Wa manny yarghabu `am-Millarti Ibraaheema illaa man safiha nafsah; wa laqadis tafainaahu fid-dunyaa wa innaho fil aakhirati laminas saaliheen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چه كسى از كيش ابراهيم روى برمىتابد جز آنكه خود را بىخرد ساخته باشد؟ ابراهيم را در دنيا برگزيديم و او در آخرت نيز از شايستگان است.
اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
یَرْغَبُ عَن: سے منہ موڑنا، ترک کرنا، اعراض کرنا۔
مِلَّةِ إِبْرَاهِيمَ: حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین اور ان کی شریعت۔
سَفِهَ نَفْسَهُ: اپنی جان کو نقصان میں ڈالا، اپنے آپ کو ذلیل و خوار کیا، سفاہت یعنی جہالت اور کم عقلی کا مظاہرہ کیا۔
اصْطَفَيْنَاهُ: ہم نے انہیں چن لیا، منتخب فرمایا۔
تفسیر:
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کا دین حق ہے، اور یہ دین اسلام ہی ہے، کیونکہ اسلام ہی درحقیقت ابراہیم علیہ السلام کی ملت ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ کون ہے جو اس دین حق سے منہ موڑے اور اسے چھوڑ کر کسی اور راستے کو اختیار کرے؟ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس دین سے صرف وہی شخص اعراض کرتا ہے جو سفاہت اور جہالت میں مبتلا ہو، جس نے اپنی جان کو نقصان میں ڈال دیا ہو، اور جس کی عقل کمزور ہو۔ یعنی عقل مند اور سمجھدار انسان کبھی اس دین حق سے منہ نہیں موڑ سکتا، کیونکہ یہی دین فطرت ہے، یہی دین تمام انبیاء کا دین ہے، اور یہی دین کامیابی و نجات کا ذریعہ ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے مقام و مرتبہ کو بیان فرماتے ہیں کہ ہم نے انہیں دنیا میں برگزیدہ بنایا، انہیں نبوت و رسالت کے لیے چن لیا، اور انہیں اپنا خلیل (دوست) بنایا۔ اور آخرت میں بھی وہ صالحین میں سے ہوں گے، یعنی انہیں اعلیٰ درجات اور جنت کی نعمتیں حاصل ہوں گی۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل و کرم ہے جو وہ اپنے برگزیدہ بندوں کو عطا فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دین اسلام ہی وہ سچا دین ہے جس کی بنیاد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے رکھی تھی، اور یہی دین آج تک زندہ و تابندہ ہے۔ جو شخص اس دین سے منہ موڑتا ہے وہ درحقیقت اپنی عقل و دانش کو کھو دیتا ہے، اور اپنے آپ کو نقصان میں ڈالتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دین حق کو مضبوطی سے تھامیں، اس پر عمل کریں، اور اسے اپنی زندگی کا دستور بنائیں۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو دنیا میں برگزیدہ بنایا اور آخرت میں بھی انہیں بلند مقام عطا فرمائے گا، اسی طرح اگر ہم ان کی ملت پر چلیں گے تو ہم بھی اللہ کے فضل سے کامیاب ہوں گے۔ یاد رکھیں، دین اسلام ہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے، اس لیے اس سے منہ موڑنا نہایت احمقانہ حرکت ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں دین حق پر ثابت قدم رکھے اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
اے پروردگار، ہم کو اپنا فرمانبردار بنائے رکھیو۔ اور ہماری اولاد میں سے بھی ایک گروہ کو اپنا مطیع بنائے رہیو، اور (پروردگار) ہمیں طریق عبادت بتا اور ہمارے حال پر (رحم کے ساتھ) توجہ فرما۔ بے شک تو توجہ فرمانے والا مہربان ہے
اے پروردگار، ان (لوگوں) میں انہیں میں سے ایک پیغمبر مبعوث کیجیو جو ان کو تیری آیتیں پڑھ پڑھ کر سنایا کرے اور کتاب اور دانائی سکھایا کرے اور ان (کے دلوں) کو پاک صاف کیا کرے۔ بےشک تو غالب اور صاحبِ حکمت ہے
اور ابراہیم کے دین سے کون رو گردانی کر سکتا ہے، بجز اس کے جو نہایت نادان ہو۔ ہم نے ان کو دنیا میں بھی منتخب کیا تھا اور آخرت میں بھی وہ (زمرہٴ) صلحا میں سے ہوں گے
اور ابرہیم نے اپنے بیٹوں کو اسی بات کی وصیت کی اور یعقوب نے بھی (اپنے فرزندوں سے یہی کہا) کہ بیٹا خدا نے تمہارے لیے یہی دین پسند فرمایا ہے تو مرنا ہے تو مسلمان ہی مرنا
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔