ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- سَحَّارٍ: بہت زیادہ جادو کرنے والا، ماہر جادوگر۔
- عَلِيمٍ: علم والا، اس فن میں کامل مہارت رکھنے والا۔
تفسیر آیت:
یہ وہ موقع ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام فرعون کے پاس دعوتِ توحید لے کر پہنچے اور انہوں نے اپنی رسالت کا پیغام سنایا۔ فرعون نے ان کی بات کو جادو قرار دیا اور اپنے درباریوں سے مشورہ کیا۔ اس پر فرعون کے قوم کے سرداروں اور مشیروں نے اسے مشورہ دیا کہ موسیٰ اور ہارون کو فی الحال چھوڑ دو، انہیں قید نہ کرو اور نہ ہی جلدی کوئی فیصلہ کرو، بلکہ اپنے شہروں اور علاقوں میں ایلچی اور سپاہی بھیجو جو تمام ماہر اور مشہور جادوگروں کو اکٹھا کر کے لے آئیں۔ انہوں نے کہا: "وہ تمہارے پاس ہر اس ماہر جادوگر کو لے کر آئیں گے جو جادو کے فن میں مکمل مہارت رکھتا ہو اور اس فن میں موسیٰ سے بھی بڑھ کر ہو۔"
یہ مشورہ دراصل فرعون کے لیے ایک حکمت عملی تھی کہ وہ عوام کے سامنے موسیٰ علیہ السلام کو شکست دے کر ان کی دعوت کو بے اثر کر دے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا منصوبہ کچھ اور ہی تھا۔ یہاں سے وہ عظیم مقابلہ شروع ہوتا ہے جو حق اور باطل کے درمیان ہمیشہ سے جاری ہے، اور جس میں اللہ اپنے نبیوں کی مدد فرماتا ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ باطل کی طاقت چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہو، وہ اللہ کے دین کو شکست نہیں دے سکتی۔ فرعون کے پاس سارا لشکر، سارا خزانہ اور تمام ماہر جادوگر تھے، لیکن حق کا ایک لمحہ باطل کی ساری طاقت پر غالب آ گیا۔ یہ ہمارے لیے تسلی اور امید کا پیغام ہے کہ اگر ہم اللہ کی راہ پر چلیں تو اللہ ہمیں ہر مشکل سے نکال دے گا، چاہے مخالفین کتنے ہی طاقتور کیوں نہ ہوں۔ ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ جادو اور شعبدہ بازی صرف دنیا کی چیز ہے، جبکہ حق اور ایمان کی بنیاد اللہ کی مدد پر ہوتی ہے جو کبھی ناکام نہیں ہوتی۔
📜 آیت 35-39 — شعراء
ترجمہ — شعراء 37
سورہ شعراء آیت 37 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس…سورہ آیت 37/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 35–39. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








