Falammaa jaaa`at qeela ahaakaza `arshuki qaalat kaanna hoo; wa ooteenal `ilma min qablihaa wa kunnaa muslimeen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
چون آمد گفتندش: آيا تخت تو چنين بود؟ گفت: گويى همان است. و ما پيش از اين آگاه شده بوديم و تسليم بودهايم.
جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
أَهَٰكَذَا عَرْشُكِ: کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟
کَأَنَّهُ هُوَ: یہ گویا وہی ہے۔
أُوتِينَا الْعِلْمَ: ہمیں علم دیا گیا۔
مُسْلِمِينَ: حکم کے تابع اور فرمانبردار۔
تفسیر:
جب ملکہ سبا (بلقیس) سلیمان علیہ السلام کے پاس پہنچی تو انہوں نے اسے آزمائش کے طور پر کہا: ”کیا تمہارا تخت ایسا ہی ہے؟“ اس نے سمجھداری اور دانائی سے جواب دیا: ”یہ گویا وہی ہے۔“ اس نے نہ تو صاف انکار کیا اور نہ ہی فوراً اقرار کیا، بلکہ ایسا جواب دیا جو حقیقت کے قریب تھا۔ اس سے سلیمان علیہ السلام نے اس کی عقلمندی اور سمجھ بوجھ کا اندازہ لگایا۔
پھر سلیمان علیہ السلام نے اللہ کی نعمتوں کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: ”ہمیں اس سے پہلے ہی علم دیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قادر ہے، اور ہم اس کے حکم کے تابع اور فرمانبردار ہیں۔“ یعنی ہم پہلے ہی سے اللہ کی وحدانیت اور اس کی قدرت پر ایمان رکھتے تھے، اور ہمیشہ سے اس کے دین پر چلنے والے رہے ہیں۔
دعوتی پہلو:
یہ واقعہ ہمیں سکھاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کوئی مقابلہ نہیں۔ سلیمان علیہ السلام نے ایک پل میں بلقیس کا تخت اس کے سامنے پہنچا دیا، جو اللہ کی عظیم قدرت کا مظہر تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اللہ کی قدرت اور اس کے دین پر مکمل یقین رکھیں، اور اپنی زندگیوں کو اسلام کے مطابق ڈھالیں۔ جس طرح سلیمان علیہ السلام نے اپنے علم اور ایمان کا اظہار کیا، ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اللہ کے دین پر ثابت قدم رہیں اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کریں۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی دلیل ہے کہ حکمت اور دانائی سے بات کرنا کتنا اہم ہے، کیونکہ بلقیس کے نرم اور مدبرانہ جواب نے اسے سلیمان علیہ السلام کی قربت اور اسلام کی برکت حاصل کرنے کا ذریعہ بنایا۔
ایک شخص جس کو کتاب الہیٰ کا علم تھا کہنے لگا کہ میں آپ کی آنکھ کے جھپکنے سے پہلے پہلے اسے آپ کے پاس حاضر کئے دیتا ہوں۔ جب سلیمان نے تخت کو اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا تو کہا کہ یہ میرے پروردگار کا فضل ہے تاکہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کفران نعمت کرتا ہوں اور جو شکر کرتا ہے تو اپنے ہی فائدے کے لئے شکر کرتا ہے اور جو ناشکری کرتا ہے تو میرا پروردگار بےپروا (اور) کرم کرنے والا ہے
جب وہ آ پہنچی تو پوچھا گیا کہ کیا آپ کا تخت بھی اسی طرح کا ہے؟ اس نے کہا کہ یہ تو گویا ہو بہو وہی ہے اور ہم کو اس سے پہلے ہی (سلیمان کی عظمت شان) کا علم ہوگیا تھا اور ہم فرمانبردار ہیں
(پھر) اس سے کہا گیا کہ محل میں چلیے، جب اس نے اس (کے فرش) کو دیکھا تو اسے پانی کا حوض سمجھا اور (کپڑا اٹھا کر) اپنی پنڈلیاں کھول دیں۔ سلیمان نے کہا یہ ایسا محل ہے جس میں (نیچے بھی) شیشے جڑے ہوئے ہیں۔ وہ بول اٹھی کہ پروردگار میں اپنے آپ پر ظلم کرتی رہی تھی اور (اب) میں سلیمان کے ہاتھ پر خدائے رب العالمین پر ایمان لاتی ہوں
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔