قصص · 79/88
ترجمہ تلفظ — قصص
فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ ۝٧٩
Fakharaja `alaa qawmihee fee zeenatih; qaalal lazeena yureedoonal hayaatad dunyaa yaalaita lanaa misla maaa ootiya Qaaroonu innahoo lazoo hazzin `azeem
📖 اردو ترجمہ
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ: قارون اپنی زینت و آرائش اور شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا، تاکہ لوگوں کو اپنی دولت اور جاہ و حشمت کا اظہار کرے۔

قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا: جن لوگوں کا جی دنیا کی خوشحالی اور اس کی زینت پر لٹو تھا، انہوں نے یہ دیکھ کر کہا۔

يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ: اے کاش! ہمیں بھی وہ کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یعنی مال و دولت، زینت اور جاہ و منزلت۔

إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ: بے شک قارون تو بڑے نصیب والا ہے، اسے دنیا کا بہت بڑا حصہ اور خوش بختی ملی ہے۔

تفسیر:

جب قارون اپنی پوری زینت اور شان و شوکت کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے نکلا، تو اس کا مقصد لوگوں کو اپنی دولت اور عظمت کا احساس دلانا تھا۔ اس نے اپنے اموال، لباس، سواری اور خدم و حشم کے ساتھ ایسا اظہار کیا جیسے وہ کوئی بادشاہ ہو۔ اس منظر کو دیکھ کر وہ لوگ جن کے دلوں میں دنیا کی محبت بھری ہوئی تھی، انہوں نے حسرت اور تمنا کے ساتھ کہا: "کاش! ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو ملا ہے۔" انہوں نے قارون کو خوش نصیب اور بڑے حصے والا قرار دیا، کیونکہ ان کی نظر میں دنیا کی دولت ہی سب کچھ تھی۔

یہاں اللہ تعالیٰ ہمیں ایک اہم سبق سکھا رہے ہیں کہ دنیا کی زینت اور مال و دولت انسان کو دھوکے میں ڈال سکتی ہے۔ جو لوگ صرف دنیا کی خوشحالی چاہتے ہیں، وہ ظاہری چمک دمک سے متاثر ہو کر آخرت کو بھول جاتے ہیں۔ لیکن اہل ایمان کی نظر ہمیشہ آخرت پر ہوتی ہے، وہ جانتے ہیں کہ یہ دنیا کی دولت عارضی ہے، جبکہ آخرت کی کامیابی ہی حقیقی کامیابی ہے۔

پیارے مسلمان بھائیو! ہمیں قارون کی زینت اور اس کے انجام سے عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے قارون کو بے پناہ دولت دی تھی، لیکن اس نے اللہ کی ناشکری کی اور اپنی دولت پر غرور کیا، تو اللہ نے اسے زمین میں دھنسا دیا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم دنیا کی محبت کو اپنے دلوں سے نکالیں، اور اللہ کی رضا اور آخرت کی کامیابی کو اپنا اصل مقصد بنائیں۔ دنیا کی زینت دیکھ کر حسرت کرنے کے بجائے، ہمیں اللہ سے آخرت کی بھلائی مانگنی چاہیے، کیونکہ اللہ کے پاس جو کچھ ہے وہ بہتر اور باقی رہنے والا ہے۔

🎧 سنیں

📜 آیت 77-81 — قصص

77وَابْتَغِ فِيمَا آتَاكَ اللَّهُ الدَّارَ الْآخِرَةَ ۖ وَلَا تَنسَ نَصِيبَكَ مِنَ الدُّنْيَا ۖ وَأَحْسِن كَمَا أَحْسَنَ اللَّهُ إِلَيْكَ ۖ وَلَا تَبْغِ الْفَسَادَ فِي الْأَرْضِ ۖ إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ الْمُفْسِدِينَ
اور جو (مال) تم کو خدا نے عطا فرمایا ہے اس سے آخرت کی بھلائی طلب کیجئے اور دنیا سے اپنا حصہ نہ بھلائیے اور جیسی خدا نے تم سے بھلائی کی ہے (ویسی) تم بھی (لوگوں سے) بھلائی کرو۔ اور ملک میں طالب فساد نہ ہو۔ کیونکہ خدا فساد کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا
78قَالَ إِنَّمَا أُوتِيتُهُ عَلَىٰ عِلْمٍ عِندِي ۚ أَوَلَمْ يَعْلَمْ أَنَّ اللَّهَ قَدْ أَهْلَكَ مِن قَبْلِهِ مِنَ الْقُرُونِ مَنْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُ قُوَّةً وَأَكْثَرُ جَمْعًا ۚ وَلَا يُسْأَلُ عَن ذُنُوبِهِمُ الْمُجْرِمُونَ
بولا کہ یہ (مال) مجھے میری دانش (کے زور) سے ملا ہے کیا اس کو معلوم نہیں کہ خدا نے اس سے پہلے بہت سی اُمتیں جو اس سے قوت میں بڑھ کر اور جمعیت میں بیشتر تھیں ہلاک کر ڈالی ہیں۔ اور گنہگاروں سے اُن کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا
79فَخَرَجَ عَلَىٰ قَوْمِهِ فِي زِينَتِهِ ۖ قَالَ الَّذِينَ يُرِيدُونَ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا يَا لَيْتَ لَنَا مِثْلَ مَا أُوتِيَ قَارُونُ إِنَّهُ لَذُو حَظٍّ عَظِيمٍ
تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی قوم کے سامنے نکلا۔ جو لوگ دنیا کی زندگی کے طالب تھے کہنے لگے کہ جیسا (مال ومتاع) قارون کو ملا ہے کاش ایسا ہی ہمیں بھی ملے۔ وہ تو بڑا ہی صاحب نصیب ہے
80وَقَالَ الَّذِينَ أُوتُوا الْعِلْمَ وَيْلَكُمْ ثَوَابُ اللَّهِ خَيْرٌ لِّمَنْ آمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا وَلَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الصَّابِرُونَ
اور جن لوگوں کو علم دیا گیا تھا وہ کہنے لگے کہ تم پر افسوس۔ مومنوں اور نیکوکاروں کے لئے (جو) ثواب خدا (کے ہاں تیار ہے وہ) کہیں بہتر ہے اور وہ صرف صبر کرنے والوں ہی کو ملے گا
81فَخَسَفْنَا بِهِ وَبِدَارِهِ الْأَرْضَ فَمَا كَانَ لَهُ مِن فِئَةٍ يَنصُرُونَهُ مِن دُونِ اللَّهِ وَمَا كَانَ مِنَ الْمُنتَصِرِينَ
پس ہم نے قارون کو اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسا دیا تو خدا کے سوا کوئی جماعت اس کی مددگار نہ ہوسکی۔ اور نہ وہ بدلہ لے سکا
قصصقرآن فہرست
88آیت
مکیRevelation
79آیت

ترجمہ — قصص 79

سورہ قصص آیت 79 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : تو (ایک روز) قارون (بڑی) آرائش (اور ٹھاٹھ) سے اپنی…

سورہ آیت 79/88 — قصص القصص (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: قصص سنیں, قصص ترجمہ, قصص mp3, قصص pdf. آیت 77–81. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں