ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- أَرْجِهْ: اسے مؤخر کرو، یعنی اسے اور اس کے بھائی کو قتل کرنے میں جلدی نہ کرو، انہیں روکے رکھو۔
- حَاشِرِينَ: جمع کرنے والے، یعنی وہ لوگ جو شہروں میں جا کر ساحروں کو اکٹھا کریں۔
تفسیر:
جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کے سامنے اپنی رسالت کا دعویٰ پیش کیا اور اپنے معجزات دکھائے، تو فرعون کے درباریوں اور سرداروں نے اسے مشورہ دیا کہ اے فرعون! اسے اور اس کے بھائی ہارون کو ابھی قتل مت کرو، انہیں کچھ مہلت دو اور ان کے معاملے کو مؤخر رکھو۔ نیز اپنے شہروں میں ایسے کارندے بھیجو جو تمام ماہر ساحروں کو تلاش کر کے جمع کر لائیں۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح وہ موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کا مقابلہ کر سکیں گے اور انہیں شکست دے دیں گے۔
یہ مشورہ دراصل فرعون کے لیے ایک حکمت عملی تھی، کیونکہ وہ عوام کے سامنے موسیٰ علیہ السلام کو بے نقاب کرنا چاہتے تھے تاکہ لوگ ان کی بات نہ مانیں۔ لیکن انہیں معلوم نہ تھا کہ اللہ کا فیصلہ ہمیشہ غالب رہتا ہے، اور وہ اپنے نبی کی مدد ضرور فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ باطل کے ماننے والے ہمیشہ حق کو دبانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ اپنے دین کی حفاظت خود کرتا ہے۔ جس طرح فرعون نے ساحروں کو جمع کر کے موسیٰ علیہ السلام کا مقابلہ کیا، لیکن آخر کار ساحر خود ایمان لے آئے اور فرعون کو شکست ہوئی، اسی طرح آج بھی حق کا بول بالا ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم حق پر ثابت قدم رہیں اور اللہ پر بھروسہ رکھیں، کیونکہ اللہ ہمیشہ اپنے نیک بندوں کی مدد کرتا ہے۔
📜 آیت 34-38 — شعراء
ترجمہ — شعراء 36
سورہ شعراء آیت 36 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے…سورہ آیت 36/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 34–38. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








