Aw kasaiyibim minas samaaa`i feehi zulumaatunw wa ra`dunw wa barq, yaj`aloona asaabi`ahum feee aazaanihim minas sawaa`iqi hazaral mawt` wallaahu muheetum bilkaafireen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
يا چون بارانى سخت در ظلمت همراه با رعد و برق از آسمان فرود آيد، تا مباد كه از بانگ صاعقه بميرند، انگشتان خويش در گوشها كنند. و خدا بر كافران احاطه دارد.
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
صَیِّب: بارش، مینہ۔
ظُلُمَات: اندھیرے، تاریکیاں۔
رَعْد: گرج، بادل کی گرج۔
بَرْق: بجلی کی چمک۔
صَوَاعِق: صاعقہ کی جمع، کڑکتی ہوئی بجلی جو آگ لگا دیتی ہے اور ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔
حَذَرَ الْمَوْتِ: موت کے ڈر سے۔
مُحِیط: گھیرنے والا، احاطہ کرنے والا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی ایک اور حالت بیان فرمائی ہے، جو ان کی دلی کیفیت کو واضح کرتی ہے۔ وہ یہ کہ جب منافقوں کے سامنے حق ظاہر ہوتا ہے تو وہ کبھی اسے قبول کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں، لیکن جب حق کے تقاضے سخت ہوتے ہیں یا ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اس شخص کی مانند ہے جو کھلے میدان میں چل رہا ہو اور اچانک آسمان سے موسلا دھار بارش شروع ہو جائے، جس کے ساتھ گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو، بادل گرج رہے ہوں، بجلی چمک رہی ہو اور کڑکتی ہوئی بجلی (صاعقہ) گرنے کا خطرہ ہو۔ اس شدید خوف اور ہولناکی کی وجہ سے وہ شخص اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتا ہے تاکہ بجلی کی کڑک کی آواز نہ سنے اور موت سے بچ سکے۔
یہ منافقوں کی بھی کیفیت ہے کہ جب انہیں قرآن کے حقائق سنائے جاتے ہیں یا اسلام کے احکام بتائے جاتے ہیں تو وہ اپنے دلوں میں گھبرا جاتے ہیں اور حق سے منہ موڑ لیتے ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی نہیں ہوتی۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ حق ان پر حجت ثابت نہ ہو جائے اور انہیں اپنے منافقانہ رویے کی سزا نہ ملے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کافروں کو اپنے احاطہ قدرت میں لے چکا ہے، وہ اس سے بھاگ کر نہیں بچ سکتے، نہ ان کی کوئی چال اس سے پوشیدہ ہے۔ اللہ انہیں گھیرے ہوئے ہے اور وہ اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق سے بھاگنا اور اسے سننے سے گریز کرنا کسی کو نہیں بچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو کھلے دل سے سنیں، قرآن کی ہدایت کو قبول کریں اور اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت اور رحمت بنا کر نازل کیا ہے، اسے سننا اور اس پر عمل کرنا ہمارے لیے باعثِ برکت ہے، نہ کہ اس سے بھاگنا۔ یاد رکھیں، اللہ کی گرفت سے کوئی بھی محفوظ نہیں، لیکن اس کی رحمت ہر اس شخص کے لیے وسیع ہے جو اس کی طرف رجوع کرے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔
ان کی مثال اس شخص کی سی ہے کہ جس نے (شبِ تاریک میں) آگ جلائی۔ جب آگ نے اس کے اردگرد کی چیزیں روشن کیں تو خدا نے ان کی روشنی زائل کر دی اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ کچھ نہیں دیکھتے
18صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے
قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔