ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- الْخَبِيثَاتُ: خبیث عورتیں، خبیث باتیں، خبیث اعمال
- الْخَبِيثُونَ: خبیث مرد، خبیث لوگ
- الطَّيِّبَاتُ: پاکیزہ عورتیں، پاکیزہ باتیں، پاکیزہ اعمال
- الطَّيِّبُونَ: پاکیزہ مرد، پاکیزہ لوگ
- مُبَرَّءُونَ: پاک صاف، بری الذمہ قرار دیے گئے
- رِزْقٌ كَرِيمٌ: عزت والا رزق، یعنی جنت
تفسیر:
یہ آیت کریمہ ایک عظیم اصول اور کلی ضابطہ بیان کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ ہے کہ خبیث چیزیں، خبیث لوگ اور خبیث باتیں ایک دوسرے کے لیے مناسب ہوتی ہیں، اور پاکیزہ چیزیں، پاکیزہ لوگ اور پاکیزہ باتیں ایک دوسرے کے لیے موزوں ہوتی ہیں۔ یعنی ہر شخص اپنی فطرت اور اپنے حال کے مطابق ہی بات کرتا ہے اور اسی کے مطابق اس کا میل جول ہوتا ہے۔ خبیث آدمی سے خبیث ہی باتیں صادر ہوتی ہیں، اور پاکیزہ آدمی سے پاکیزہ ہی باتیں نکلتی ہیں۔
یہ آیت اس تناظر میں نازل ہوئی کہ منافقین اور مشرکین نے امہات المؤمنین خصوصاً حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پر بہتان تراشا تھا، جسے "واقعۂ افک" کہا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں یہ واضح فرما دیا کہ خبیث باتیں خبیث لوگوں ہی کے شایانِ شان ہوتی ہیں، اور پاکیزہ باتیں پاکیزہ لوگوں ہی کی شان ہوتی ہیں۔ نبی کریم ﷺ پاکیزہ ترین انسان ہیں، اور آپ کی ازواج مطہرات پاکیزہ ترین عورتیں ہیں، اس لیے ان کے بارے میں خبیث باتیں کہنا خود خبیث لوگوں کی نشانی ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ پاکیزہ لوگ (یعنی نبی ﷺ اور آپ کی ازواج مطہرات اور تمام نیک لوگ) ان تمام باتوں سے بری اور پاک ہیں جو خبیث لوگ ان کے بارے میں کہتے ہیں۔ ان کے لیے اللہ کی طرف سے مغفرت ہے جو ان کے تمام گناہوں کو ڈھانپ لے گی، اور ان کے لیے عزت والا رزق ہے جو جنت ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں۔ سب سے پہلا سبق یہ ہے کہ انسان کی زبان اس کے دل کا ترجمان ہوتی ہے۔ جس کا دل پاک ہوتا ہے، اس کی زبان سے پاکیزہ باتیں نکلتی ہیں، اور جس کا دل خبیث ہوتا ہے، اس کی زبان سے خبیث باتیں صادر ہوتی ہیں۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے دلوں کو پاک رکھیں، تاکہ ہماری زبانیں بھی پاک رہیں۔
دوسرا سبق یہ ہے کہ بہتان تراشنا اور تہمت لگانا خبیث لوگوں کا شیوہ ہے۔ ایک مومن کبھی کسی پاک دامن انسان پر بہتان نہیں لگاتا۔ اگر ہم کسی کے بارے میں بری بات سنیں تو اس کی تصدیق نہ کریں، بلکہ اللہ سے ڈریں اور اچھی گمان رکھیں۔
تیسرا سبق یہ ہے کہ نیک لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مغفرت اور جنت کی خوشخبری ہے۔ جو لوگ پاکیزہ زندگی گزارتے ہیں، اللہ انہیں عزت دیتا ہے اور ان کے دشمنوں کی سازشیں ناکام بنا دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ سچائی اور پاکیزگی ہمیشہ غالب آتی ہے، چاہے تھوڑی دیر کے لیے خبیث لوگ کتنا ہی شور مچا لیں۔
آخر میں ہم دعا کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں پاکیزہ دل، پاکیزہ زبان اور پاکیزہ اعمال عطا فرمائے، اور ہمیں خبیث باتوں اور خبیث لوگوں کی صحبت سے محفوظ رکھے۔ آمین۔
📜 آیت 24-28 — نور
ترجمہ — نور 26
سورہ نور آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : ناپاک عورتیں ناپاک مردوں کے لئے اور ناپاک مرد ناپاک…سورہ آیت 26/64 — نور النور (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نور سنیں, نور ترجمہ, نور mp3, نور pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








