قصص · 78/88
ترجمہ تلفظ — قصص
قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي ۚ أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا ۚ وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ ۝٧٨
Qaala innamaaa ootee tuhoo `alaa `ilmin `indeee; awalam ya`lam annal laaha qad ahlaka min qablihee minal qurooni man huwa ashaddu minhu quwwatanw wa aksaru jam`aa; wa laa yus`alu `an zunoobihimul mujrimoon
📖 اردو ترجمہ
بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • أُوتِيتُهُ: مجھے یہ (مال و دولت) دیا گیا۔
  • عَلَى عِلْمٍ: علم و مہارت کی بنا پر۔
  • الْقُرُونِ: پہلی امتیں (جو گزر چکی ہیں
  • أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً: طاقت و قوت میں اس سے زیادہ سخت۔
  • أَكْثَرُ جَمْعًا: مال و دولت اکٹھا کرنے میں زیادہ۔
  • لَا يُسْأَلُ: سوال نہیں کیا جائے گا (یعنی بازپرس نہیں ہوگی
  • الْمُجْرِمُونَ: گنہگار، مجرم لوگ۔

تفسیر:

قارون نے اپنی قوم کے نصیحت کرنے والوں کو جواب دیا کہ "یہ سب کچھ جو میرے پاس ہے، وہ اس علم کی وجہ سے ملا ہے جو مجھے حاصل ہے۔" اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ سمجھتا تھا کہ اس نے یہ دولت اپنی ذہانت، محنت اور تدبیر سے حاصل کی ہے، یا یہ کہ اللہ نے اسے اس لیے دیا کیونکہ وہ اس کا اہل تھا۔ وہ یہ بھول گیا کہ یہ سب اللہ کی عطا ہے، اس کی اپنی قابلیت کا نتیجہ نہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اسے جواب دیا کہ کیا اسے معلوم نہیں کہ اس سے پہلے بہت سی امتیں گزر چکی ہیں جو قوت اور دولت میں اس سے کہیں زیادہ طاقتور تھیں؟ ان کے پاس زیادہ مال تھا، زیادہ فوجیں تھیں، زیادہ سازوسامان تھا، لیکن جب وہ اللہ کی نافرمانی پر اڑے رہے تو اللہ نے انہیں ہلاک کر دیا۔ نہ ان کی قوت نے انہیں بچایا، نہ ان کا مال کام آیا۔ یہ قارون کے لیے ایک بڑی نصیحت تھی کہ وہ اپنی دولت پر گھمنڈ نہ کرے۔

پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ قیامت کے دن مجرموں سے ان کے گناہوں کے بارے میں سوال نہیں کیا جائے گا، کیونکہ اللہ کو ان سب کا علم ہے۔ وہ سوال صرف ان کی توبیخ اور سرزنش کے لیے ہوگا، نہ کہ معلومات حاصل کرنے کے لیے۔ انہیں براہ راست جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔

دعوتی پہلو:

یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ مال و دولت اللہ کی امانت ہے، نہ کہ ہماری ذاتی ملکیت۔ جو شخص دولت پر گھمنڈ کرتا ہے، وہ قارون کے راستے پر چلتا ہے، جس کا انجام ہلاکت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اپنی کامیابیوں کو اپنی محنت کا نتیجہ سمجھیں، لیکن ساتھ ہی یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل دینے والا اللہ ہے۔ جو لوگ اللہ کی نعمتوں کو بھول کر سرکشی کرتے ہیں، ان کا انجام عبرتناک ہوتا ہے۔ ہمیں چاہیے کہ دولت کو اللہ کی راہ میں خرچ کریں، غریبوں کی مدد کریں، اور اپنے مال کو فخر اور تکبر کا ذریعہ نہ بنائیں۔ یاد رکھیں، قیامت کے دن مال و دولت کام نہیں آئے گا، بلکہ صرف نیک اعمال کام آئیں گے۔ اللہ ہمیں قارون کے انجام سے بچائے اور شکر گزار بندے بنائے۔ آمین۔

🎧 سنیں

📜 آیت 76-80 — قصص

76۞ إِنَّ قَارُونَ كَانَ مِن قَوْمِ مُوسَىٰ فَبَغَىٰ عَلَيْهِمْ ۖ وَآتَيْنَاهُ مِنَ الْكُنُوزِ مَا إِنَّ مَفَاتِحَهُ لَتَنُوءُ بِالْعُصْبَةِ أُولِي الْقُوَّةِ إِذْ قَالَ لَهُ قَوْمُهُ لَا تَفْرَحْ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْفَرِحِينَ
قارون موسٰی کی قوم میں سے تھا اور ان پر تعدّی کرتا تھا۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دیئے تھے کہ اُن کی کنجیاں ایک طاقتور جماعت کو اُٹھانی مشکل ہوتیں جب اس سے اس کی قوم نے کہا کہ اترائیے مت۔ کہ خدا اترانے والوں کو پسند نہیں کرتا
77وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
78قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي ۚ أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا ۚ وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ
بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
79فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
80وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
78آیت

ترجمہ — قصص 78

سورہ قصص آیت 78 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے…

سورہ آیت 78/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 76–80. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں