شعراء · 49/227
ترجمہ تلفظ — شعراء
قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ ۝٤٩
Qaala aamantum lahoo qabla an aazana lakum innahoo lakabeerukumul lazee `alla makumus sihra falasawfa ta`lamoon; la uqatti`anna aidiyakum wa arjulakum min khilaafinw wa la usallibanna kum ajma`een
📖 اردو ترجمہ
فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • آمَنْتُمْ لَهُ: تم نے اس پر ایمان لے آئے
  • قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ: اس سے پہلے کہ میں تمہیں اجازت دیتا
  • لَكَبِيرُكُمُ: یقیناً وہ تمہارا بڑا (استاد) ہے
  • عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ: جس نے تمہیں جادو سکھایا
  • مِنْ خِلَافٍ: مخالف سمت سے (ایک طرف کا ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں)
  • لَأُصَلِّبَنَّكُمْ: میں تمہیں ضرور سولی پر چڑھاؤں گا

تفسیر:

جب ساحروں نے موسیٰ علیہ السلام کے معجزے کو دیکھ کر حق کو پہچان لیا اور بلا کسی تردد کے ایمان لے آئے، تو فرعون کا غرور اور تکبر بھڑک اٹھا۔ اس نے حیرت اور غصے سے کہا: "کیا تم نے میری اجازت سے پہلے ہی اس پر ایمان لے آئے؟" اس کا مقصد ساحروں کو ڈرانا اور ان کے ایمان کو کمزور کرنا تھا، لیکن ساحر تو سچائی کی روشنی سے منور ہو چکے تھے۔

فرعون نے اپنی مکاری سے کام لیتے ہوئے ایک جھوٹا الزام تراشا اور کہا: "یقیناً موسیٰ تمہارا بڑا استاد ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے۔" وہ اس طرح یہ باور کروانا چاہتا تھا کہ یہ سب منصوبہ بندی پہلے سے طے شدہ تھی، حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ ساحر پہلی بار موسیٰ علیہ السلام سے ملے تھے۔ فرعون کا یہ الزام محض اپنے باطل کو بچانے کی کوشش تھی۔

پھر فرعون نے اپنی سفاکیت کا اعلان کیا: "تمہیں عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کرتا ہوں۔ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں مخالف سمت سے کاٹوں گا (ایک ہاتھ اور دوسری طرف کا پاؤں) اور پھر تم سب کو سولی پر چڑھا دوں گا۔" یہ تھی فرعون کی دھمکی، جو اپنے ظلم و جبر کے لیے مشہور تھا۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت سے اسباق ملتے ہیں:

  1. حق کی پہچان ہو جائے تو پھر کسی کی دھمکی پرواہ نہیں - ساحروں نے جب سچائی دیکھ لی تو فرعون کی دھمکیوں کی پرواہ کیے بغیر ایمان لے آئے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ حق کو پہچان کر اس پر ثابت قدم رہیں، چاہے کوئی بھی مخالفت کیوں نہ کرے۔
  2. ایمان کی دولت سب سے بڑی نعمت ہے - ساحروں نے دنیا کی بڑی سے بڑی طاقت (فرعون) کا سامنا کیا، لیکن ایمان کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا۔ یہ ہمارے لیے درس ہے کہ ایمان کی حفاظت سب سے اہم ہے۔
  3. ظالم کی دھمکیاں عارضی ہیں - فرعون نے ساحروں کو سولی کی دھمکی دی، لیکن ساحروں نے اس کے مقابلے میں وہ جواب دیا جو قرآن میں محفوظ ہے: "پھر ہمیں اپنے رب کی طرف لوٹ کر جانا ہے" (سورہ شعراء: 50)۔ انہوں نے موت کو بھی پسند کیا مگر ایمان سے منہ نہیں موڑا۔
  4. اللہ کی مدد ایمان والوں کے ساتھ ہے - جب ساحر ایمان لائے تو انہوں نے فرعون کے ظلم کا مقابلہ کیا، اور اللہ نے انہیں عزت عطا کی۔ آج بھی جو لوگ حق پر ثابت قدم رہتے ہیں، اللہ انہیں دنیا اور آخرت میں کامیابی عطا فرماتا ہے۔

یاد رکھیں! یہ دنیا فانی ہے، اور آخرت کی کامیابی ہی اصل کامیابی ہے۔ جب سچائی اور ایمان ہو تو کوئی طاقت مسلمان کو شکست نہیں دے سکتی۔ اللہ ہمیں ثابت قدمی عطا فرمائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 47-51 — شعراء

47قَالُوا آمَنَّا بِرَبِّ الْعَالَمِينَ
(اور) کہنے لگے کہ ہم تمام جہان کے مالک پر ایمان لے آئے
48رَبِّ مُوسَىٰ وَهَارُونَ
جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہے
49قَالَ آمَنتُمْ لَهُ قَبْلَ أَنْ آذَنَ لَكُمْ ۖ إِنَّهُ لَكَبِيرُكُمُ الَّذِي عَلَّمَكُمُ السِّحْرَ فَلَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ۚ لَأُقَطِّعَنَّ أَيْدِيَكُمْ وَأَرْجُلَكُم مِّنْ خِلَافٍ وَلَأُصَلِّبَنَّكُمْ أَجْمَعِينَ
فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم کو اجازت دوں تم اس پر ایمان لے آئے، بےشک یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تم کو جادو سکھایا ہے۔ سو عنقریب تم (اس کا انجام) معلوم کرلو گے کہ میں تمہارے ہاتھ اور پاؤں اطراف مخالف سے کٹوا دوں گا اور تم سب کو سولی پر چڑھوا دوں گا
50قَالُوا لَا ضَيْرَ ۖ إِنَّا إِلَىٰ رَبِّنَا مُنقَلِبُونَ
انہوں نے کہا کہ کچھ نقصان (کی بات) نہیں ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ جانے والے ہیں
51إِنَّا نَطْمَعُ أَن يَغْفِرَ لَنَا رَبُّنَا خَطَايَانَا أَن كُنَّا أَوَّلَ الْمُؤْمِنِينَ
ہمیں امید ہے کہ ہمارا پروردگار ہمارے گناہ بخش دے گا۔ اس لئے کہ ہم اول ایمان لانے والوں میں ہیں
شعراءقرآن فہرست
227آیت
مکیRevelation
49آیت

ترجمہ — شعراء 49

سورہ شعراء آیت 49 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : فرعون نے کہا کیا اس سے پہلے کہ میں تم…

سورہ آیت 49/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 47–51. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں