Mishary Rashid Alafasy
✓
Mahmoud Khalil Al-Husary
✓
Abdurrahman As-Sudais
✓
Mohamed Siddiq Al-Minshawi
✓
Abdul Basit Abdul Samad
✓
Ali Al-Hudhaify
✓
Ahmed ibn Ali al-Ajamy
✓
Abu Bakr Ash-Shaatree
✓
Muhammad Ayyoub
✓
Abdullah Basfar
✓
Abdullah Al-Juhani
✓
Maher Al Muaiqly
✓
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- غُلْفٌ: پردہ دار، ڈھکے ہوئے، بند دل۔
- لَعَنَهُمُ: انہیں رحمت سے دور کر دیا، پھٹکارا۔
- فَقَلِیلًا مَّا یُؤْمِنُونَ: وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں، یا ان کا ایمان نہ ہونے کے برابر ہے۔
تفسیر:
یہ آیت بنی اسرائیل کے اس رویے کا ذکر کرتی ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اختیار کیا۔ جب آپ ﷺ انہیں توحید اور حق کی دعوت دیتے تھے، تو وہ تکبر اور ضد کے ساتھ کہتے تھے: "ہمارے دل غُلْف ہیں" یعنی ہمارے دل ڈھکے ہوئے ہیں، ان پر پردہ پڑا ہوا ہے، اس لیے تیری بات ہمارے دلوں تک نہیں پہنچ سکتی، نہ ہم اسے سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی قبول کر سکتے ہیں۔ یہ ان کا بہانہ تھا، حقیقت میں ان کے دل سخت اور مردہ ہو چکے تھے، لیکن یہ کہہ کر وہ اپنی نافرمانی اور حق سے روگردانی کو جائز ٹھہرانا چاہتے تھے۔
اللہ تعالیٰ نے ان کے اس دعوے کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے فرمایا: "بلکہ اللہ نے انہیں ان کے کفر کی وجہ سے لعنت کی ہے" یعنی ان کے دل پردے میں نہیں ہیں، بلکہ ان کے کفر اور سرکشی کی وجہ سے اللہ نے انہیں اپنی رحمت سے دور کر دیا ہے، ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے، اور وہ ہدایت قبول کرنے کی توفیق سے محروم ہو گئے ہیں۔ یہ لعنت ان کے اپنے اعمال کا نتیجہ ہے، کیونکہ انہوں نے بار بار اللہ کے رسولوں کو جھٹلایا، احکام کی خلاف ورزی کی اور حق کو چھپایا۔
پھر فرمایا: "سو وہ بہت کم ایمان لاتے ہیں" یعنی ان میں سے صرف بہت تھوڑے لوگ ایمان لاتے ہیں، اور وہ بھی ایسا ایمان جو انہیں کوئی فائدہ نہیں دیتا، کیونکہ وہ ایمان کے ساتھ کفر اور نفاق کو ملا دیتے ہیں۔ ان کا ایمان صرف زبانی تھا، دل سے نہیں، اس لیے وہ اللہ کے نزدیک قابل قبول نہیں تھا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ انسان کا اپنا رویہ اور اعمال ہی اس کی ہدایت یا گمراہی کا سبب بنتے ہیں۔ جو شخص حق سن کر اسے قبول نہیں کرتا، ضد اور تکبر پر اڑا رہتا ہے، تو اللہ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے اور وہ ہدایت سے محروم ہو جاتا ہے۔ اس لیے ہمیں چاہیے کہ جب ہمارے سامنے حق آئے تو ہم اسے کھلے دل سے قبول کریں، کیونکہ دل کی سختی اور ضد انسان کو اللہ کی رحمت سے دور کر دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہمیں عقل اور سمجھ دی ہے، اور قرآن ہمارے لیے ہدایت ہے، اسے پڑھیں، سمجھیں اور اس پر عمل کریں تاکہ ہم دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوں۔ یاد رکھیں، اللہ کے قریب وہی ہوتا ہے جو اپنے دل کو صاف رکھتا ہے اور حق کی پیروی کرتا ہے، چاہے اسے کتنی ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔
📜 آیت 86-90 — سورہ بقرہ
ترجمہ — بقرہ 88
سورہ بقرہ آیت 88 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور کہتے ہیں، ہمارے دل پردے میں ہیں۔ (نہیں) بلکہ…سورہ آیت 88/286 — سورہ بقرہ البقرة (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: سورہ بقرہ سنیں, سورہ بقرہ ترجمہ, سورہ بقرہ mp3, سورہ بقرہ pdf. آیت 86–90. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Monday, September 28, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں


