ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- رَبّ: پروردگار، پالنے والا، مالک اور مربی۔
- مُوسَىٰ وَهَارُون: حضرت موسیٰ علیہ السلام اور حضرت ہارون علیہ السلام، جو بنی اسرائیل کے نبی تھے۔
تفسیر:
جب ساحروں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ دیکھا، یعنی عصا کا اژدہا بن کر ان کے جھوٹے سحر کو نگل جانا، تو انہوں نے فوراً سمجھ لیا کہ یہ کوئی شعبدہ بازی نہیں، بلکہ حقیقی الہٰی قدرت کا ظہور ہے۔ ان کے دلوں پر ایمان کی روشنی چمکی، وہ بے اختیار سجدے میں گر گئے اور زبان سے اقرار کرنے لگے: "ہم رب العالمین پر ایمان لائے، جو موسیٰ اور ہارون کا رب ہے۔"
یہ کلمات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انہوں نے موسیٰ علیہ السلام کو محض ایک ساحر یا جادوگر نہیں سمجھا، بلکہ اللہ کے سچے رسول اور نبی مانا۔ انہوں نے رب العالمین کی وحدانیت کا اقرار کیا اور اسے موسیٰ و ہارون کے ساتھ خاص نسبت سے یاد کیا، کیونکہ وہ انہیں اللہ کے برگزیدہ بندے اور پیغمبر جانتے تھے۔
یہاں ایک اہم سبق ہے: ساحر اپنے فن اور مہارت پر مغرور تھے، لیکن جب حق ظاہر ہوا تو انہوں نے فوراً اپنی غلطی کو تسلیم کیا اور ایمان لے آئے۔ ان کا یہ عمل ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کو قبول کرنے میں دیر نہیں کرنی چاہیے، چاہے ہمیں اپنی عزت، حیثیت یا مفادات ہی کیوں نہ قربان کرنے پڑیں۔
یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے دین کی مدد کرتا ہے اور سچائی ہمیشہ جیتتی ہے۔ جب دل میں ایمان کی روشنی پیدا ہو جائے، تو دنیا کی کوئی طاقت اسے بجھا نہیں سکتی۔ ساحروں نے اپنے ایمان کی خاطر فرعون کے غضب کو برداشت کیا، اور یہی ایمان کی حقیقی پہچان ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی توفیق دے کہ ہم حق کو پہچانیں، اسے قبول کریں اور اس پر ثابت قدم رہیں۔ آمین۔
📜 آیت 46-50 — شعراء
ترجمہ — شعراء 48
سورہ شعراء آیت 48 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : جو موسیٰ اور ہارون کا مالک ہےسورہ آیت 48/227 — شعراء الشعراء (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: شعراء سنیں, شعراء ترجمہ, شعراء mp3, شعراء pdf. آیت 46–50. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Wednesday, August 19, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








