Wa wahabnaa lahoo Ishaaqa wa Ya`Qooba wa ja`alnaa fee zurriyyatihin Nubuwwata wal Kitaaba wa aatainaahu ajrahoo fid dunyaa wa innahoo fil aakhirati laminas saaliheen
📖 ترجمہ (اردو ترجمہ)
📖 اردو ترجمہ
اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
🌐 Additional reference in فارسی
🌐 فارسی
و اسحاق و يعقوب را به او بخشيديم و در فرزندان او پيامبرى و كتاب نهاديم. و پاداشش را در دنيا داديم، و او در آخرت از صالحان است.
اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
📜
ترجمہ — Tafsir
معانی الفاظ:
وَهَبْنَا: ہم نے عطا کیا۔
ذُرِّيَّتِهِ: اس کی اولاد اور نسل۔
النُّبُوَّةَ: نبوت، یعنی اللہ کا پیغام پہنچانے کا منصب۔
الْكِتَابَ: آسمانی کتابیں۔
أَجْرَهُ: اس کا ثواب اور صلہ۔
تفسیر:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اپنے خلیل حضرت ابراہیم علیہ السلام کے انعامات کا ذکر فرما رہے ہیں۔ جب حضرت ابراہیم نے اپنے رب کی اطاعت میں ہجرت کی، اپنے وطن اور قوم کو چھوڑا، اور توحید کی راہ میں ہر قسم کی قربانیاں دیں، تو اللہ نے انہیں ایسے عظیم تحفے عطا کیے جو دنیا کے کسی بھی انسان کو نہیں ملے۔ انہیں بیٹا حضرت اسحاق علیہ السلام عطا ہوا، اور پھر اسحاق کے بیٹے حضرت یعقوب علیہ السلام کو بھی اللہ نے ان کی نسل میں شامل فرمایا۔ یہ صرف اولاد کا تحفہ نہیں تھا، بلکہ اللہ نے ان کی ذریت میں نبوت کو جاری رکھا، چنانچہ ان کی نسل سے بے شمار انبیاء مبعوث ہوئے، جن میں حضرت موسیٰ، حضرت عیسیٰ، اور سب سے آخر میں حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم شامل ہیں۔ انہیں آسمانی کتابیں بھی عطا ہوئیں، جیسے تورات، زبور، انجیل اور قرآن مجید۔
اللہ نے حضرت ابراہیم کو دنیا میں بھی بہترین صلہ دیا، یعنی ان کا ذکرِ جمیل ہمیشہ کے لیے زندہ رکھا، اور ان کی نسل کو دنیا بھر میں عزت و احترام عطا کیا۔ ہر مذہب کے ماننے والے انہیں اپنا باپ مانتے ہیں، اور قیامت تک ان کا نام نیکی اور تقویٰ کی علامت رہے گا۔ آخرت میں بھی ان کا مقام بلند ہے، کیونکہ وہ صالحین کی جماعت میں شامل ہوں گے، اور اللہ انہیں وہ اجر عطا فرمائے گا جو صالحین کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
دعوتی پہلو:
یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ اللہ کی راہ میں صبر اور قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ حضرت ابراہیم نے جب سب کچھ اللہ کے لیے چھوڑا، تو اللہ نے انہیں ایسی چیزیں عطا کیں جو دنیا کی کوئی طاقت نہیں دے سکتی۔ آج بھی جو شخص اللہ کی اطاعت کرتا ہے، اللہ اسے بہترین صلہ دیتا ہے، چاہے وہ دنیا میں ہو یا آخرت میں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی زندگی میں اللہ کے احکامات پر عمل کریں، صبر کریں، اور یقین رکھیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ اللہ کی محبت اور اس کی رضا ہی سب سے بڑی کامیابی ہے، اور یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں دنیا اور آخرت دونوں میں کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
اور ابراہیم نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے (مگر) پھر قیامت کے دن تم ایک دوسرے (کی دوستی) سے انکار کر دو گے اور ایک دوسرے پر لعنت بھیجو گے اور تمہارا ٹھکانا دوزخ ہوگا اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا
اور ہم نے اُن کو اسحٰق اور یعقوب بخشے اور اُن کی اولاد میں پیغمبری اور کتاب (مقرر) کر دی اور ان کو دنیا میں بھی اُن کا صلہ عنایت کیا اور وہ آخرت میں بھی نیک لوگوں میں ہوں گے
تم کیوں (لذت کے ارادے سے) لونڈوں کی طرف مائل ہوتے اور (مسافروں کی) رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں ناپسندیدہ کام کرتے ہو۔ تو اُن کی قوم کے لوگ جواب میں بولے تو یہ بولے کہ اگر تم سچے ہو تو ہم پر عذاب لے آؤ
سورہ قرآن ویب سائٹ کی بنیاد کتاب مقدس اور پاک سنت کی خدمت، اللہ کی طرف دعوت اور قرآن و سنت کے منہج پر دینی علوم کی آسانی کے لیے ایک عاجزانہ کوشش کے طور پر رکھی گئی۔ ہم اللہ کی تعریف اور اس کے فضل پر شکر ادا کرتے ہیں، اور اس سے دعا کرتے ہیں کہ وہ ہمارے اعمال قبول فرمائے اور انہیں اپنی رضا کے لیے خالص بنائے۔