بقرہ · 129/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۝١٢٩
Rabbanaa wab`as feehim Rasoolam minhum yatloo `alaihim aayaatika wa yu`allimuhumul Kitaaba wal Hikmata wa yuzakkeehim; innaka Antal `Azeezul Hakeem
📖 اردو ترجمہ
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • وَابْعَثْ: بھیج، مبعوث فرما۔
  • رَسُولًا مِّنْهُمْ: انہیں میں سے ایک رسول (جو انہی کی قوم و نسل سے ہو
  • يَتْلُو: پڑھ کر سنائے۔
  • آيَاتِكَ: تیری آیات (یعنی قرآن کریم
  • الْكِتَابَ: کتاب (قرآن
  • الْحِكْمَةَ: حکمت (یعنی سنت اور شریعت کے اسرار و احکام
  • يُزَكِّيهِمْ: انہیں پاک کرے (شرک، گناہوں اور برے اخلاق سے
  • الْعَزِيزُ: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔
  • الْحَكِيمُ: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی سے کرے۔

تفسیر:

حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت اسماعیل علیہ السلام جب خانہ کعبہ کی تعمیر مکمل کر رہے تھے، تو انہوں نے بارگاہِ الٰہی میں جو دعائیں کیں، ان میں سے ایک یہ عظیم دعا بھی تھی کہ "اے ہمارے رب! ان لوگوں میں (یعنی اس امت میں) انہی میں سے ایک رسول بھیج، جو انہیں تیری آیات پڑھ کر سنائے، انہیں کتاب اور حکمت سکھائے، اور انہیں (گناہوں اور شرک سے) پاک کرے۔"

یہ دعا دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت کی پیشین گوئی تھی، جسے اللہ تعالیٰ نے پوری فرمائی۔ اس دعا میں رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار عظیم صفات بیان ہوئی ہیں:

  1. تلاوتِ آیات: آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو اللہ کی آیات پڑھ کر سناتے ہیں، تاکہ ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی پیدا ہو۔
  2. تعلیمِ کتاب: آپ لوگوں کو قرآن مجید سکھاتے ہیں، جو زندگی کے ہر شعبے کے لیے مکمل ضابطہ حیات ہے۔
  3. تعلیمِ حکمت: آپ سنت اور شریعت کے اسرار و رموز سکھاتے ہیں، تاکہ لوگ دین کو سمجھ کر اس پر عمل کریں۔
  4. تزکیہ نفس: آپ لوگوں کے دلوں کو شرک، گناہوں اور برے اخلاق سے پاک کرتے ہیں، تاکہ وہ اللہ کے نیک بندے بن سکیں۔

یہ دعا ہمیں سکھاتی ہے کہ دینِ اسلام کی بنیاد علم اور عمل دونوں پر ہے۔ قرآن سیکھنا، اسے سمجھنا، اور پھر اپنے اخلاق و کردار کو پاک کرنا — یہی کامیابی کا راستہ ہے۔

اس دعا کے آخر میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اللہ کی دو صفات بیان کیں: "العزیز" یعنی وہ غالب ہے، اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، اور "الحکیم" یعنی وہ ہر کام حکمت سے کرتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ اللہ نے جو رسول بھیجا، وہ اپنی حکمت سے بھیجا، اور جو دین دیا، وہ اپنی قدرت سے مکمل کیا۔


دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں بتاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ہم پر یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ہمیں ایک ایسا رسول عطا کیا جو ہم میں سے تھا، ہماری زبان بولتا تھا، ہمارے حالات جانتا تھا، اور ہمیں سیدھا راستہ دکھایا۔ آج ہم پر فرض ہے کہ اس عظیم نعمت کی قدر کریں، قرآن کو پڑھیں، سمجھیں، اور اس پر عمل کریں۔ نیز اپنے اخلاق کو پاک کریں، تاکہ ہم اس رسول کے امتی ہونے کا حق ادا کر سکیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دین دیا ہے، وہ مکمل اور جامع ہے — اس پر عمل کرنا ہی ہماری دنیا و آخرت کی کامیابی ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 127-131 — بقرہ

127وَإِذْ يَرْفَعُ إِبْرَاهِيمُ الْقَوَاعِدَ مِنَ الْبَيْتِ وَإِسْمَاعِيلُ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ
اور جب ابراہیم اور اسمٰعیل بیت الله کی بنیادیں اونچی کر رہے تھے (تو دعا کئے جاتے تھے کہ) اے پروردگار، ہم سے یہ خدمت قبول فرما۔ بےشک تو سننے والا (اور) جاننے والا ہے
128رَبَّنَا وَاجْعَلْنَا مُسْلِمَيْنِ لَكَ وَمِن ذُرِّيَّتِنَا أُمَّةً مُّسْلِمَةً لَّكَ وَأَرِنَا مَنَاسِكَنَا وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ
اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے
129رَبَّنَا وَابْعَثْ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْهُمْ يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
130وَمَن يَرْغَبُ عَن مِّلَّةِ إِبْرَاهِيمَ إِلَّا مَن سَفِهَ نَفْسَهُ ۚ وَلَقَدِ اصْطَفَيْنَاهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے
131إِذْ قَالَ لَهُ رَبُّهُ أَسْلِمْ ۖ قَالَ أَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِينَ
جب ان سے ان کے پروردگار نے فرمایا کہ اسلام لے آؤ تو انہوں نے عرض کی کہ میں رب العالمین کے آگے سر اطاعت خم کرتا ہوں
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
129آیت

ترجمہ — بقرہ 129

سورہ بقرہ آیت 129 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر…

سورہ آیت 129/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 127–131. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں