ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَخَافُ: ڈرتا ہوں، خوف کھاتا ہوں۔
- عَذَابَ: سزا، عذاب۔
- يَوْمٍ عَظِيمٍ: بڑے دن کا، یعنی ایسا دن جس کی ہولناکی اور شدت بہت زیادہ ہو۔
تفسیر آیت:
حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو جب دعوتِ توحید دی اور وہ ضد اور انکار پر اڑے رہے، تو آپ نے انہیں ڈراتے ہوئے فرمایا: "میں تمہارے بارے میں ایک بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔" یعنی اگر تم اپنے کفر، شرک، ظلم اور ناشکری پر قائم رہے، تو اللہ تعالیٰ تم پر ایسا عذاب نازل فرمائے گا جو بے حد سخت اور ہولناک ہوگا۔ یہ عذاب دنیا میں بھی آسکتا ہے اور آخرت میں تو یقیناً آئے گا، جس دن کی شدت سے خود پیغمبروں کے دل بھی کانپ جائیں گے۔
یہ دن قیامت کا دن ہے، جس میں ہر شخص کو اس کے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا، اور یہ دن اس قدر عظیم اور خوفناک ہوگا کہ اس کی ہولناکی کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ حضرت ہود علیہ السلام نے اپنی قوم کو اس لیے ڈرایا تاکہ وہ اپنے انجام سے باخبر ہوں اور راہِ راست پر آ جائیں، کیونکہ انبیاء کا اندازِ دعوت محبت اور خیرخواہی پر مبنی ہوتا ہے۔ وہ اپنی قوم کی بھلائی چاہتے تھے، اس لیے انہیں عذاب سے خبردار کر رہے تھے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کے نیک بندے اپنی قوم کی بھلائی کے لیے ہمیشہ فکر مند رہتے ہیں۔ وہ لوگوں کو عذاب سے ڈراتے ہیں تاکہ وہ گناہوں سے باز آئیں اور اللہ کی رحمت کے مستحق بنیں۔ ہمیں بھی اپنے گھر والوں، دوستوں اور معاشرے کے لوگوں کو اللہ کے عذاب سے ڈرانا چاہیے، لیکن نرمی اور محبت کے ساتھ، تاکہ وہ توبہ کریں اور اللہ کی رحمت کے سایے میں آ جائیں۔ اللہ تعالیٰ رحم کرنے والا ہے، لیکن اس کا عذاب بھی بہت سخت ہے، اس لیے ہمیں ہمیشہ اس کی اطاعت کرنی چاہیے اور اس کے عذاب سے پناہ مانگنی چاہیے۔
📜 آیت 133-137 — شعراء
ترجمہ — شعراء 135
سورہ شعراء آیت 135 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : مجھ کو تمہارے بارے میں بڑے (سخت) دن کے عذاب…سورہ آیت 135/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 133–137. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








