بقرہ · 80/286
ترجمہ تلفظ — بقرہ
وَقَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًا مَّعۡدُودَةًۚ قُلۡ أَتَّخَذۡتُمۡ عِندَ ٱللَّهِ عَهۡدًا فَلَن يُخۡلِفَ ٱللَّهُ عَهۡدَهُۥٓۖ أَمۡ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ  ۝٨٠
Wa qaaloo lan tamassanan Naaru illaaa ayyaamam ma`doo dah; qul attakhaztum `indal laahi `ahdan falai yukhlifal laahu `ahdahooo am taqooloona `alal laahi maa laa ta`lamoon
📖 اردو ترجمہ
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • لَن تَمَسَّنَا النَّارُ: آگ ہمیں ہرگز نہیں چھوئے گی۔
  • أَيَّامًا مَّعْدُودَةً: گنتی کے چند دن (محدود مدت
  • عَهْدًا: وعدہ، اقرار۔
  • تَقُولُونَ عَلَى اللَّهِ: اللہ پر جھوٹ باندھنا، اللہ کی طرف منسوب کرنا۔

تفسیر:

یہ آیت بنی اسرائیل (یہود) کے اس جھوٹے اور مغرورانہ دعوے کا رد کرتی ہے جو انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں آگ (جہنم) ہرگز نہیں چھوئے گی، اور اگر چھوئے گی بھی تو صرف گنتی کے چند دنوں کے لیے، پھر وہ عذاب ہم سے دور ہو جائے گا۔ ان کا یہ خیال تھا کہ ان کے آباء و اجداد نے گائے کے بچھڑے کی عبادت کی تھی، اس لیے ان پر چالیس دن کا عذاب ہوا، اور اب ہم پر بھی اسی طرح صرف چند دن کا عذاب ہوگا، پھر ہم نجات پا جائیں گے۔

اللہ تعالیٰ نے اس دعوے کو باطل قرار دیتے ہوئے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ان سے کہو: "کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لیا ہے؟" یعنی کیا اللہ نے تم سے وعدہ کیا ہے کہ ہم تمہیں صرف چند دن ہی عذاب دیں گے؟ اگر ایسا ہے تو اللہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا، لیکن یہ کوئی وعدہ تمہارے پاس نہیں ہے۔ "یا تم اللہ پر وہ بات کہہ رہے ہو جو تم جانتے نہیں؟" یعنی تم محض اپنی طرف سے جھوٹ گھڑ کر اللہ پر افتراء کر رہے ہو، بغیر کسی دلیل اور علم کے۔

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کے دین میں کوئی بھی بات بغیر علم اور دلیل کے نہیں کہنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں بارہا یہود کے اس غلط عقیدے کا رد کیا ہے کہ انہیں جنت صرف اس لیے ملے گی کہ وہ "اللہ کے بیٹے" یا "اللہ کے چہیتے" ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے ہاں نجات کا دارومدار صرف ایمان اور عمل صالح پر ہے، نہ کہ کسی قوم یا نسل کی خصوصیت پر۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال پر نظر رکھنی چاہیے، نہ کہ محض اپنے نسب یا کسی دعوے پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے والا ہے، اور ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے اعمال کو درست کریں، اور اللہ سے ڈرتے ہوئے اس کی اطاعت کریں، تاکہ ہم اس کے فضل و رحمت کے حقدار بن سکیں۔ یاد رکھیں، اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور اس کا عذاب بھی برحق ہے، لیکن اس کی رحمت بھی وسیع ہے، جو توبہ کرنے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کے لیے ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 78-82 — بقرہ

78وَمِنۡهُمۡ أُمِّيُّونَ لَا يَعۡلَمُونَ ٱلۡكِتَٰبَ إِلَّآ أَمَانِيَّ وَإِنۡ هُمۡ إِلَّا يَظُنُّونَ 
اور بعض ان میں ان پڑھ ہیں کہ اپنے باطل خیالات کے سوا (خدا کی) کتاب سے واقف ہی نہیں اور وہ صرف ظن سے کام لیتے ہیں
79فَوَيۡلٌ لِّلَّذِينَ يَكۡتُبُونَ ٱلۡكِتَٰبَ بِأَيۡدِيهِمۡ ثُمَّ يَقُولُونَ هَٰذَا مِنۡ عِندِ ٱللَّهِ لِيَشۡتَرُواْ بِهِۦ ثَمَنًا قَلِيلًاۖ فَوَيۡلٌ لَّهُم مِّمَّا كَتَبَتۡ أَيۡدِيهِمۡ وَوَيۡلٌ لَّهُم مِّمَّا يَكۡسِبُونَ 
تو ان لوگوں پر افسوس ہے جو اپنے ہاتھ سے تو کتاب لکھتے ہیں اور کہتے یہ ہیں کہ یہ خدا کے پاس سے (آئی) ہے، تاکہ اس کے عوض تھوڑی سے قیمت (یعنی دنیوی منفعت) حاصل کریں۔ ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ (بےاصل باتیں) اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور (پھر) ان پر افسوس ہے، اس لیے کہ ایسے کام کرتے ہیں
80وَقَالُواْ لَن تَمَسَّنَا ٱلنَّارُ إِلَّآ أَيَّامًا مَّعۡدُودَةًۚ قُلۡ أَتَّخَذۡتُمۡ عِندَ ٱللَّهِ عَهۡدًا فَلَن يُخۡلِفَ ٱللَّهُ عَهۡدَهُۥٓۖ أَمۡ تَقُولُونَ عَلَى ٱللَّهِ مَا لَا تَعۡلَمُونَ 
اور کہتے ہیں کہ (دوزخ کی) آگ ہمیں چند روز کے سوا چھو ہی نہیں سکے گی۔ ان سے پوچھو، کیا تم نے خدا سے اقرار لے رکھا ہے کہ خدا اپنے اقرار کے خلاف نہیں کرے گا۔ (نہیں)، بلکہ تم خدا کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہو جن کا تمہیں مطلق علم نہیں
81بَلَىٰۚ مَن كَسَبَ سَيِّئَةً وَأَحَٰطَتۡ بِهِۦ خَطِيٓـَٔتُهُۥ فَأُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلنَّارِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ 
ہاں جو برے کام کرے، اور اس کے گناہ (ہر طرف سے) گھیر لیں تو ایسے لوگ دوزخ (میں جانے) والے ہیں (اور) وہ ہمیشہ اس میں (جلتے) رہیں گے
82وَٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ وَعَمِلُواْ ٱلصَّٰلِحَٰتِ أُوْلَٰٓئِكَ أَصۡحَٰبُ ٱلۡجَنَّةِۖ هُمۡ فِيهَا خَٰلِدُونَ 
اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے
بقرہقرآن فہرست
286آیت
مدنیRevelation
80آیت

ترجمہ — بقرہ 80

سورہ آیت 80/286 — بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: بقرہ سنیں, بقرہ ترجمہ, بقرہ mp3, بقرہ pdf. آیت 78–82. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں