شعراء · 35/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ ۝٣٥
Yureedu ai yukhrijakum min ardikum bisihrihee famaazaa taamuroon
📖 اردو ترجمہ
چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟
📜

ترجمہ — Tafsir

﴿يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ﴾

معانی الفاظ:

  • یُرِیدُ: چاہتا ہے، ارادہ رکھتا ہے۔
  • یُخْرِجَکُم: تمہیں نکال باہر کرے۔
  • بِسِحْرِهِ: اپنے جادو کے ذریعے۔
  • فَمَاذَا تَأْمُرُونَ: تو تم کیا حکم دیتے ہو، تمہاری کیا رائے ہے؟

تفسیر:

یہ فرعون کا وہ مقامِ گفتگو ہے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اس کے سامنے اپنا معجزہ پیش کیا، عصا کو اژدہا بنایا اور ید بیضا دکھایا۔ فرعون کو جب یقین ہو گیا کہ یہ کوئی عام جادوگر نہیں بلکہ ایک زبردست طاقت رکھنے والا شخص ہے، تو اس نے اپنے درباریوں اور اشرافِ قوم کی طرف رخ کیا اور انہیں ڈرانے کی کوشش کی۔ اس نے کہا: "یہ شخص تمہیں اپنے جادو کے ذریعے تمہاری سرزمین سے نکال باہر کرنا چاہتا ہے، تاکہ تم بے گھر ہو جاؤ اور اس کی قوم تم پر غالب آ جائے۔"

فرعون نے یہ بات اس لیے کہی تاکہ لوگوں کے دل میں موسیٰ علیہ السلام کا خوف پیدا ہو اور وہ ان کی اتباع سے باز رہیں۔ وہ جانتا تھا کہ اگر لوگ موسیٰ پر ایمان لے آئے تو اس کی بادشاہت ختم ہو جائے گی، اس لیے اس نے معاملے کو قومی اور علاقائی مسئلہ بنا کر پیش کیا۔

پھر فرعون نے ان سے مشورہ طلب کیا: "فَمَاذَا تَأْمُرُونَ" یعنی "اب تم کیا حکم دیتے ہو؟ تمہاری کیا رائے ہے؟" اس نے یہ سوال اس لیے کیا تاکہ لوگوں کو اپنی طرف سے فیصلہ کرنے کا اختیار دے کر انہیں اپنا شریکِ جرم بنائے، اور اگر بعد میں کوئی نتیجہ نکلے تو وہ خود کو بے گناہ ظاہر کر سکے۔ یہ فرعون کی نفسیاتی چال تھی، وہ چاہتا تھا کہ لوگ خود ہی موسیٰ کے خلاف سخت فیصلہ کریں۔

اس آیت میں ہمارے لیے بڑا سبق ہے کہ باطل کی قوتیں ہمیشہ حق کے خلاف اسی طرح کی سازشیں کرتی ہیں، لوگوں کو ڈراتی ہیں اور انہیں اپنے مفاد کے لیے استعمال کرتی ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کی مدد کرتا ہے اور باطل کا منصوبہ ہمیشہ ناکام ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس واقعے کے بعد فرعون اور اس کے ساتھیوں نے حضرت موسیٰ کا مقابلہ کیا لیکن اللہ نے اپنے نبی کی تائید فرمائی اور جادوگر خود ایمان لے آئے۔

یہ آیت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ حق کے داعی کو اپنے راستے پر قائم رہنا چاہیے، چاہے مخالفین کتنی ہی سازشیں کریں۔ اللہ تعالیٰ اہلِ ایمان کی حفاظت فرماتا ہے اور انہیں کبھی ذلیل نہیں کرتا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 33-37 — شعراء

33وَنَزَعَ يَدَهُ فَإِذَا هِيَ بَيْضَاءُ لِلنَّاظِرِينَ
اور اپنا ہاتھ نکالا تو اسی دم دیکھنے والوں کے لئے سفید (براق نظر آنے لگا)
34قَالَ لِلْمَلَإِ حَوْلَهُ إِنَّ هَٰذَا لَسَاحِرٌ عَلِيمٌ
فرعون نے اپنے گرد کے سرداروں سے کہا کہ یہ تو کامل فن جادوگر ہے
35يُرِيدُ أَن يُخْرِجَكُم مِّنْ أَرْضِكُم بِسِحْرِهِ فَمَاذَا تَأْمُرُونَ
چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے تمہارے ملک سے نکال دے تو تمہاری کیا رائے ہے؟
36قَالُوا أَرْجِهْ وَأَخَاهُ وَابْعَثْ فِي الْمَدَائِنِ حَاشِرِينَ
انہوں نے کہا کہ اسے اور اس کے بھائی (کے بارے) میں کچھ توقف کیجیئے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیئے
37يَأْتُوكَ بِكُلِّ سَحَّارٍ عَلِيمٍ
کہ سب ماہر جادوگروں کو (جمع کرکے) آپ کے پاس لے آئیں
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
35آیت

ترجمہ — شعراء 35

سورہ شعراء آیت 35 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : چاہتا ہے کہ تم کو اپنے جادو (کے زور) سے…

سورہ آیت 35/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 33–37. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں