Wa izaa qeela lahum aaminoo bimaaa anzalal laahu qaaloo nu`minu bimaaa unzila `alainaa wa yakfuroona bimaa waraaa`ahoo wa huwal haqqu musaddiqal limaa ma`ahum; qul falima taqtuloona Ambiyaaa`al laahi min qablu in kuntum mu`mineen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و چون به آنها گفته شود كه به آنچه خدا نازل كرده است ايمان بياوريد، مىگويند: ما به آنچه بر خودمان نازل شده است ايمان مى آوريم. و به غير آن هر چند با حقيقت همراه باشد و كتابشان را هم تصديق كند، ايمان نمىآورند. بگو: اگر شما ايمان آورده بوديد، از چه روى پيامبران خدا را پيش از اين مىكشتيد؟
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
آمِنُوا: ایمان لاؤ، تصدیق کرو۔
بِمَا أَنزَلَ اللَّهُ: اس (کتاب) پر جو اللہ نے نازل کیا ہے (یعنی قرآن)۔
نُؤْمِنُ بِمَا أُنزِلَ عَلَيْنَا: ہم اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوا (یعنی تورات)۔
وَرَاءَهُ: اس کے علاوہ، اس کے سوا۔
مُصَدِّقًا لِّمَا مَعَهُمْ: تصدیق کرنے والا اس (کتاب) کی جو ان کے پاس ہے (یعنی تورات)۔
تفسیر:
جب مسلمان یہودیوں سے کہتے ہیں کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے (یعنی قرآن مجید) اس پر ایمان لاؤ، تو وہ جواب دیتے ہیں: "ہم تو صرف اس پر ایمان رکھتے ہیں جو ہم پر نازل ہوا ہے" یعنی تورات پر، اور اس کے علاوہ جو کچھ بھی ہے اس کا انکار کر دیتے ہیں۔ حالانکہ یہ قرآن جو نازل ہوا ہے، وہ حق ہے اور ان کی اپنی کتاب (تورات) کی تصدیق کرتا ہے۔ اگر وہ واقعی اپنی کتاب پر ایمان رکھتے ہیں، تو انہیں قرآن پر بھی ایمان لانا چاہیے، کیونکہ قرآن وہی پیغام لے کر آیا ہے جو تورات میں تھا، اور وہ اس کی تصدیق کرتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کو حکم دیتا ہے کہ ان سے کہیں: "اگر تم واقعی اپنی کتاب (تورات) پر ایمان رکھتے ہو، تو پھر تم نے ماضی میں اللہ کے نبیوں کو کیوں قتل کیا؟" یہ ایک ایسا سوال ہے جو ان کے دعوائے ایمان کو جھٹلا دیتا ہے، کیونکہ جو شخص واقعی ایمان رکھتا ہو وہ اللہ کے نبیوں کو قتل نہیں کر سکتا۔ ان کے آباء و اجداد نے انبیاء کو قتل کیا، اور یہ لوگ اپنے آباء کے اس فعل پر راضی تھے، گویا انہوں نے خود بھی یہ جرم کیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے کہ ایمان صرف زبانی دعویٰ نہیں ہوتا، بلکہ ایمان کا تقاضا ہے کہ انسان اللہ کے بھیجے ہوئے ہر پیغام کو قبول کرے، چاہے وہ کسی بھی نبی کے ذریعے آیا ہو۔ جو شخص صرف ایک کتاب پر ایمان رکھے اور دوسری کا انکار کر دے، اس کا ایمان ادھورا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم قرآن اور سنت پر مکمل ایمان رکھیں، اور کسی بھی ایسی چیز کو رد نہ کریں جو اللہ کی طرف سے آئی ہو۔ یہی سچا ایمان ہے جو انسان کو کامیابی کی راہ دکھاتا ہے۔ اللہ ہمیں کامل ایمان عطا فرمائے اور ہمیں ان لوگوں میں شامل نہ کرے جو حق کو دیکھ کر بھی اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔ آمین۔
اور جب الله کے ہاں سے ان کے پاس کتاب آئی جو ان کی (آسمانی) کتاب کی بھی تصدیق کرتی ہے، اور وہ پہلے (ہمیشہ) کافروں پر فتح مانگا کرتے تھے، تو جس چیز کو وہ خوب پہچانتے تھے، جب ان کے پاس آپہنچی تو اس سے کافر ہو گئے۔ پس کافروں پر الله کی لعنت
جس چیز کے بدلے انہوں نے اپنے تئیں بیچ ڈالا، وہ بہت بری ہے، یعنی اس جلن سے کہ خدا اپنے بندوں میں جس پر چاہتا ہے، اپنی مہربانی سے نازل فرماتا ہے۔ خدا کی نازل کی ہوئی کتاب سے کفر کرنے لگے تو وہ (اس کے) غضب بالائے غضب میں مبتلا ہو گئے۔ اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ جو (کتاب) خدا نے (اب) نازل فرمائی ہے، اس کو مانو۔ تو کہتے ہیں کہ جو کتاب ہم پر (پہلے) نازل ہو چکی ہے، ہم تو اسی کو مانتے ہیں۔ (یعنی) یہ اس کے سوا کسی اور (کتاب) کو نہیں مانتے، حالانکہ وہ (سراسر) سچی ہے اور جو ان کی (آسمانی) کتاب ہے، اس کی بھی تصدیق کرتی ہے۔ (ان سے) کہہ دو کہ اگر تم صاحبِ ایمان ہوتے تو الله کے پیغمبروں کو پہلے ہی کیوں قتل کیا کرتے
اور جب ہم نے تم (لوگوں) سے عہد واثق لیا اور کوہ طور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا کہ) جو (کتاب) ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑو اور جو تمہیں حکم ہوتا ہے (اس کو) سنو تو وہ (جو تمہارے بڑے تھے) کہنے لگے کہ ہم نے سن تو لیا لیکن مانتے نہیں۔ اور ان کے کفر کے سبب بچھڑا (گویا) ان کے دلوں میں رچ گیا تھا۔ (اے پیغمبر ان سے) کہہ دو کہ اگر تم مومن ہو تو تمہارا ایمان تم کو بری بات بتاتا ہے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔