ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
- فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ: حضرت لوط علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو سچا مانا اور ان کی اتباع کی۔
- مُهَاجِرٌ: وطن چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونے والا، ہجرت کرنے والا۔
- الْعَزِيزُ: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔
- الْحَكِيمُ: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی کے ساتھ کرے۔
تفسیر:
اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہوں نے انکار کیا، تو اس وقت حضرت لوط علیہ السلام — جو حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے — ان پر ایمان لائے اور ان کی دعوت کو قبول کیا۔ یہ ایمان لانا کوئی معمولی بات نہ تھی، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے انہیں آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا تھا، ایسے خطرناک حالات میں ایمان لانا حقیقی سچائی اور خلوص کا ثبوت تھا۔
پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کیا: "میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں" — یعنی میں اپنی قوم کے ظلم اور شرک سے نکل کر اس سرزمین کی طرف جاؤں گا جہاں اللہ نے مجھے جانے کا حکم دیا ہے، جو کہ شام کی مبارک سرزمین ہے۔ یہ ہجرت محض ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں تھی، بلکہ یہ اللہ کی رضا کی خاطر، اپنے دین کی حفاظت کے لیے، اور اپنے رب کے قرب کی تلاش میں کی گئی تھی۔
حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ کی دو صفات کا ذکر کیا: العزیز یعنی وہ غالب ہے، کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا، اور جو اس کی پناہ میں آ جائے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا۔ اور الحکیم یعنی وہ حکمت والا ہے، ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے، وہ جو حکم دیتا ہے اس میں بندے کی بھلائی ہوتی ہے۔
دعوتی پہلو:
اس آیت سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ سب سے پہلے، ایمان کی آزمائش ہوتی ہے — حضرت لوط علیہ السلام نے جب ایمان لائے تو حالات انتہائی سخت تھے، لیکن انہوں نے حق کو قبول کیا۔ آج بھی جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی طرف آتا ہے، تو اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ دوسری بات، ہجرت کا تصور — جب مسلمان کو اپنے دین پر عمل کرنے میں رکاوٹ آئے، تو وہ اس جگہ منتقل ہو جائے جہاں وہ اپنے دین پر عمل کر سکے۔ یہ صبر اور قربانی کی تعلیم دیتا ہے۔ تیسری بات، اللہ پر بھروسہ — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ہجرت کا ارادہ کیا تو اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ عزیز ہے، غالب ہے، اور حکیم ہے — وہ جو بھی کرتا ہے بندے کی بھلائی کے لیے کرتا ہے۔
آج ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے حالات میں اللہ پر بھروسہ رکھے، چاہے مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں۔ اللہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے، جیسا کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے بچایا اور انہیں کامیابی عطا کی۔ ہمیں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی ذلیل نہیں کرتا۔
📜 آیت 24-28 — عنکبوت
ترجمہ — عنکبوت 26
سورہ عنکبوت آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے…سورہ آیت 26/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








