طہ · 40/135
ترجمہ تلفظ — طہ
إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَن يَكْفُلُهُ ۖ فَرَجَعْنَاكَ إِلَىٰ أُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِي أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍ يَا مُوسَىٰ ۝٤٠
Iz tamsheee ukhtuka fataqoolu hal adullukum `alaa mai yakfuluhoo faraja `naaka ilaaa ummika kai taqarra `ainuhaa wa laa tahzan; wa qatalta nafsan fanajjainaaka minal ghammi wa fatannaaka futoonaa; falabista sineena feee ahli Madyana summa ji`ta `alaa qadariny yaa Moosa
📖 اردو ترجمہ
جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اس کو پالے۔ تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے۔ پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آ پہنچے

🎧 سنیں
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • تَمْشِي أُخْتُكَ: تمہاری بہن (حضرت مریم علیہا السلام) چل رہی تھیں۔
  • يَكْفُلُهُ: جو اس کی کفالت کرے، یعنی دودھ پلائے اور پرورش کرے۔
  • فَرَجَعْنَاكَ: ہم نے تمہیں واپس لوٹا دیا۔
  • تَقَرَّ عَيْنُهَا: اس کی آنکھ ٹھنڈی ہو جائے (یعنی خوش ہو جائے
  • فَتَنَّاكَ فُتُونًا: ہم نے تمہیں آزمائشوں میں ڈالا۔
  • عَلَىٰ قَدَرٍ: ایک مقررہ وقت پر، جو اللہ کے علم میں طے شدہ تھا۔

تفسیر:

اللہ تعالیٰ اپنے نبی حضرت موسیٰ علیہ السلام پر اپنے عظیم احسانات کا ذکر فرما رہے ہیں، تاکہ وہ اپنے رب کے فضل و کرم کو یاد کریں اور دل سے شکر گزار ہوں۔ اللہ فرماتا ہے کہ اے موسیٰ! ہم نے تم پر احسان کیا جب تمہاری بہن تمہارے پیچھے پیچھے چل رہی تھیں، اور وہ دیکھ رہی تھیں کہ تمہیں فرعون کے گھر والے اٹھا لے گئے ہیں۔ تمہاری بہن نے اس وقت بڑی دانائی اور ہمت سے کام لیا جب اس نے فرعون کے لوگوں سے کہا: "کیا میں تمہیں ایسی عورت کا پتہ بتاؤں جو اس بچے کی کفالت کرے اور اسے دودھ پلائے؟" یہ سن کر انہوں نے اسے اجازت دی، تو وہ تمہاری والدہ کے پاس گئیں اور انہیں بلوا لائیں۔ اس طرح اللہ نے تمہیں تمہاری ماں کی آغوش میں واپس لوٹا دیا، تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو۔ یہ اللہ کی رحمت تھی کہ اس نے ایک ماں کے دل کا خیال رکھا اور اس کے بچے کو اسے واپس عطا کیا۔

پھر اللہ تعالیٰ موسیٰ علیہ السلام کو ایک اور احسان یاد دلاتا ہے کہ تم نے ایک شخص (قبطی) کو قتل کر دیا تھا، اور یہ کام تمہارے اختیار سے نہیں بلکہ ایک غلطی تھی۔ اس کے بعد تم سخت پریشانی اور خوف میں مبتلا ہو گئے کہ کہیں فرعون تمہیں پکڑ نہ لے۔ اللہ نے تمہیں اس غم اور خوف سے نجات دی اور تمہیں آزمائشوں میں ڈالا، تاکہ تمہارا ایمان اور صبر پختہ ہو۔ تم مدین کی طرف نکل گئے اور وہاں کئی سال گزارے، حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہے۔ پھر جب اللہ نے چاہا، تم اس مقررہ وقت پر واپس آئے جس کا اللہ نے اپنے علم میں طے کر رکھا تھا، تاکہ تمہیں نبوت عطا کی جائے اور فرعون کے پاس بھیجا جائے۔

یہ سب کچھ اللہ کی حکمت اور منصوبہ بندی کے تحت ہوا، کیونکہ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور اپنے بندوں کے ساتھ بہترین سلوک کرتا ہے۔ اے موسیٰ! یہ سب اللہ کی طرف سے تم پر احسان ہے، لہٰذا اللہ کا شکر ادا کرو اور اس کے حکم کی تعمیل کرو۔

دعوتی پہلو:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ اپنے نبی پر اپنے احسانات گنوا رہے ہیں، اور یہ ہمارے لیے ایک سبق ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کے احسانات کو یاد رکھنا چاہیے اور اس کا شکر ادا کرنا چاہیے۔ اللہ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو ہر مشکل سے نکالا، اسی طرح وہ ہماری مشکلات بھی حل فرمائے گا اگر ہم اس پر بھروسہ کریں اور اس کی رحمت سے امید رکھیں۔ اللہ کبھی اپنے بندوں کو تنہا نہیں چھوڑتا، چاہے حالات کتنے ہی سخت ہوں۔ ہمیں چاہیے کہ ہر حال میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی طرف رجوع کریں، کیونکہ وہی ہے جو رنج و غم کو خوشی میں بدل دیتا ہے اور مشکل کو آسان کر دیتا ہے۔



📜 آیت 38-42 — طہ

38إِذْ أَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّكَ مَا يُوحَىٰ
جب ہم نے تمہاری والدہ کو الہام کیا تھا جو تمہیں بتایا جاتا ہے
39أَنِ اقْذِفِيهِ فِي التَّابُوتِ فَاقْذِفِيهِ فِي الْيَمِّ فَلْيُلْقِهِ الْيَمُّ بِالسَّاحِلِ يَأْخُذْهُ عَدُوٌّ لِّي وَعَدُوٌّ لَّهُ ۚ وَأَلْقَيْتُ عَلَيْكَ مَحَبَّةً مِّنِّي وَلِتُصْنَعَ عَلَىٰ عَيْنِي
(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ
40إِذْ تَمْشِي أُخْتُكَ فَتَقُولُ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَىٰ مَن يَكْفُلُهُ ۖ فَرَجَعْنَاكَ إِلَىٰ أُمِّكَ كَيْ تَقَرَّ عَيْنُهَا وَلَا تَحْزَنَ ۚ وَقَتَلْتَ نَفْسًا فَنَجَّيْنَاكَ مِنَ الْغَمِّ وَفَتَنَّاكَ فُتُونًا ۚ فَلَبِثْتَ سِنِينَ فِي أَهْلِ مَدْيَنَ ثُمَّ جِئْتَ عَلَىٰ قَدَرٍ يَا مُوسَىٰ
جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اس کو پالے۔ تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے۔ پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آ پہنچے
41وَاصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِي
اور میں نے تم کو اپنے (کام کے) لئے بنایا ہے
42اذْهَبْ أَنتَ وَأَخُوكَ بِآيَاتِي وَلَا تَنِيَا فِي ذِكْرِي
تو تم اور تمہارا بھائی دونوں ہماری نشانیاں لے کر جاؤ اور میری یاد میں سستی نہ کرنا
طہقرآن فہرست
135آیت
مکیRevelation
40آیت

ترجمہ — طہ 40

سورہ طہ آیت 40 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی…

سورہ آیت 40/135 — طہ طه (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: طہ سنیں, طہ ترجمہ, طہ mp3, طہ pdf. آیت 38–42. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں