"اصطنعتُ" کا مطلب ہے: میں نے تجھے خاص طور پر اپنے لیے منتخب کیا، تربیت دی اور تیار کیا۔ "لِنَفْسِي" یعنی میرے لیے، میری رسالت اور پیغام کی تبلیغ کے لیے۔
تفسیر:
اے موسیٰ! میں نے تجھے اپنی ذات کے لیے چنا ہے، تجھے اپنی رسالت کا امین بنایا ہے، اور اپنے پیغام کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے تیار کیا ہے۔ یہ انتخاب محض اتفاق نہیں، بلکہ میری مشیت اور حکمت کا تقاضا تھا۔ میں نے تجھے اپنے قرب کا شرف عطا کیا، اپنی وحی کا نزول کیا، اور تیرے ذریعے اپنے احکام کو بندوں تک پہنچانا چاہا۔ تیری پرورش میرے گھر میں ہوئی، تیری حفاظت میرے اہتمام سے ہوئی، اور تیرا مقام میرے نزدیک بلند کیا گیا۔ یہ وہ عظیم فضل ہے جو میں نے تجھ پر کیا، تاکہ تو میری طرف سے لوگوں کو حق کی دعوت دے اور انہیں میرے حکم کی پیروی کی تلقین کرے۔
دعوتی انداز:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی خاص رحمت اور قربت سے نوازتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام کا یہ مقام اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اپنے بندوں کو ان کی محنت اور اخلاص کی وجہ سے بلند مرتبہ عطا فرماتا ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ کی رضا کے لیے کام کریں، اس کے دین کی خدمت کریں، اور اس کی طرف بلانے والے بنیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی تنہا نہیں چھوڑتا، بلکہ انہیں اپنی خاص تائید اور نصرت سے نوازتا ہے۔ آئیے ہم بھی اپنی زندگیوں کو اللہ کی رضا کے مطابق ڈھالیں اور اس کے دین کی خدمت کو اپنا شعار بنائیں، تاکہ ہم بھی اس کے قرب اور محبت کے مستحق بن سکیں۔
(وہ یہ تھا) کہ اسے (یعنی موسیٰ کو) صندوق میں رکھو پھر اس (صندوق) کو دریا میں ڈال دو تو دریا اسے کنارے پر ڈال دے گا (اور) میرا اور اس کا دشمن اسے اٹھا لے گا۔ اور (موسیٰ) میں نے تم پر اپنی طرف سے محبت ڈال دی ہے (اس لئے کہ تم پر مہربانی کی جائے) اور اس لئے کہ تم میرے سامنے پرورش پاؤ
جب تمہاری بہن (فرعون کے ہاں) گئی اور کہنے لگی کہ میں تمہیں ایسا شخص بتاؤں جو اس کو پالے۔ تو (اس طریق سے) ہم نے تم کو تمہاری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ رنج نہ کریں۔ اور تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تو ہم نے تم کو غم سے مخلصی دی اور ہم نے تمہاری (کئی بار) آزمائش کی۔ پھر تم کئی سال اہل مدین میں ٹھہرے رہے۔ پھر اے موسیٰ تم (قابلیت رسالت کے) اندازے پر آ پہنچے
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔