ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- تابوت: لکڑی کا صندوق جس میں بچہ رکھا گیا۔
- یم: دریا، خاص طور پر دریائے نیل۔
- ساحل: کنارہ، دریا کا ساحل۔
- محبت منی: میری طرف سے محبت، اللہ کی خاص محبت۔
- لتصنع علی عینی: میری آنکھوں کے سامنے تربیت پانا، میری نگہداشت میں پرورش پانا۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ولادت کے وقت کے حالات بیان فرما رہے ہیں۔ جب فرعون کے ظلم کی وجہ سے بنی اسرائیل کے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کیا جا رہا تھا، تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کی والدہ کو الہام (دل میں ڈالا) کہ اس بچے کو جب پیدا ہو تو اسے ایک صندوق میں رکھ کر دریائے نیل میں ڈال دو۔ یہ حکم سن کر ماں کا دل کانپ اٹھا، لیکن اللہ نے اسے یقین دلایا کہ دریا اس بچے کو ساحل پر لے آئے گا، اور وہاں سے اسے فرعون اٹھائے گا، جو اللہ کا اور خود موسیٰ کا دشمن تھا۔
اس طرح اللہ نے اپنی حکمت سے بچے کو دشمن کے گھر میں محفوظ رکھا، اور فرعون کے محل میں پرورش پائی، تاکہ وہی شخص جو بنی اسرائیل کے بچوں کو قتل کر رہا تھا، خود موسیٰ کو پالے۔ یہ اللہ کی قدرت کا کمال ہے کہ وہ دشمن کے ذریعے اپنے ولی کی حفاظت کرواتا ہے۔
پھر اللہ فرماتا ہے: "اور میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت ڈال دی" یعنی اللہ نے موسیٰ کو ایسی صورت اور سیرت عطا کی کہ جو کوئی بھی انہیں دیکھتا، ان سے محبت کرنے لگتا۔ یہاں تک کہ فرعون کا دل بھی ان پر مہربان ہو گیا اور اس نے انہیں اپنے گھر میں رکھ لیا۔ یہ اللہ کی خاص رحمت تھی۔
اور "لتصنع علی عینی" کا مطلب ہے کہ تم میری آنکھوں کے سامنے تربیت پاؤ، میری نگہداشت اور حفاظت میں پرورش پاؤ۔ یہ اللہ کی طرف سے موسیٰ علیہ السلام کے لیے ایک بہت بڑا اعزاز ہے کہ ان کی تربیت خود اللہ کی نگرانی میں ہوئی، اور انہیں نبوت کے لیے تیار کیا گیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ جب اللہ کسی کام کا حکم دیتا ہے، تو وہ اس کے ساتھ اس کے نتائج کی ضمانت بھی دیتا ہے۔ حضرت موسیٰ کی والدہ نے اللہ کے حکم پر عمل کیا، حالانکہ ظاہری طور پر یہ بہت خطرناک لگ رہا تھا، لیکن اللہ نے اسے کامیاب بنایا۔ آج بھی جب ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں اور اس کے حکموں پر عمل کرتے ہیں، تو اللہ ہمارے لیے ایسے راستے کھولتا ہے جن کا ہمیں اندازہ بھی نہیں ہوتا۔
یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر محبت کرتا ہے اور انہیں دشمنوں کے درمیان بھی محفوظ رکھتا ہے۔ اگر ہم اللہ کے ساتھ تعلق مضبوط کریں، تو وہ ہمیں ہر مشکل سے نکال لے گا۔ اللہ کی محبت سب سے بڑی نعمت ہے، اور جو بندہ اللہ کا محبوب بن جائے، اسے دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہنچا سکتی۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کو "علی عینی" یعنی اپنی خاص نگہداشت میں تربیت دی، اور آج بھی اللہ اپنے نیک بندوں کی حفاظت کرتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کی تربیت اللہ کے احکام کے مطابق کریں، اور انہیں سکھائیں کہ اللہ پر بھروسہ رکھنے والوں کو کبھی ذلیل نہیں ہونا پڑتا۔
📜 آیت 37-41 — طہ
ترجمہ — طہ 39
سورہ طہ آیت 39 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں…سورہ آیت 39/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 37–41. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








