ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- وَصَدَّهَا: اور اسے روک دیا / منع کر دیا۔
- مَا كَانَت تَّعْبُدُ مِن دُونِ اللَّهِ: وہ چیزیں جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی۔
- إِنَّهَا كَانَتْ مِن قَوْمٍ كَافِرِينَ: بے شک وہ ایک کافر قوم سے تھی۔
تفسیر:
یہ آیت ملکہ بلقیس کے ایمان لانے کے واقعے کا ایک اہم حصہ ہے۔ جب حضرت سلیمان علیہ السلام نے اسے توحید کی دعوت دی اور اس کے سامنے حق واضح ہو گیا، تو اس کے ایمان لانے میں جو چیز رکاوٹ بن رہی تھی، وہ اس کی سابقہ عبادت تھی۔ وہ سورج کی پوجا کرتی تھی، اور یہی شرک اسے اللہ کی عبادت کی طرف آنے سے روک رہا تھا۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے اللہ کے سوا جن چیزوں کی عبادت کی عادت پڑ گئی تھی، انہوں نے اس کے دل پر پردہ ڈال دیا تھا اور اسے حق قبول کرنے سے روکے ہوئے تھے۔ وہ ایک ایسی قوم میں پیدا ہوئی اور پلی بڑھی جو سورج کی پوجا کرتی تھی، اور اس نے بچپن سے یہی دیکھا اور سیکھا تھا۔ اس لیے اس کے لیے اس جاہلیت اور شرک کی فضا سے نکل کر توحید کی طرف آنا آسان نہ تھا۔
یہاں اللہ تعالیٰ یہ حقیقت بیان فرما رہے ہیں کہ بلقیس کے پاس عقل و ذہانت اور فہم و فراست تھی، لیکن اس کے باوجود وہ حق کو قبول نہ کر سکی، کیونکہ اس کے اندر پرانی عادات اور عقائد نے جڑ پکڑ رکھی تھی۔ باطل عقائد انسان کی بصیرت کو اندھا کر دیتے ہیں، اور وہ حق کو دیکھ کر بھی نہیں پہچان پاتا۔
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ انسان کے ماحول، پرورش اور عادات کا اس کے ایمان پر گہرا اثر ہوتا ہے۔ اگر کوئی شخص باطل عقائد میں پلا بڑھا ہو، تو اس کے لیے حق قبول کرنا مشکل ہوتا ہے، لیکن جب اللہ کی توفیق شامل حال ہو جائے، تو وہ ان تمام رکاوٹوں کو عبور کر لیتا ہے۔ بلقیس نے جب سچائی کو واضح طور پر دیکھ لیا، تو اس نے فوراً اپنے باطل عقائد کو ترک کر دیا اور اللہ رب العالمین کی اطاعت قبول کر لی۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ حق کو قبول کرنے میں کسی قسم کی تاخیر نہ کرے، چاہے اسے اپنی پرانی عادات، روایات یا خاندانی عقائد ہی کیوں نہ چھوڑنے پڑیں۔ حق وہ چیز ہے جو اللہ کی طرف سے آتی ہے، اور اسے قبول کرنے میں ہچکچاہٹ نہیں کرنی چاہیے۔ بلقیس نے اپنی قوم کے دین اور اپنے باطل عقائد کو چھوڑ کر توحید قبول کی، اور یہی وہ عمل ہے جو ہر انسان سے مطلوب ہے۔
آج بھی بہت سے لوگ اپنے آباء و اجداد کے دین اور رسم و رواج کو اس لیے نہیں چھوڑتے کہ وہ انہیں اپنی شناخت سمجھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی توحید ہی اصل شناخت ہے۔ جب انسان کو حق واضح ہو جائے تو اسے فوراً اسے قبول کرنا چاہیے، کیونکہ یہی اس کی دنیا اور آخرت کی کامیابی کا ذریعہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو سچائی کو تلاش کرتا ہے اور اسے قبول کرنے کی ہمت رکھتا ہے۔
📜 آیت 41-45 — نمل
ترجمہ — نمل 43
سورہ نمل آیت 43 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : اور وہ جو خدا کے سوا (اور کی) پرستش کرتی…سورہ آیت 43/93 — نمل النمل (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: نمل سنیں, نمل ترجمہ, نمل mp3, نمل pdf. آیت 41–45. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








