کرم انتہائی وسیع ہے، وہ جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلے یہ کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ کافروں کی مخالفت اور ان کے حسد سے پریشان نہ ہوں، کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں، ہمیشہ سے اہل کتاب اور مشرکین حق کے دشمن رہے ہیں۔ دوسرے یہ کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو نعمتِ ایمان اور قرآن جیسی عظیم کتاب عطا کی ہے، یہ اللہ کا خاص فضل ہے، اس لیے ہمیں اس فضل کی قدر کرنی چاہیے اور اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ تیسرے یہ کہ ہمیں اپنے دشمنوں کے حسد اور مخالفت کی پرواہ کیے بغیر اللہ کے دین کی خدمت کرتے رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ ہی عزت اور ذلت دینے والا ہے، اور وہ اپنے فضل سے اپنے بندوں کی مدد کرتا ہے۔ یہ آیت مسلمانوں کے لیے تسلی اور اطمینان کا پیغام ہے کہ اللہ کا فضل عظیم ہے اور وہ اپنے بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔



📜 آیت 103-107 — سورہ بقرہ

103وَلَوْ أَنَّهُمْ آمَنُوا وَاتَّقَوْا لَمَثُوبَةٌ مِّنْ عِندِ اللَّهِ خَيْرٌ ۖ لَّوْ كَانُوا يَعْلَمُونَ
اور اگر وہ ایمان لاتے اور پرہیز گاری کرتے تو خدا کے ہاں سے بہت اچھا صلہ ملتا۔ اے کاش، وہ اس سے واقف ہوتے
104يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقُولُوا رَاعِنَا وَقُولُوا انظُرْنَا وَاسْمَعُوا ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ
اے اہل ایمان! (گفتگو کے وقت پیغمبرِ خدا سے) راعنا نہ کہا کرو۔ انظرنا کہا کرو۔ اور خوب سن رکھو، اور کافروں کے لیے دکھ دینے والا عذاب ہے
105مَّا يَوَدُّ الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ وَلَا الْمُشْرِكِينَ أَن يُنَزَّلَ عَلَيْكُم مِّنْ خَيْرٍ مِّن رَّبِّكُمْ ۗ وَاللَّهُ يَخْتَصُّ بِرَحْمَتِهِ مَن يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ
جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ تم پر تمہارے پروردگار کی طرف سے خیر (وبرکت) نازل ہو۔ اور خدا تو جس کو چاہتا ہے، اپنی رحمت کے ساتھ خاص کر لیتا ہے اور خدا بڑے فضل کا مالک ہے
106۞ مَا نَنسَخْ مِنْ آيَةٍ أَوْ نُنسِهَا نَأْتِ بِخَيْرٍ مِّنْهَا أَوْ مِثْلِهَا ۗ أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
ہم جس آیت کو منسوخ کر دیتے یا اسے فراموش کرا دیتے ہیں تو اس سے بہتر یا ویسی ہی اور آیت بھیج دیتے ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ خدا ہر بات پر قادر ہے
107أَلَمْ تَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۗ وَمَا لَكُم مِّن دُونِ اللَّهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ
تمہیں معلوم نہیں کہ آسمانوں اور زمین کی بادشاہت خدا ہی کی ہے، اور خدا کے سوا تمہارا کوئی دوست اور مدد گار نہیں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
105آیت

ترجمہ — بقرہ 105

سورہ بقرہ آیت 105 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو لوگ کافر ہیں، اہل کتاب یا مشرک وہ اس…

سورہ آیت 105/286 — سورہ بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ بقرہ سنیں, سورہ بقرہ ترجمہ, سورہ بقرہ mp3, سورہ بقرہ pdf. آیت 103–107. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Monday, September 7, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں