اور موسیٰ تمہارے پاس کھلے ہوئے معجزات لے کر آئے تو تم ان کے (کوہِ طور جانے کے) بعد بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے اور تم (اپنے ہی حق میں) ظلم کرتے تھے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
بَیِّنات: واضح دلائل اور معجزات، جو حق کو ثابت کرنے والی ہوں۔
اتَّخَذتُمُ العِجل: تم نے گائے کے بچھڑے کو معبود بنا لیا۔
مِن بَعدِهِ: موسیٰ علیہ السلام کے جانے کے بعد (کوہِ طور پر مناجات کے لیے)۔
ظالِمون: حد سے تجاوز کرنے والے، حق کو چھوڑ کر باطل پر چلنے والے۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو یاد دلاتے ہیں کہ موسیٰ علیہ السلام تمہارے پاس ایسے واضح معجزات اور دلائل لے کر آئے جو ان کی صداقت اور نبوت پر گواہ تھے، جیسے طوفان، ٹڈی دل، جوئیں، مینڈک اور خون وغیرہ، نیز عصا کا اژدہا بننا اور یدِ بیضا۔ یہ سب نشانیاں اس قدر روشن تھیں کہ کسی عقل سلیم والے کے لیے انکار کی گنجائش نہ تھی۔ لیکن جب موسیٰ علیہ السلام اپنے رب کی مناجات کے لیے چالیس راتوں کے لیے گئے، تو تم نے ان کی غیر موجودگی میں ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا، جو سونے سے بنا ہوا تھا اور اس کی آواز نکلتی تھی۔ یہ کام تم نے اس حال میں کیا کہ تم ظالم تھے، یعنی تم جانتے ہوئے بھی حق سے منہ موڑ کر اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے، کیونکہ تم نے اللہ کی عبادت چھوڑ کر ایک بےجان بت کی پرستش شروع کر دی۔
یہ واقعہ بنی اسرائیل کی سرکشی اور ناشکری کی انتہا کو ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے اتنی بڑی نعمتوں اور معجزات کے باوجود اللہ کے ساتھ شرک کیا۔ اس میں عبرت ہے کہ انسان جب اپنی خواہشات کا غلام بن جاتا ہے تو روشن دلائل بھی اسے راہِ راست پر نہیں لا سکتے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں سبق ملتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر بے شمار احسانات کرتا ہے اور ان کی ہدایت کے لیے انبیاء اور معجزات بھیجتا ہے، لیکن انسان کی کمزوری یہ ہے کہ وہ جلد ہی نعمتوں کو بھول جاتا ہے اور گمراہی کی طرف مائل ہو جاتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کریں اور اپنے ایمان پر ثابت قدم رہیں، کیونکہ شیطان ہمیشہ ہمیں صحیح راستے سے بھٹکانے کی کوشش کرتا ہے۔ جو لوگ اللہ کے احکام پر عمل کرتے ہیں اور اپنے ایمان کو مضبوط رکھتے ہیں، اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو شرک اور گمراہی سے پاک رکھیں اور صرف اللہ کی عبادت کریں، جو ہمارا خالق اور مالک ہے۔
جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔