بقرہ · 20/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ ۖ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۝٢٠
Yakaadul barqu yakhtafu absaarahum kullamaaa adaaa`a lahum mashaw feehi wa izaaa azlama `alaihim qaamoo; wa law shaaa`al laahu lazahaba bisam`ihim wa absaarihim; innal laaha `alaa kulli shai`in Qadeer
📖 اردو ترجمہ
قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • يَكَادُ: قریب ہوتا ہے، تقریباً۔
  • يَخْطَفُ: چھین لیتا ہے، جلدی سے اُچک لیتا ہے۔
  • أَبْصَارَهُمْ: ان کی آنکھوں کی بصارت، ان کی بینائی۔
  • أَضَاءَ: روشن کیا، چمکا۔
  • أَظْلَمَ: اندھیرا ہو گیا، تاریک ہو گیا۔
  • قَامُوا: کھڑے رہ گئے، رک گئے (چل نہ سکے
  • لَذَهَبَ: لے جاتا، ختم کر دیتا۔
  • قَدِيرٌ: ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں منافقوں کی ایک اور مثال بیان فرمائی ہے، جو ان کی باطنی کیفیت کو واضح کرتی ہے۔ جس طرح بارش اور گرج چمک کے منظر میں برق (بجلی) کی چمک اتنی تیز ہوتی ہے کہ قریب ہوتا ہے کہ وہ دیکھنے والوں کی آنکھوں کی روشنی ہی چھین لے، بالکل اسی طرح قرآن مجید کی آیات اور اسلام کی روشن تعلیمات جب منافقوں کے سامنے آتی ہیں تو ان کی آنکھوں کو خیرہ کر دیتی ہیں، کیونکہ وہ حق کو برداشت نہیں کر پاتے۔

پھر فرمایا کہ جب بجلی چمکتی ہے اور راستہ روشن ہو جاتا ہے تو وہ اس کی روشنی میں کچھ قدم چل لیتے ہیں، لیکن جیسے ہی اندھیرا چھا جاتا ہے، وہ کھڑے رہ جاتے ہیں اور آگے نہیں بڑھ پاتے۔ یہ منافقوں کی حالت ہے کہ جب اسلام کو غلبہ حاصل ہوتا ہے اور مسلمانوں کی شان بڑھی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ بھی ساتھ مل کر چلتے ہیں اور فائدہ اٹھاتے ہیں، لیکن جب مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے یا اسلام کو کمزور دیکھتے ہیں تو وہ راہ حق سے رک جاتے ہیں اور اپنے نفاق کی وجہ سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔

اس کے بعد اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت دونوں کو سلب کر لیتا، یعنی انہیں مکمل طور پر اندھا اور بہرا بنا دیتا، لیکن وہ اپنی حکمت سے انہیں مہلت دیتا ہے تاکہ وہ اپنے کیے کا انجام خود دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں، وہ جب چاہے جسے چاہے سزا دے اور جسے چاہے بخش دے۔

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنا چاہیے اور منافقوں کی طرح ڈگمگانے والے نہیں بننا چاہیے۔ ایمان وہ روشنی ہے جو ہمیں ہر اندھیرے میں راستہ دکھاتی ہے، اور جو لوگ اس روشنی سے فائدہ نہیں اٹھاتے، وہ آخرت میں نقصان اٹھائیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے اور ہمیں منافقوں کے راستے سے بچائے۔ آمین۔



📜 آیت 18-22 — بقرہ

18صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ فَهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
(یہ) بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں کہ (کسی طرح سیدھے رستے کی طرف) لوٹ ہی نہیں سکتے
19أَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاءِ فِيهِ ظُلُمَاتٌ وَرَعْدٌ وَبَرْقٌ يَجْعَلُونَ أَصَابِعَهُمْ فِي آذَانِهِم مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ ۚ وَاللَّهُ مُحِيطٌ بِالْكَافِرِينَ
یا ان کی مثال مینہ کی سی ہے کہ آسمان سے (برس رہا ہو اور) اس میں اندھیرے پر اندھیرا (چھا رہا) ہو اور (بادل) گرج (رہا) ہو اور بجلی (کوند رہی) ہو تو یہ کڑک سے (ڈر کر) موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دے لیں اور الله کافروں کو (ہر طرف سے) گھیرے ہوئے ہے
20يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ أَبْصَارَهُمْ ۖ كُلَّمَا أَضَاءَ لَهُم مَّشَوْا فِيهِ وَإِذَا أَظْلَمَ عَلَيْهِمْ قَامُوا ۚ وَلَوْ شَاءَ اللَّهُ لَذَهَبَ بِسَمْعِهِمْ وَأَبْصَارِهِمْ ۚ إِنَّ اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ
قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی بصارت) کو اچک لے جائے۔ جب بجلی (چمکتی اور) ان پر روشنی ڈالی ہے تو اس میں چل پڑتے ہیں اور جب اندھیرا ہو جاتا ہے تو کھڑے کے کھڑے رہ جاتے ہیں اور اگر الله چاہتا تو ان کے کانوں (کی شنوائی) اور آنکھوں (کی بینائی دونوں) کو زائل کر دیتا ہے۔ بے شک الله ہر چیز پر قادر ہے
21يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو
22الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَّكُمْ ۖ فَلَا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَندَادًا وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ
جس نے تمھارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے مینہ برسا کر تمہارے کھانے کے لیے انواع و اقسام کے میوے پیدا کئے۔ پس کسی کو خدا کا ہمسر نہ بناؤ۔ اور تم جانتے تو ہو
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
20آیت

ترجمہ — بقرہ 20

سورہ بقرہ آیت 20 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : قریب ہے کہ بجلی (کی چمک) ان کی آنکھوں (کی…

سورہ آیت 20/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 18–22. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں