Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- صَیِّب: بارش، مینہ۔
- ظُلُمَات: اندھیرے، تاریکیاں۔
- رَعْد: گرج، بادل کی گرج۔
- بَرْق: بجلی کی چمک۔
- صَوَاعِق: صاعقہ کی جمع، کڑکتی ہوئی بجلی جو آگ لگا دیتی ہے اور ہلاکت کا سبب بنتی ہے۔
- حَذَرَ الْمَوْتِ: موت کے ڈر سے۔
- مُحِیط: گھیرنے والا، احاطہ کرنے والا۔
تفسیر:
اس آیتِ کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی ایک اور حالت بیان فرمائی ہے، جو ان کی دلی کیفیت کو واضح کرتی ہے۔ وہ یہ کہ جب منافقوں کے سامنے حق ظاہر ہوتا ہے تو وہ کبھی اسے قبول کرنے کی طرف مائل ہوتے ہیں، لیکن جب حق کے تقاضے سخت ہوتے ہیں یا ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ اس سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ ان کی یہ حالت اس شخص کی مانند ہے جو کھلے میدان میں چل رہا ہو اور اچانک آسمان سے موسلا دھار بارش شروع ہو جائے، جس کے ساتھ گھٹا ٹوپ اندھیرا ہو، بادل گرج رہے ہوں، بجلی چمک رہی ہو اور کڑکتی ہوئی بجلی (صاعقہ) گرنے کا خطرہ ہو۔ اس شدید خوف اور ہولناکی کی وجہ سے وہ شخص اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈال لیتا ہے تاکہ بجلی کی کڑک کی آواز نہ سنے اور موت سے بچ سکے۔
یہ منافقوں کی بھی کیفیت ہے کہ جب انہیں قرآن کے حقائق سنائے جاتے ہیں یا اسلام کے احکام بتائے جاتے ہیں تو وہ اپنے دلوں میں گھبرا جاتے ہیں اور حق سے منہ موڑ لیتے ہیں، کیونکہ ان کے دلوں میں ایمان کی روشنی نہیں ہوتی۔ وہ ڈرتے ہیں کہ کہیں یہ حق ان پر حجت ثابت نہ ہو جائے اور انہیں اپنے منافقانہ رویے کی سزا نہ ملے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ کافروں کو اپنے احاطہ قدرت میں لے چکا ہے، وہ اس سے بھاگ کر نہیں بچ سکتے، نہ ان کی کوئی چال اس سے پوشیدہ ہے۔ اللہ انہیں گھیرے ہوئے ہے اور وہ اس کی گرفت سے نکل نہیں سکتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ حق سے بھاگنا اور اسے سننے سے گریز کرنا کسی کو نہیں بچا سکتا۔ اللہ تعالیٰ ہر شخص کے اعمال کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق کو کھلے دل سے سنیں، قرآن کی ہدایت کو قبول کریں اور اپنے دلوں کو ایمان کی روشنی سے منور کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت کی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کو ہدایت اور رحمت بنا کر نازل کیا ہے، اسے سننا اور اس پر عمل کرنا ہمارے لیے باعثِ برکت ہے، نہ کہ اس سے بھاگنا۔ یاد رکھیں، اللہ کی گرفت سے کوئی بھی محفوظ نہیں، لیکن اس کی رحمت ہر اس شخص کے لیے وسیع ہے جو اس کی طرف رجوع کرے اور اپنے گناہوں سے توبہ کرے۔
📜 آیت 17-21 — سورہ بقرہ
ترجمہ — بقرہ 19
سورہ بقرہ آیت 19 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان…سورہ آیت 19/286 — سورہ بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ بقرہ سنیں, سورہ بقرہ ترجمہ, سورہ بقرہ mp3, سورہ بقرہ pdf. آیت 17–21. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


