ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أجر: بدلہ، معاوضہ، اجرت۔
- رب العالمین: تمام جہانوں کا پالنے والا، پروردگارِ کائنات۔
تفسیرِ آیہ:
حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم عاد کو دعوتِ توحید دے رہے تھے اور انہیں اللہ تعالیٰ کا خوف دلانے کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقین دلا رہے تھے کہ میں تم سے اس دعوت و ہدایت کے عوض کوئی اجرت یا معاوضہ طلب نہیں کرتا۔ میرا اجر اور میری جزا صرف اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے، جو تمام جہانوں کا خالق اور مالک ہے۔ میں تمہاری ہدایت کو اپنے دنیاوی فائدے کا ذریعہ نہیں بناتا، نہ ہی تم سے کوئی مالی یا مادی چیز چاہتا ہوں۔ میری تمام تر توقع اور بھروسہ صرف اللہ پر ہے، کیونکہ وہی ہے جو اپنے نیک بندوں کو بہترین اجر عطا فرماتا ہے۔
یہ وہی طرزِ عمل ہے جو تمام انبیاء کرام علیہم السلام کا رہا ہے۔ وہ لوگوں کی رہنمائی کو تجارت نہیں بناتے تھے، بلکہ خالصۃً اللہ کی رضا کے لیے دعوت دیتے تھے۔ اس آیت میں دعوتِ دین کے لیے ایک عظیم اصول بیان کیا گیا ہے کہ داعی کو اپنی دعوت پر کوئی دنیاوی معاوضہ نہیں مانگنا چاہیے، بلکہ اس کا اجر اللہ تعالیٰ سے وابستہ ہونا چاہیے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ دینِ اسلام کی تبلیغ و دعوت خالص نیت سے ہونی چاہیے، بغیر کسی دنیاوی غرض کے۔ جب داعی اپنی دعوت کو خالص اللہ کے لیے کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے کامیابی عطا فرماتا ہے اور اس کے دل میں خلوص پیدا کرتا ہے۔ نیز یہ کہ ہمیں اپنے اعمال کا اجر صرف اللہ سے مانگنا چاہیے، کیونکہ وہی بہترین اجر دینے والا ہے۔ جو شخص اپنے عمل کو خالص اللہ کے لیے کرتا ہے، اللہ اسے دنیا اور آخرت دونوں میں بہترین بدلہ عطا فرماتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی کے تمام معاملات میں اسی اخلاص کو اپنائیں اور کسی سے کوئی دنیاوی فائدہ حاصل کرنے کی نیت نہ رکھیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے مخلص بندوں کو کبھی محروم نہیں رکھتا۔
📜 آیت 125-129 — شعراء
ترجمہ — شعراء 127
سورہ شعراء آیت 127 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور میں اس کا تم سے کچھ بدلہ نہیں مانگتا۔…سورہ آیت 127/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 125–129. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








