ترجمہ — Tafsir
یہ آیتِ کریمہ اہلِ کتاب کے ایک گروہ کی تعریف میں نازل ہوئی ہے جنہوں نے ایمان قبول کر لیا تھا۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے ان کے چند نمایاں اوصاف بیان فرمائے ہیں۔
معانی الفاظ:
- الْمَعْرُوفِ: وہ نیکی اور بھلائی جسے عقلِ سلیم اور شریعت اچھا قرار دے۔
- الْمُنکَرِ: وہ برائی اور بے حیائی جسے عقل اور شرع دونوں برا کہیں۔
- یُسَارِعُونَ: جلدی کرتے ہیں، دوڑتے ہیں، بغیر کسی تاخیر کے۔
- الصَّالِحِینَ: وہ لوگ جن کے دل اور اعمال دونوں درست اور نیک ہوں۔
تفسیرِ آیت:
اللہ تعالیٰ اس آیت میں اہلِ ایمان کے ایک مبارک گروہ کی تعریف بیان فرما رہے ہیں جو پہلے اہلِ کتاب میں سے تھے اور پھر اسلام قبول کر کے سچے مسلمان بن گئے۔ ان کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اللہ پر اور آخرت کے دن پر سچا اور پکا ایمان رکھتے ہیں۔ یعنی وہ اللہ کی وحدانیت، اس کی کتابوں، اس کے رسولوں اور قیامت کے حساب و کتاب پر یقینِ کامل رکھتے ہیں۔
ان کی دوسری صفت یہ ہے کہ وہ لوگوں کو نیکی اور بھلائی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے منع کرتے ہیں۔ وہ صرف خود نیک نہیں رہتے بلکہ معاشرے کی اصلاح کے لیے بھی کوشاں رہتے ہیں۔ وہ جہاں بھی دیکھتے ہیں کہ کوئی نیکی چھوٹ رہی ہے تو اس کی ترغیب دیتے ہیں اور جہاں کوئی برائی پھیل رہی ہے تو اسے روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ان کی تیسری صفت انتہائی اہم ہے کہ وہ نیکیوں میں جلدی کرتے ہیں۔ یعنی جب بھی انہیں کوئی بھلائی کا موقع ملتا ہے تو وہ اسے فوراً غنیمت سمجھتے ہیں اور کسی تاخیر کے بغیر اسے کر گزرتے ہیں۔ وہ کل پر نہیں ٹالتے، کیونکہ انہیں معلوم ہے کہ زندگی کا کوئی بھروسہ نہیں اور نیکی کا موقع ہاتھ سے نکل سکتا ہے۔ وہ عبادات کے موسم، جیسے رمضان، حج، جمعہ وغیرہ کو خوب غنیمت جانتے ہیں۔
ان تمام صفات کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے انہیں "صالحین" یعنی نیک اور صالح بندوں میں شمار فرمایا ہے۔ صالح وہ لوگ ہیں جن کی نیتیں درست ہوں، جن کے دل ایمان سے روشن ہوں اور جن کے اعمال شریعت کے مطابق ہوں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کی بخشش اور جنت کی خوشخبری ہے۔
دعوتی پہلو:
پیارے بھائیو اور بہنو! یہ آیت ہمیں سکھاتی ہے کہ حقیقی کامیابی صرف ایمان سے نہیں بلکہ ایمان کے ساتھ عملِ صالح سے ملتی ہے۔ ہمیں بھی چاہیے کہ ہم اپنے ایمان کو مضبوط کریں، اپنے گھر اور معاشرے میں نیکی کا حکم دیں اور برائی سے روکیں۔ ہماری زندگی کا مقصد صرف اپنی ذات تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ ہمیں دوسروں کی اصلاح کا بھی فکر کرنا چاہیے۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ نیکیوں میں جلدی کریں، کیونکہ موت کا وقت معلوم نہیں۔ آج جو نیکی ہم کر سکتے ہیں اسے کل پر نہ ٹالیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان صالح بندوں میں شامل فرمائے۔ آمین۔
📜 آیت 112-116 — آل عمران
ترجمہ — آل عمران 114
سورہ آل عمران آیت 114 - پڑھیں, سنیں, ترجمہ, اردو : (اور) خدا پر اور روز آخرت پر ایمان رکھتے اور…سورہ آیت 114/200 — آل عمران آل عمران (مدنی). پڑھیں سنیں ترجمہ (اردو). سنیں: آل عمران سنیں, آل عمران ترجمہ, آل عمران mp3, آل عمران pdf. آیت 112–116. اردو ترجمہ: فارسی.
قرآن کریم
Tuesday, August 18, 2026
اپنی نیک دعاؤں میں ہمیں مت بھولیں








