اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ الله نے ان کے کفر کے سبب ان پر لعنت کر رکھی ہے۔ پس یہ تھوڑے ہی پر ایمان لاتے ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
غُلْفٌ: پردہ دار، ڈھکے ہوئے، بند دل۔
لَعَنَهُمُ: انہیں رحمت سے دور کر دیا، پھٹکارا۔
فَقَلِیلًا مَّا یُؤْمِنُونَ: وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں، یا ان کا ایمان نہ ہونے کے برابر ہے۔
تفسیر:
یہ آیت بنی اسرائیل کے اس رویے کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اختیار کیا۔ جب آپ ﷺ انہیں توحید اور حق کی دعوت دیتے تھے، تو وہ تکبر اور ضد کے ساتھ کہتے تھے: "ہمارے دل غُلْف ہیں" یعنی ہمارے دل ڈھکے ہوئے ہیں، ان پر پردہ پڑا ہوا ہے، اس لیے تیری بات ہمارے دلوں تک نہیں پہنچ سکتی، نہ ہم اسے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی قبول کر سکتے ہیں۔ یہ ان کا بہانہ تھا، حقیقت میں ان کے دل سخت اور مردہ ہو چکے تھے، لیکن یہ کہہ کر وہ اپنی نافرمانی اور حق سے روگردانی کو جائز ٹھہرانا چاہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے فرمایا: "بلکہ اللہ نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے لعنت کی ہے" یعنی ان کے دل پردے میں نہیں ہیں، بلکہ ان کے کفر اور سرکشی کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے، ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور وہ ہدایت قبول کرنے کی توفیق سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ لعنت ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، کیونکہ انہوں نے بار بار اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، احکام کی خلاف ورزی کی اور حق کو چھپایا۔
پھر فرمایا: "سو وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں" یعنی ان میں سے صرف بہت تھوڑے لوگ ایمان لاتے ہیں، اور وہ بھی ایسا ایمان جو انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ وہ ایمان کے ساتھ کفر اور نفاق کو ملا دیتے ہیں۔ ان کا ایمان صرف زبانی تھا، دل سے نہیں، اس لیے وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان کا اپنا رویہ اور اعمال ہی اس کی ہدایت یا گمراہی کا سبب بنتے ہیں۔ جو شخص حق سن کر اسے قبول نہیں کرتا، ضد اور تکبر پر اڑا رہتا ہے، تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ جب ہمارے سامنے حق آئے تو ہم اسے کھلے دل سے قبول کریں، کیونکہ دل کی سختی اور ضد انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے، اور قرآن ہمارے لیے ہدایت ہے، اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔ یاد رکھیں، اللہ کے قریب وہی ہوتا ہے جو اپنے دل کو صاف رکھتا ہے اور حق کی پیروی کرتا ہے، چاہے اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
اور ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت کی اور ان کے پیچھے یکے بعد دیگرے پیغمبر بھیجتے رہے اور عیسیٰ بن مریم کو کھلے نشانات بخشے اور روح القدس (یعنی جبرئیل) سے ان کو مدد دی۔تو جب کوئی پیغمبر تمہارے پاس ایسی باتیں لے کر آئے، جن کو تمہارا جی نہیں چاہتا تھا، تو تم سرکش ہو جاتے رہے، اور ایک گروہ (انبیاء) کو تو جھٹلاتے رہے اور ایک گروہ کو قتل کرتے رہے
اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت
جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔