عنکبوت · 26/69
ترجمہ تلفظ — عنکبوت
۞ فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۝٢٦
Fa aamana lahoo Loot; wa qaala innee mauhajirun ilaa Rabbee innahoo Huwal `Azeezul Hakeem
📖 اردو ترجمہ
پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے
📜

ترجمہ — Tafsir

معانی الفاظ:

  • فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ: حضرت لوط علیہ السلام نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعوت کو سچا مانا اور ان کی اتباع کی۔
  • مُهَاجِرٌ: وطن چھوڑ کر دوسری جگہ منتقل ہونے والا، ہجرت کرنے والا۔
  • الْعَزِيزُ: غالب، زبردست، جسے کوئی مغلوب نہ کر سکے۔
  • الْحَكِيمُ: حکمت والا، جو ہر کام مصلحت اور دانائی کے ساتھ کرے۔

تفسیر:

اس آیت میں اللہ تعالیٰ ہمیں بتاتا ہے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم کو توحید کی دعوت دی اور انہوں نے انکار کیا، تو اس وقت حضرت لوط علیہ السلام — جو حضرت ابراہیم کے بھتیجے تھے — ان پر ایمان لائے اور ان کی دعوت کو قبول کیا۔ یہ ایمان لانا کوئی معمولی بات نہ تھی، کیونکہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قوم نے انہیں آگ میں ڈالنے کا فیصلہ کر لیا تھا، ایسے خطرناک حالات میں ایمان لانا حقیقی سچائی اور خلوص کا ثبوت تھا۔

پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اعلان کیا: "میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں" — یعنی میں اپنی قوم کے ظلم اور شرک سے نکل کر اس سرزمین کی طرف جاؤں گا جہاں اللہ نے مجھے جانے کا حکم دیا ہے، جو کہ شام کی مبارک سرزمین ہے۔ یہ ہجرت محض ایک جگہ سے دوسری جگہ جانے کا نام نہیں تھی، بلکہ یہ اللہ کی رضا کی خاطر، اپنے دین کی حفاظت کے لیے، اور اپنے رب کے قرب کی تلاش میں کی گئی تھی۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس موقع پر اللہ کی دو صفات کا ذکر کیا: العزیز یعنی وہ غالب ہے، کوئی اسے شکست نہیں دے سکتا، اور جو اس کی پناہ میں آ جائے وہ کبھی ذلیل نہیں ہوتا۔ اور الحکیم یعنی وہ حکمت والا ہے، ہر کام حکمت اور مصلحت کے ساتھ کرتا ہے، وہ جو حکم دیتا ہے اس میں بندے کی بھلائی ہوتی ہے۔

دعوتی پہلو:

اس آیت سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔ سب سے پہلے، ایمان کی آزمائش ہوتی ہے — حضرت لوط علیہ السلام نے جب ایمان لائے تو حالات انتہائی سخت تھے، لیکن انہوں نے حق کو قبول کیا۔ آج بھی جب کوئی شخص سچے دل سے اللہ کی طرف آتا ہے، تو اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔ دوسری بات، ہجرت کا تصور — جب مسلمان کو اپنے دین پر عمل کرنے میں رکاوٹ آئے، تو وہ اس جگہ منتقل ہو جائے جہاں وہ اپنے دین پر عمل کر سکے۔ یہ صبر اور قربانی کی تعلیم دیتا ہے۔ تیسری بات، اللہ پر بھروسہ — حضرت ابراہیم علیہ السلام نے جب ہجرت کا ارادہ کیا تو اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ کیا، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اللہ عزیز ہے، غالب ہے، اور حکیم ہے — وہ جو بھی کرتا ہے بندے کی بھلائی کے لیے کرتا ہے۔

آج ہم میں سے ہر شخص کو چاہیے کہ اپنے حالات میں اللہ پر بھروسہ رکھے، چاہے مشکلات کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں۔ اللہ ہر اس شخص کی مدد کرتا ہے جو اس کی راہ میں قدم اٹھاتا ہے، جیسا کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو آگ سے بچایا اور انہیں کامیابی عطا کی۔ ہمیں بھی اپنے ایمان کی حفاظت کے لیے قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے، کیونکہ اللہ اپنے مخلص بندوں کو کبھی ذلیل نہیں کرتا۔

🎧 سنیں

📜 آیت 24-28 — عنکبوت

24فَمَا كَانَ جَوَابَ قَوْمِهِ إِلَّا أَن قَالُوا اقْتُلُوهُ أَوْ حَرِّقُوهُ فَأَنجَاهُ اللَّهُ مِنَ النَّارِ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ
تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اُسے مار ڈالو یا جلا دو۔ مگر خدا نے اُن کو آگ (کی سوزش) سے بچالیا۔ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اُن کے لئے اس میں نشانیاں ہیں
25وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا ۖ ثُمَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَكْفُرُ بَعْضُكُم بِبَعْضٍ وَيَلْعَنُ بَعْضُكُم بَعْضًا وَمَأْوَاكُمُ النَّارُ وَمَا لَكُم مِّن نَّاصِرِينَ
اور ابراہیم نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا
26۞ فَآمَنَ لَهُ لُوطٌ ۘ وَقَالَ إِنِّي مُهَاجِرٌ إِلَىٰ رَبِّي ۖ إِنَّهُ هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ
پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے لگے کہ میں اپنے پروردگار کی طرف ہجرت کرنے والا ہوں۔ بیشک وہ غالب حکمت والا ہے
27وَوَهَبْنَا لَهُ إِسْحَاقَ وَيَعْقُوبَ وَجَعَلْنَا فِي ذُرِّيَّتِهِ النُّبُوَّةَ وَالْكِتَابَ وَآتَيْنَاهُ أَجْرَهُ فِي الدُّنْيَا ۖ وَإِنَّهُ فِي الْآخِرَةِ لَمِنَ الصَّالِحِينَ
اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
28وَلُوطًا إِذْ قَالَ لِقَوْمِهِ إِنَّكُمْ لَتَأْتُونَ الْفَاحِشَةَ مَا سَبَقَكُم بِهَا مِنْ أَحَدٍ مِّنَ الْعَالَمِينَ
اور لوط (کو یاد کرو) جب اُنہوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم (عجب) بےحیائی کے مرتکب ہوتے ہو۔ تم سے پہلے اہل عالم میں سے کسی نے ایسا کام نہیں کیا
عنکبوتقرآن فہرست
69آیت
مکیRevelation
26آیت

ترجمہ — عنکبوت 26

سورہ عنکبوت آیت 26 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : پس اُن پر (ایک) لوط ایمان لائے اور (ابراہیم) کہنے…

سورہ آیت 26/69 — عنکبوت العنكبوت (مکی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: عنکبوت سنیں, عنکبوت ترجمہ, عنکبوت mp3, عنکبوت pdf. آیت 24–28. اردو ترجمہ: فارسی.




قرآن کریم


Tuesday, August 18, 2026

اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں