شعراء · 24/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ ۝٢٤
Qaala Rabbus samaawaati wal ardi wa maa bainahumaa in kuntum mooqineen
📖 اردو ترجمہ
کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ: آسمانوں اور زمین کا مالک، پیدا کرنے والا، پالنے والا اور انتظام کرنے والا۔
  • مُّوقِنِینَ: یقین رکھنے والے، پختہ عقیدہ رکھنے والے۔

تفسیر:

حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے اس سوال کے جواب میں کہ "تمہارا رب کون ہے؟" یہ عظیم اور واضح جواب دیا کہ میرا رب وہ ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ بھی ہے، سب کا مالک اور پروردگار ہے۔ وہی ان سب کا خالق ہے، انہیں پیدا کرنے والا ہے، اور ان کی پرورش اور انتظام کرنے والا ہے۔

یہ جواب نہایت جامع اور دلیل کے اعتبار سے مکمل تھا۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: "اگر تم یقین رکھنے والے ہو" یعنی اگر تمہیں اس بات پر پختہ یقین ہے کہ یہ کائنات، یہ آسمان، یہ زمین، اور ان کے درمیان کی تمام مخلوقات بغیر کسی خالق اور مدبر کے نہیں بن سکتیں، تو پھر تمہیں صرف اسی ایک رب کی عبادت کرنی چاہیے، نہ کہ اپنے آپ کو رب کہلانے والے اور مخلوق کی عبادت کروانے والے فرعون کی۔

اس آیت میں دعوتِ توحید کا ایک ایسا انداز بیان کیا گیا ہے جو ہر عقل سلیم پر واضح کر دیتا ہے کہ کائنات کا نظام، اس کی وسعتیں، اس کی ترتیب اور اس میں پائی جانے والی حکمتیں سب اس بات کی گواہی دیتی ہیں کہ اس کا ایک ہی خالق اور مالک ہے۔ جس شخص کو اپنے رب پر سچا یقین ہو، اس کے دل میں توحید کا نور پیدا ہو جاتا ہے اور وہ ہر باطل معبود اور ہر جھوٹے دعوے سے بے نیاز ہو جاتا ہے۔

یہ وہی پیغام ہے جو ہر نبی نے اپنی قوم کو دیا، اور یہی پیغام ہمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی دیا۔ آج بھی جب ہم آسمان کی وسعتوں، زمین کی خوبصورتی اور ان کے درمیان موجود بے شمار مخلوقات پر غور کرتے ہیں تو ہمارا ایمان مزید پختہ ہوتا ہے کہ واقعی یہ سب کچھ ایک عظیم رب کا کرشمہ ہے، اور اسی کی عبادت ہی سچی اور برحق ہے۔ اللہ ہمیں اس یقین کی دولت عطا فرمائے اور ہمیں اپنی توحید پر قائم رکھے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 22-26 — شعراء

22وَتِلْكَ نِعْمَةٌ تَمُنُّهَا عَلَيَّ أَنْ عَبَّدتَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ
اور (کیا) یہی احسان ہے جو آپ مجھ پر رکھتے ہیں کہ آپ نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے
23قَالَ فِرْعَوْنُ وَمَا رَبُّ الْعَالَمِينَ
فرعون نے کہا کہ تمام جہان مالک کیا
24قَالَ رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَيْنَهُمَا ۖ إِن كُنتُم مُّوقِنِينَ
کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں میں ہے سب کا مالک۔ بشرطیکہ تم لوگوں کو یقین ہو
25قَالَ لِمَنْ حَوْلَهُ أَلَا تَسْتَمِعُونَ
فرعون نے اپنے اہالی موالی سے کہا کہ کیا تم سنتے نہیں
26قَالَ رَبُّكُمْ وَرَبُّ آبَائِكُمُ الْأَوَّلِينَ
(موسیٰ نے) کہا کہ تمہارا اور تمہارے پہلے باپ دادا کا مالک
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
24آیت

ترجمہ — شعراء 24

سورہ شعراء آیت 24 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہا کہ آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان دونوں…

سورہ آیت 24/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 22–26. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں