ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رِیع: اونچی جگہ، بلند مقام، راستے کے قریب بلندی۔
- آیة: علامت، نشانی، بڑی عمارت۔
- تعبتون: کھیلتے ہو، مذاق اڑاتے ہو، بے مقصد کام کرتے ہو۔
تفسیر:
اس آیت میں حضرت ہود علیہ السلام اپنی قوم عاد کو مخاطب کر کے فرماتے ہیں: کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک نشانی (بڑی عمارت) بناتے ہو، محض کھیل اور مذاق کے لیے؟ تم راستوں اور بلندیوں پر ایسے مکان تعمیر کرتے ہو تاکہ گزرنے والوں کو نیچے سے دیکھ کر ان پر ہنسیں اور ان کا مذاق اڑائیں۔ یہ کام نہ تو دنیا کے کسی فائدے کے لیے ہے اور نہ آخرت کے لیے، بلکہ خالص فضول اور عبث ہے۔ تم اپنی طاقت اور وسائل کو ایسے کاموں میں ضائع کرتے ہو جس سے کوئی بھلائی حاصل نہیں ہوتی۔
یہ وہی قوم تھی جسے اللہ نے بڑی نعمتیں دی تھیں، طاقت، مال اور وسائل سب کچھ عطا کیا تھا، لیکن انہوں نے ان نعمتوں کو اللہ کی اطاعت میں نہیں بلکہ سرکشی اور بے مقصد کاموں میں صرف کیا۔ وہ اونچی عمارتیں بناتے تھے تاکہ لوگوں پر برتری حاصل کریں اور انہیں حقیر جانیں۔ یہ ان کا غرور اور تکبر تھا جو انہیں ہلاکت کی طرف لے گیا۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں ایک بہت بڑا سبق ملتا ہے کہ اللہ نے ہمیں جو طاقت، مال اور وسائل دیے ہیں، انہیں ہمیں اللہ کی رضا اور لوگوں کی بھلائی کے لیے استعمال کرنا چاہیے، نہ کہ فضول کاموں اور دوسروں کو نیچا دکھانے میں۔ ہمارا ہر عمل، ہر کوشش اور ہر خرچ اگر اللہ کی رضا کے لیے ہو تو وہ عبادت بن جاتا ہے، لیکن اگر وہ محض دکھاوے، غرور یا لوگوں کو تنگ کرنے کے لیے ہو تو وہ ہمارے لیے وبال بن سکتا ہے۔ پیارے بھائیو اور بہنو! آئیے ہم اپنی زندگیوں کو دیکھیں، کیا ہم اپنے وسائل کو صحیح راستے پر خرچ کر رہے ہیں؟ کیا ہم اپنے اعمال سے اللہ کو راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ یاد رکھیں، یہ دنیا کی ہر چیز فانی ہے، صرف اللہ کی رضا اور نیک اعمال ہی ہمارے ساتھ آخرت میں جائیں گے۔ اللہ ہمیں اپنی نعمتوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے کی توفیق دے۔ آمین۔
📜 آیت 126-130 — شعراء
ترجمہ — شعراء 128
سورہ شعراء آیت 128 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بھلا تم ہر اونچی جگہ پر نشان تعمیر کرتے ہوسورہ آیت 128/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 126–130. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








