بقرہ · 81/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۝٨١
Balaa man kasaba sayyi`atanw wa ahaatat bihee khateee`atuhoo fa-ulaaa`ika Ashaabun Naari hum feehaa khaalidoon
📖 اردو ترجمہ
ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • کَسَبَ سَیِّئَةً: برائی کمائی، گناہ حاصل کیا۔
  • أَحَاطَتْ بِهِ خَطِیئَتُهُ: اس کے گناہ نے اسے ہر طرف سے گھیر لیا، یعنی گناہ اس پر غالب آ گیا اور اسے اپنے قبضے میں لے لیا۔
  • أَصْحَابُ النَّارِ: دوزخ والے، جہنم میں رہنے والے۔
  • خَالِدُونَ: ہمیشہ رہنے والے، دائمی طور پر قیام پذیر۔

تفسیر:

یہ آیت کریمہ ان لوگوں کے خیالِ خام کا رد کرتی ہے جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم تو جہنم میں چند دن ہی رہیں گے، پھر نکل آئیں گے، یا یہ کہ ہمارے آباء و اجداد کی شفاعت ہماری بخشش کا باعث ہوگی۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: "ہرگز نہیں!" یعنی یہ تمہارا گمان غلط ہے، حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اللہ کا فیصلہ اور اس کا قانونِ عدل یہ ہے کہ جس شخص نے سیئہ کمائی، یعنی گناہ اور برائی کو اپنا شیوہ بنایا، اور اس کی خطائیں اس پر اس قدر غالب آگئیں کہ اسے ہر طرف سے گھیر لیا — اس کا دل، اس کی عقل، اس کا عمل سب پر گناہ چھا گیا — اور وہ گناہ پر ہی مرگیا، یعنی کفر و شرک کی حالت میں اس کی زندگی ختم ہوئی، تو ایسے لوگ اصحاب النار ہیں، یعنی جہنم کے مستقل باشندے۔ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، کبھی باہر نہیں نکلیں گے۔

یہاں "سیئہ" سے مراد وہ گناہ ہے جو انسان کو کفر اور شرک تک پہنچا دے، کیونکہ جب گناہ پوری ذات کو گھیر لیتا ہے تو انسان کی فطرت مسخ ہو جاتی ہے اور وہ حق کو قبول کرنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے۔ یہی وہ حالت ہے جو اللہ کی رحمت سے مایوس کر دیتی ہے اور انسان کو دائمی عذاب کا مستحق بنا دیتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں ایک انتہائی اہم سبق ملتا ہے کہ گناہ کو معمولی نہ سمجھیں! چھوٹے گناہ بھی اگر برابر کیے جائیں تو ایک دن بڑے گناہوں کا دروازہ کھول دیتے ہیں۔ شیطان انسان کو دھیرے دھیرے گناہ کی طرف لے جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا دل سخت ہو جاتا ہے اور ایمان کی روشنی ختم ہو جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ گناہوں سے فوراً توبہ کریں، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہوں، کیونکہ اللہ توبہ کرنے والوں کو بہت پسند کرتا ہے۔ لیکن یاد رکھیں، توبہ اس وقت قبول ہوتی ہے جب انسان گناہ چھوڑ دے اور اللہ کی طرف رجوع کرے، موت کے وقت کی توبہ اور کفر پر موت کا انجام بہت برا ہے۔ آئیے ہم اپنے دلوں کو گناہوں سے پاک رکھیں، نماز، ذکر اور قرآن کی تلاوت سے اپنے ایمان کو تازہ رکھیں، تاکہ ہم ان لوگوں میں سے نہ ہوں جن کے گناہ انہیں گھیر لیں، بلکہ ان لوگوں میں سے ہوں جن کے ایمان اور نیکیاں انہیں جنت کی طرف لے جائیں۔ اللہ ہمیں اس توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 79-83 — بقرہ

79فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ يَكْتُبُونَ الْكِتَابَ بِأَيْدِيهِمْ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنْ عِندِ اللَّهِ لِيَشْتَرُوا بِهِ ثَمَنًا قَلِيلًا ۖ فَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكْسِبُونَ
تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں
80وَقَالُوا لَن تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّامًا مَّعْدُودَةً ۚ قُلْ أَتَّخَذْتُمْ عِندَ اللَّهِ عَهْدًا فَلَن يُخْلِفَ اللَّهُ عَهْدَهُ ۖ أَمْ تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں
81بَلَىٰ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَاطَتْ بِهِ خَطِيئَتُهُ فَأُولَٰئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
82وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ
اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے
83وَإِذْ أَخَذْنَا مِيثَاقَ بَنِي إِسْرَائِيلَ لَا تَعْبُدُونَ إِلَّا اللَّهَ وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا وَذِي الْقُرْبَىٰ وَالْيَتَامَىٰ وَالْمَسَاكِينِ وَقُولُوا لِلنَّاسِ حُسْنًا وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ إِلَّا قَلِيلًا مِّنكُمْ وَأَنتُم مُّعْرِضُونَ
اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ اور رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں کے ساتھ بھلائی کرتے رہنا اور لوگوں سے اچھی باتیں کہنا، اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے رہنا، تو چند شخصوں کے سوا تم سب (اس عہد سے) منہ پھیر کر پھر بیٹھے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
81آیت

ترجمہ — بقرہ 81

سورہ بقرہ آیت 81 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر…

سورہ آیت 81/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 79–83. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں